عرب دنیا اور بنیاد پرست جہادی


فلسطین اور اسرائیل کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ جب یہ خطہ عثمانی ترکوں کے زیر تسلط تھا اس وقت سے یہ کوششیں ہو رہی تھیں کہ یہودیوں کو ان کی مقدس سرزمین پر دوبارہ بسایا جائے۔ فرانسیسیوں نے جب ان علاقوں کا محاصرہ کیا تھا تو اس وقت بھی انہوں نے یہاں ایک یہودی ریاست قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ لیکن ان کو شکست ہوئی اس لیے وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بعد میں سلطنت برطانیہ نے اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

1882 تک اس خطے میں یہودیوں کی کل تعداد تین ہزار سے کم تھی اور وہ بھی ایک شہر یعنی ریشون لتسیون میں رہائش پذیر تھے جو ان کے لیے سپانسر کر کے بنایا جا رہا تھا جبکہ باقی علاقوں پر فلسطینی آباد تھے۔ البتہ یہودی مقدس مقامات کی زیارت کے لیے مختلف ٹولیوں میں یہاں آتے رہتے تھے۔ فرانسیسی اشرافیہ نے نئے شہر ریشون لتسیون کو سپانسر کیا تھا اور اس کی زمین انہوں نے ترکوں سے خریدی تھی جہاں وہ یہودیوں کے لیے گھر بنا رہے تھے۔

بعض ترک انتہائی لالچی تھے اور خود زمینیں فروخت کرنے کے لیے ان فرانسیسی دولت مندوں کے پاس جاتے تھے جس کا انہوں نے فائدہ اٹھا یا۔ لالچی ترکوں کو دولت جمع کرنا کا ایک نیا طریقہ ہاتھ آ گیا تھا۔ اور وہ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لینے لگے تھے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے پراپرٹی ایجنٹس جو فرانسیسی بول سکتے تھے ان کی خدمات حاصل کرلی تھیں۔ یوں چند برسوں میں ایک بہت بڑی زمین ان ترکوں نے اونے پونے ان مالدار فرانسیسیوں کے ہاتھوں کے ہاتھوں فروخت کردی۔

اور ان زمینوں پر آباد ہونے کے لیے یہودی ان علاقوں میں آنے لگے۔ وقت کے ساتھ ساتھ زمینوں کی فروخت میں اضافہ ہونے لگا اور یہودیوں کی تعداد بھی بڑھنے لگی۔ ڈاکٹر تھیوڈور ہرزل کی کتاب ’دی جیوش سٹیٹ‘ Der Judenstaat 1896 میں لکھی گئی۔ اسی کتاب کی بنیاد پر اگلے برس سویٹزرلینڈ میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں اس ریاست کے خد و خال پر بحث کی گئی اور اس ریاست کے عملی امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کانفرنس میں یہ خیال بھی پیش کیا گیا کہ ترکوں کے لالچ اور مقامی افراد کے عیاش پرست فطرت کا استعمال کر کے ان سے زمینیں خریدنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔

اس لیے فرانسیسی مالداروں کے اس عمل کو برقرار رکھنا چاہیے اور اس کا دائرہ کار مغربی کنارے کی طرف بھی بڑھانا چاہیے۔ یہ سلسلہ پہلی جنگ عظیم تک مسلسل جاری و ساری رہا۔ اگرچہ اس کے خلاف باقاعدہ مزاحمت کا عمل بھی شروع ہو چکا تھا۔ یہودیوں نے اپنے زرخرید علاقوں کی حفاظت کے لیے ایک ملیشیا ”بشامر“ کے نام سے بنائی تھی۔ فلسطینی فارماسسٹ نجیب نصر نے الکارمل کے نام سے ایک اخبار نکالنا شروع کر دیا تھا، جس کا مقصد فلسطینیوں کو اس کے خلاف خبردار کرنا تھا جسے وہ نوآبادیاتی فورس سمجھتے تھے۔

لیکن اس قضیہ میں اس وقت یہودیوں سے محبت سے زیادہ جان اس وقت پڑی جب پہلی جنگ عظیم کی شروعات ہوئی۔ اس جنگ میں برطانیہ کو مسلمانوں پر شک تھا کہ وہ نہر سویز میں ان کے لیے مشکلات پیدا کریں گے اس لیے انہوں نے اپنے پاؤں مضبوط کرنے کے لیے اس خطے میں یہودیوں کو بسانے اور ان کی شکل میں نہر سویز کو محفوظ بنانے کی حکمت عملی کا آغاز کیا۔ یہ ان کی ایک سٹریٹیجک حکمت عملی تھی جس پر انہوں نے عملاً بہت زیادہ سرمایہ خرچ کیا اور اس علاقے کو محفوظ کیا جو مصر کی سرحدوں سے متصل تھا۔ اور یہاں اتحادی افواج کی تعداد میں اضافہ کیا اور ان کو سپورٹ یہودیوں کے ذریعہ مہیا کی۔

اسی عرصہ میں برطانیہ نے ’صہیونی ریاست‘ کا منصوبہ تیار کیا جسے پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر عملی جامہ پہنانا تھا۔ 11 دسمبر 1917 کو، جنرل ایڈمنڈ ایلنبائی نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اور یہاں سلطنت عثمانیہ کا دور ختم ہوا۔ یوں یہاں عملاً برطانیہ کو وہ موقع ہاتھ آ گیا کہ وہ اپنے منصوبوں کی تکمیل کرسکے۔ چند برسوں میں حالات اس حد تک آ گئے کہ فلسطینوں کے اپنے ملک میں ان کے لیے الگ حصہ کے لیے برطانیہ سے التجا ء کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

1933 سے 1936 تک یہودیوں کی تعداد تین ہزار سے بڑھ کر پینتیس ہزار سے زیادہ ہو گئی تھی اور اس تعداد میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب پہلی مرتبہ یہودیوں پر حملے شروع ہوئے اور دیوار گریہ کے احاطہ میں دو سو سے زیادہ یہودیوں کو مار دیا گیا تھا اور فلسطین میں اس دور میں گوریلا جنگ شروع ہو چکی تھی۔ قانونی طور پر یہودی حق بجانب تھے اس لیے کہ انہوں نے ترکوں اور فلسطینوں سے یہ زمینیں پیسوں کے عوض خریدی تھیں اور وہ ان زمینوں کے قانونی مالک تھے۔ اور یہ عمل ایک صدی سے زیادہ سے زیادہ عرصہ پر محیط تھا۔

یہودی پڑھے لکھے اور تجارتی ذہن کے مالک تھے۔ اس لیے وہ سند سازی میں بھی ماہر تھے جبکہ ان کے مقابلے میں ترک تاجر اور فلسطینی صرف پیسے کے ہوس میں دھڑا دھڑ زمینیں ان کو فروخت کیے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ مقدس مقامات جو مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت رکھتے تھے ان کی زمینوں کے سودے بھی انہوں نے یہودیوں کے ساتھ کر دیے تھے۔ مسلمان یہودیوں سے پیسے لے کر کھا جاتے تھے اور جب پیسے ختم ہو جاتے تو دوبارہ پیسے حاصل کرنے کے لیے واویلا مچانا شروع کر دیتے تھے۔

اس خطے میں زمین فروخت کرنے کے علاوہ کوئی عملی کاروبار گزشتہ ایک صدی میں نظر نہیں آتا۔ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر نے یہودیوں کی نسل کشی شروع کی اور ساٹھ لاکھ یہودیوں کو مارکر یورپ میں دنیا ان پر تنگ کردی گئی۔ جس کی وجہ سے بہت زیادہ تعداد میں بچے کچے یہودی یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں سے ہجرت کر کے اس خطے میں آباد ہونا شروع ہو گئے۔ ان کی آباد کاری اور یورپ سے انخلاء میں ہٹلر مخالف ممالک نے ان یہودیوں کی مدد کی۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد 1947 میں اقوام متحدہ میں ایک قرار داد پیش کی گئی جسے قرار داد نمبر 181 کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس قرار داد میں فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ یعنی یہودی اور مسلمانوں کی الگ الگ ریاست۔ اس وقت یہودیوں کے استعمال میں صرف 5.5 فیصد حصہ تھا جبکہ اس تجویز میں ان کو 56 فیصد حصہ دینے کا پلان پیش کیا گیا تھا۔ 14 مئی 1948 کو جب ان علاقوں پر برطانیہ کی عمل داری ختم ہوئی تو ایک آزاد اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا۔

ڈیوڈ گوریان اس ریاست کے پہلے وزیر اعظم مقرر ہوئے۔ اس ملک کو امریکہ اور روس نے فوراً تسلیم کر لیا۔ جس کی وجہ سے عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں پہلی مرتبہ فلسطینوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا اور سات لاکھ سے زیادہ افراد یہاں سے ہجرت کر کے اردن، لبنان، شام، مغربی کنارے اور غزہ میں پناہ گزین ہوئے۔ اور یہ پناہ گزین اب بھی ان علاقوں میں ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی تھی کہ ان مہاجرین کو واپس ان کے علاقوں میں بھیج دیا جائے۔

مگر اسرائیل اس قرار داد کو نہیں مانتا۔ اس کے بعد اس خطے میں مسلمان مسلسل جنگی صورتحال میں ہیں۔ اسرائیل نے مسلمان کو دھکیل کر ایک کونے میں ایک چھوٹے سے علاقے میں جمع کر دیا ہے۔ اور وہاں بھی ان کو مکمل خود مختار نہیں دی اور گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینوں کی زمینوں پر اسرائیلی بستیاں بسانے کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ خطہ پھر سے جنگی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ فلسطینوں کے وہ مہاجر جو قرب و جوار کے عرب ملکوں میں رہائش پر مجبور کر دیے گئے تھے انہوں نے اپنی اپنی جہادی تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں۔

ان میں مشہور حماس ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کے خلاف مسلسل جہادی کوششیں کر رہی ہے۔ لیکن عرب ممالک ان جہادی تنظیموں سے خائف ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ا، کویت، قطر۔ عمان اور دیگر عرب ممالک میں جو حکمران ہیں وہ ان جنگجووں کو اپنے لیے بھی مستقبل میں خطرہ سمجھتے ہیں اس لیے وہ بھی عملاً ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ جبکہ اسرائیل کی مدد کے لیے دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک سرگرم ہیں۔

امریکہ اور برطانیہ ان کی مدد میں پیش پیش ہیں۔ دنیا کے دیگر خطوں میں جہاں امریکہ نے اپنے مقاصد کے لیے اسلامی جہادی پیدا کیے اور ان کو سردجنگ کے خاتمے کے لیے استعمال کیا ان میں سے ایک نے بھی کبھی فلسطین کے حوالے سے کوئی عملی کوشش نہیں کی اور پھر منصوبہ بندی سے امریکہ اور اسرائیل نے فلسطینی علاقوں کے اطراف میں جو عرب ممالک ہیں ان میں مختلف ادوار میں خانہ جنگیاں کروا کر وہاں کے ان حکمرانوں کو مروا دیا۔ جو ان کے منصوبوں کی راہ میں کسی طرح بھی رکاوٹ بن سکتے تھے۔ جبکہ مشرقی وسطی کے ان حکمرانوں کی حکومتوں کی حمایت و مدد کی جو فلسطینوں کی مالی اور اصولی حمایت سے گریزاں رہے۔ اسرائیل کو امریکہ کی کھلی حمایت حاصل ہے جبکہ مسلمان ملکوں میں صرف ایران ہی کھل کر اسرائیل کی مخالفت کرتا ہے باقی ممالک امریکی خوشنودی کے لیے ڈھکے چھپے الفاظ میں صرف بیانات جاری کرتے ہیں۔ ماضی قریب میں صدام حسین، معمر قذافی، مصر کے محمد مرسی اور دیگر کے خلاف کارروائی کا اصل محرک بھی میری رائے میں اسرائیل مخالف سوچ کی وجہ سے تھی۔

مسلمانوں کی تنظیم او آئی سی بھی اس معاملے میں امریکہ اور دیگر عرب ممالک کی وجہ سے ہمیشہ خاموش ہی رہی ہے۔ اسرائیل، حماس اور حزب اللہ میں اگر باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو گیا تو لامحالہ دیگر عرب ممالک بھی اس کی زد میں آئیں گے اور اس سے اس خطے میں ایک نہ ختم ہونا والا جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اس خطے میں اب روس اور اس کے حامی بھی اپنی پروکسی جنگ امریکہ اور اس کی حمایتوں کے خلاف لڑیں گے۔ اس لیے کہ یوکرائن کی جنگ میں امریکہ اور یورپ نے کھل کر روس کے خلاف یوکرائن کی حمایت و عملی مدد کی تھی اور مسلسل ان کی حمایت کر رہے ہیں۔

اس خطے میں اگر ان مسلمان مزاحمت کاروں کی مدد روس کرتا ہے تو ان کو اسلحہ اور مالی مدد مل جائے گی جس سے اس خطے میں امریکی مفاد کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔ اور وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ وہ یوکرائن کی جنگی اور عملی مدد کرسکے۔ اس سے پہلے شام میں جو پروکسی جنگ لڑی گئی تھی اس سے بھی اس خطے میں امریکی مفادات کو تحفظ ‏مل گیا تھا۔ مگر اب کے بار شاید یہ جنگ طویل ہو اور اس کے اثرات دنیا پر تو پڑیں گے ہی لیکن عرب ممالک اس کی براہ راست زد میں آئیں گے۔

یوں دنیا ایک اور بڑی جنگ کی طرف جا سکتی ہے اس لیے کہ امریکہ اور روس اس پراکسی جنگوں میں اپنے دیگر حمایتوں کو شامل کر لیں گے اور اس کے نتیجے میں وہ اسلامی جنگجو جو گزشتہ ایک دو دہائیوں میں عملاً بے روزگار ہو گئے تھے ان کو مدد او اعانت ملنا شروع ہو جائے گی۔ جس سے دنیا میں طاقت کا توازن ایک مرتبہ پھر بگڑ جائے گا۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ یہ جنگ ہمارے دسترس سے بہت دور لڑی جا رہی ہے۔ اگر یہ ہمارے قرب و جوار اور دسترس میں لڑی جا رہی ہوتی تو اس خطے کے تربیت یافتہ جنگجو اس میں فوراً کود پڑتے اور ہماری زبوں حال معیشت مزید کمزور ہوتی چلی جاتی۔

عرب دنیا میں وہ بنیاد پرست جہادی شامل نہیں ہیں جو امریکہ کی کوششوں سے ستر کی دہائی میں بنائے گئے اور روس کے خلاف استعمال کیے گئے۔ فلسطین اور اس کے اطراف میں بسنے والے جہادی بنیاد پرست نہیں ہیں۔ وہ زمین پرست ہیں وہ جہاد کا عظیم فلسفہ لے کر میدان میں نہیں کودتے بلکہ اپنے زمین واپس لینے کے لیے جہاد کر رہے ہیں۔ اس لیے ان میں اور دیگر بنیاد پرست جہادیوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ وہ مغربی لباس میں رہتے ہیں اور ان کی سوچ بھی مغربی ہے۔ مگر ان کو اپنی زمین سے محبت ہے۔

جبکہ امریکہ نے جو بنیاد پرست بنوائے ان کے لیے ایک مخصوص حلیہ، لباس، رہن سہن، خوراک، اسلحہ اور بود و باش سب پہلے سے ڈیزائن کر کے ان کو تخلیق کیا گیا تھا۔ اور ان کے لیے نصاب اور لٹریچر بھی بنایا گیا تھا۔ جسے مخصوص خطوں میں عملاً رائج کرنے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔ آپ اندازہ لگائیں اسامہ بن لادن فلسطین کو چھوڑ کر افغانستان میں جہاد کے لیے گئے۔ یعنی بیت المقدس کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہیں تھی اور افغانستان کی پہاڑوں میں ان کو اسلام خطرے میں نظر آ رہا تھا۔

کیا اس پر یقین کیا جاسکتا ہے۔ جتنے عرب جنگجو افغانستان میں جہاد کے لیے گئے اگر ان کا نصف بھی اسرائیل پر حملہ کر دیتا تو آج اسرائیل کا نام و نشان تک صفحہ ہستی پر نہ ہوتا۔ جتنی امداد سعودی، اماراتی اور قطری افغانوں کو دیتے رہے اگر اس کا دس فیصد بھی حزب اللہ اور حماس اور دیگر تنظیموں کو دیتے تو آج مشرق وسطی میں صورتحال مختلف ہوتی۔ افغانستان کے طالبان کے لیے قطر نے جو کچھ کیا۔ کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ انہوں نے فلسطینوں کے لیے کوئی ایسی کوشش کی ہو۔ متحدہ عرب امارات کے مقابلہ میں امریکہ میں فلسطینوں کی تعداد سو گنا زیادہ ہے۔ ترکی، مصر، پاکستان، افغانستان اور سوڈان کے بنیاد پرست جہادی اس وقت حرکت میں آتے ہیں۔ جب ان کے بنانے والے انہیں حرکت کا پیغام دیں ورنہ جہاد کے فلسفے کو مد نظر رکھ اس وقت ”رسم دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے“ ۔

Facebook Comments HS