تہذیبی کمزوری اور اتحاد بین المسلمین


اتحاد بین المسلمین کے لیے اب تک کئی ایک نکتہ نظر سامنے آچکے ہیں۔ اس بحث کا آغاز سید جمال الدین افغانی (اسد آبادی) سے ہوا۔ سید جمال نے امت مسلمہ کو خلافت عثمانیہ کے جھنڈے تلے اکٹھ کی دعوت دی، اس کے لیے کچھ عرصہ کوشش بھی کرتے رہے۔ تاہم انہیں کوئی خاطرخواہ کامیابی میسر نہ آئی۔ بعد میں علماء، متفکرین اور دانشوروں نے اس پر کافی کچھ ذہن آزمائی کی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسالک کی تعلیمات کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے۔ تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو۔ اس کے لیے مسالک کے علماء مل کر بیٹھیں اور بین المسالک ہم آہنگی میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہر مسلک کے پیروکار دوسرے مسلک کو سمجھ سکیں۔ «تقریب بین المذاہب » کا تصور اسی سوچ کا شاخسانہ ہے۔ یہ تصور مصر اور ایران میں پروان چڑھا۔ ایک تجویز یہ ہے کہ سیاسی سطح پر مسلم ممالک کے تعلقات بہتر ہوں تاکہ نفرتوں کا خاتمہ ہو سکے اور ہم ایک امت بن کر اپنے بین الاقوامی مسائل پر قابو پا سکیں۔

اس نظریے کے تحت اہل سیاست کی طرف سے سعودیہ کی سربراہی میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی داغ بیل 1969 میں ڈالی گئی۔ اس میں مراکش اور پاکستان پیش پیش تھے، جس میں 57 اسلامی ممالک کو عضویت حاصل ہے۔ اس کا اصل ایجنڈا مسئلہ فلسطین تھا۔ ایک تجویز یہ ہے کہ معاشی اور اقتصادی روابط مضبوط کیے جائیں اور مسلم ممالک کے درمیان مشترکہ معاشی لائحہ عمل طے کیا جائے جو مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اتحاد قائم کر سکے۔ ہمارے ایک افغانی دوست ڈاکٹر سید آصف کاظمی جو ایک عرصہ تک جامعہ المصطفی میں ناچیز کے کلاس فیلو بھی رہ چکے ہیں، نے پی ایچ ڈی کا مقالہ اسی تصور کے خد و خال واضح کرنے کے لیے لکھا۔ تاہم ان کے ہاں بھی دبے لفظوں میں یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ معیشت، سیاسی اور مذہبی ہم آہنگی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ مشترکہ معاشی مفادات باعث بنتے ہیں کہ حساسیت ایجاد نہ ہو۔ جبکہ مذہبی و سیاسی مسائل خود حساسیت ایجاد کرتے ہیں۔

در حقیقت ہر ایک راہ حل کی اپنی اپنی افادیت ہے۔ کوئی بھی راہ حل دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتا۔

ہمیں بنیادی طور پر یہ دیکھنا ہو گا کہ ہمارے اختلافات کس نوعیت کے ہیں، تاکہ اتفاق اور اتحاد بھی اسی نوعیت کا ہو۔

امت کی سطح پر وحدت کا قیام سماجی وحدت کی وسیع ترین شکل ہے۔ جس کے لیے مسلم امہ کو تہذیبی توانائی درکار ہے۔ ناچیز کی رائے میں سماجی وحدت یا سماجی تضاد صرف ایک مذہبی معاملہ نہیں ہے جسے علماء آپس میں بیٹھ کر حل کر لیں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ سماجی تضاد کا جو حصہ مذہبی اختلافات یا فرقہ وارانہ رویوں سے مربوط ہے اس کو جزئی طور پر حل کر سکیں۔ جزئی اس لیے کیونکہ بہت سے مذہبی تضادات کا سرا بھی سیاسی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔ اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ خالص سیاسی معاملہ بھی نہیں ہے۔

سماجی وحدت ایک مکمل اجتماعی اور تہذیبی و تمدنی معاملہ ہے۔ سماج اپنی تہذیبی طاقت کے بل بوتے پر کھڑے ہوتے ہیں، اپنی تہذیبی کمزوری کی وجہ سے ہی وہ فروپاشی اور توڑ پھوڑ کا شکار ہوتے ہیں، یوں بکھرنا، ٹکرانا اور ٹوٹنا جو کمزوری اور موت کی علامتیں ہیں، اس کے پیچھے تہذیبی کمزوری کارفرما ہوتی ہے۔ آج تک ہم اگر فلسطین کے مسئلے میں یکجا نہیں ہو سکے تو یہ صرف سیاسی، دفاعی یا مذہبی ایمان کی کمزوری نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ تہذیبی و تمدنی کمزوری ہے۔ درحقیقت ہماری تہذیبی کمزوری نے ہمیں بڑی سطح پر آپس میں جڑنے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ جبکہ اس کے مقابل میں مغرب اپنی تمدنی طاقت کے بل بوتے پر اسرائیل کے مسئلے میں یکجا اور متحد دکھائی دیتا ہے۔

تہذیبی طاقت کا اندازہ لگانے کے لیے کسی بھی تمدن میں جوڑنے والے «کلیدی اداروں » کی کارکردگی دیکھی جاتی ہے۔ اس میں «انسانی۔ اجتماعی روابط» کی کیفیت کو بنیادی مقام حاصل ہے۔

سیاست، ثقافت، قانون، معیشت، تاریخی تشخص، اجتماعی تشخص، اخلاقیات، مذہب، تعلیمی و تربیتی نظام وغیرہ، وہ بنیادی اکائیاں ہیں جو کسی بھی قوم کی تہذیبی ترقی یا تہذیبی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان امور سے متعلقہ ادارے سماج میں کتنے زندہ کردار ادا کر رہے ہیں، کس حد تک افادیت کے حامل ہیں، کتنا کچھ قوم کو اجتماعیت کی طرف پکار رہے ہیں اور کہاں کہاں تفرقے، تقسیم اور استحصال کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ وہ بنیادی معیار ہے جس کی بنیاد پر کسی بھی قوم، ملت یا پھر پوری امت مسلمہ کے درمیان وحدت ایجاد ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS