کیا حماس نے فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے


فلسطین میں جس ہلاکت خیز طویل معرکے کا آغاز ہو گیا ہے اس کا ذمہ دار حماس نہیں ہے۔ یہ جو کہا جا رہا ہے کہ حماس نے حملہ کیا ہے یہ درست نہیں ہے۔ اس برس اب تک اسرائیل غزہ اور ملحقہ علاقوں پر اٹھارہ مرتبہ حملے کرچکا ہے اور دو سو فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔ حماس کا حملہ برسوں سے جاری اسرائیل کی نہایت ظالمانہ نسل کشی کا ردعمل اور جواب ہے۔ یورپ اور امریکا کی پشت پناہی سے ظلم و ستم اور صفایا کرتے کرتے اسرائیل غزہ کے 94 فیصد رقبے پر قابض ہو چکا ہے اس کے باوجود اہل فلسطین کو فنا اور مغلوب کرنے کی اس کی مہم ختم ہونے میں نہیں آ رہی ہے۔

اگر حماس نے عرب ممالک کے حکمرانوں کی طرح اس مہم کی پیشوائی کو جاری رکھنے کی اجازت دینے کی بجائے اس کی مزاحمت کی ہے تو کیا غلط کیا ہے؟ جب اسرائیل فلسطینیوں پر روزانہ بمباری کر رہا تھا تو دنیا خاموش تھی لیکن جب فلسطینیوں نے اسرائیل پر حملہ کیا تو دنیا چیخ اٹھی۔ یہ دوغلا پن اہل مغرب کے خون میں ہے۔ اس کی زیادہ پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔

بعض حلقوں کی طرف سے تاثر دیا جا رہا ہے کہ حماس نے فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیل کو غزہ پر قبضے اور برباد کرنے کا جواز مہیا کر دیا ہے۔ یہ فکر روز مرنے کی عادت اور ذلت کا عادی ہونے کی علامت ہے۔ اس بات کا یقین کہ اسرائیل ناقابل تسخیر ہے لہذا اس سے لڑنا اور جنگ آزما ہونا موت کے مترادف ہے۔ حماس نے کمال دلیری سے اس خیال کو پارہ پارہ کر کے دکھا دیا ہے۔ یاد رکھیے اور لاکھ مرتبہ یاد رکھیے ”عرب ہزار مرتبہ شکست کھا کر بھی اس سرزمین پر زندہ رہ سکتے ہیں لیکن اسرائیل ایک مرتبہ کی شکست بھی برداشت کرنے کے بعد اپنا وجود باقی نہیں رکھ سکتا۔“ تل ابیب کو اب یہ احساس ہو جانا چاہیے لیکن شاید اس میں کچھ اور وقت لگے گا۔ لیون پنسکر نے 1882 میں یہودیوں کے بارے میں جو کچھ لکھا تھا وہ آج بھی درست ہے کہ ”زندہ لوگ یہودیوں کو مردہ سمجھتے ہیں، مقامی انہیں پردیسی سمجھتے ہیں، امیر انہیں بھکاری سمجھتے ہیں، غریب انہیں استحصال کرنے والے لکھ پتی سمجھتے ہیں اور محب وطن انہیں بے وطن سمجھتے ہیں۔“ حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل غزہ پر جتنا ظلم توڑ سکتا ہے توڑ لے، غزہ میں ایک ایک جاندار کو مار دے لیکن اس کے باوجود عنقریب اسے فنا ہونا ہے۔

حماس کے حملوں کے باب میں ایک اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ ان کی وجہ سے مشرق وسطی میں جاری امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔ کون سی امن کی کوششیں؟ آج سے 75 برس پہلے 1948 میں مشرق وسطی میں وجود میں آنے والے اسرائیل کی خطے میں حیثیت امریکا کی ناجائز اولاد اور ایک غاصب بدمعاش کی ہے۔ 15 ستمبر 2020 کو واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے دباؤ پر متحدہ عرب امارات، بحرین کے وزیر خارجہ اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یا ہوکے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے نام پر جو معاہدہ کیا گیا جسے ”ابراہیم معاہدے“ کا نام دیا گیا اور جس کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کی لین ڈوری لگ گئی اس سے کس کو فائدہ پہنچا؟

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے سعودی عرب جس ”مبارک وقت“ کا انتظار کر رہا تھا اس سے کون مضبوط ہوتا؟ کیا اسرائیل کو تسلیم کرانے کے عوض یہ عرب ممالک اسرائیل کو ایک انچ پیچھے ہٹنے پر راضی کرسکے؟ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کتنی کوششیں کیں کہ اسرائیل فلسطین کے کچھ حصے سے دستبردار ہو جائے تاکہ وہ باور کرا سکیں کہ انھوں نے فلسطین کی ریاست کی توسیع کی صورت میں اسرائیل کو قبول کیا ہے کیا امریکا اور سعودی عرب کی تمام تر کوششوں کے باوجود نیتن یا ہو نے ذرہ بھر بھی لچک دکھائی؟ وہ ایک قدم بھی پیچھے ہٹا؟ جس ابراہیم معاہدے کے ناکام ہونے کا حماس کے حملے کے نتیجے میں رونا رویا جا رہا ہے اس سے فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو کیا فائدہ پہنچ رہا تھا؟ کیا اس معاہدے میں فلسطینیوں کو شامل کیا گیا تھا جن کو حقوق دلوانے کے نام پر یہ سب کچھ کیا جا رہا تھا؟

8اکتوبر کو پاکستانی وزیر خارجہ جلیل عباس گیلانی نے فرمایا ”ہم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور اسرائیلی قابض افواج کے تشدد اور جبر کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر فلسطین کی ایک قابل عمل اور خود مختار ریاست کا قیام ضروری ہے۔“ امن اقدامات اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کا قیام دراصل امریکی ویژن کے مطابق مسئلہ فلسطین کو دفن کرنا ہے۔

دو ریاستی حل فلسطین اور اس کے عوام کی حمایت نہیں ان سے غداری اور بدترین اور شدید غداری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کے تین چوتھائی سے زیادہ حصے پر یہودی وجود کو قانونی حیثیت دے دی جائے اور اس کے بدلے میں فلسطینی اتھارٹی کے لیے ایک کمزور ننھی سی ریاست کے وجود کو قبول کر لیا جائے، جیسی کہ وہ اس وقت ہے، یا پھر اس میں سے بھی جو باقی بچ جائے۔ تمام مسلم حکمران اس دو ریاستی حل کو جس میں اسرائیل ایک قانونی طاقتور وجود کی حیثیت حاصل کر جائے گا مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے وہ امرت دھارا سمجھتے ہیں جس سے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا لیکن کیا واقعی ایسا ہو گا؟

دو ریاستی حل کے نتیجے میں جو ننھی منی سی فلسطینی ریاست وجود میں آئے گی اس کی زمین پر حاکمیت ہوگی نہ آسمان پر یہاں تک کہ جو کچھ زمین کے نیچے ہے اس پر بھی کوئی حاکمیت نہیں ہوگی۔ موجودہ غزہ میں یہ حالت ہے کہ وہاں رہائشی پانی کے حصول کے لئے کنواں بھی نہیں کھود سکتے کیونکہ اسرائیل کی طرف سے اس پر پا بندی ہے کہ اس وجہ سے اسرائیل میں سطح زمین پانی کی کمی ہو جائے گی۔ اہل غزہ کو صرف چار گھنٹے بجلی ملتی ہے وہ بھی اسرائیل کی صوابدید پر ۔

اس ننھی سی فلسطینی ریاست کے پاس فوج، طاقت یا کوئی اور اختیار نہیں ہو گا۔ یہ یہودی قابضین کی جانب سے بھیک ہوگی جسے ان ہی کے عطا کردہ اختیارات حاصل ہوں گے۔ مسجد اقصی بھی ان کے پاس نہیں ہوگی جو مسلمانوں کا قبلہ اول اور رسالت مآب محمد ﷺ کے سفر معراج کی رات کی منزل تھی۔ کمال بات یہ ہے کہ مسلم حکمران تین چوتھائی سے زیادہ رقبے پر اسرائیل کی حکومت کو قائم کرنے اور اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں وہ مسجد اقصی سے دستبردار ہونے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن اسرائیل کے حکمران اہل فلسطین کو ایک چنا منا سا زمین کا خطہ دینے پر بھی تیار نہیں وہ مسلسل اپنی سرحدوں کو توسیع دے رہے ہیں اور وہاں آبادیاں قائم کر رہے ہیں۔ اہل فلسطین جن کے پاس کچھ بھی نہیں، یہاں تک کہ زندگی بھی نہیں سوائے ایک سخت اور کشیدہ ماحول اور نبرد آزما موت کے، اسرائیل حماس کے حملوں کے جواب میں انتقامی کارروائیاں کر کے، ہزاروں ٹن بارود برسا کر ان سے کیا چھین سکتا ہے؟ زندگی!

زندگی محض کیلنڈر اور ماہ و سال کا حساب نہیں ہوتا۔ زندگی بے حسی سے سانسوں کو سینے میں اتارنے کا نام بھی نہیں ہوتا۔ زندگی ظالم کے ہاتھ چوم کر اس کے ساتھ تصویر بنوانے کا نام بھی نہیں ہوتا اور نہ زندگی اس سے معتبر اور قابل برداشت ہوتی ہے۔ زندگی فالج زدہ بدن کا نام بھی نہیں ہوتا۔ زندگی قابل احترام ہونی چاہیے اور یہ احترام غلاموں کو حاصل نہیں ہوتا۔ زندگی ظالم کی گولیوں کا انتظار نہیں ہوتا بلکہ آگے بڑھ کر ظالم کے ہاتھ سے بندوق چھیننے کا نام ہوتا ہے چا ہے اس عمل میں گلیاں جنازوں کی گزر گاہ بن جائیں۔ زندگی خوف کی چیخوں کا نام نہیں ہوتا بلکہ خوف ظالم کے دل میں اتارنے اور اس کی خوشی کو غم میں بدلنے کا نام ہوتا ہے۔ قسمت طاقت اور وقار جہاد میں ہے اس کے نتیجے میں زندگی ایک المیہ بن جائے یا طربیہ کامیابی ہی کامیابی ہے، لیکن یہ بات کم ہی لوگ ہیں جو سمجھ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS