میری سہاگ رات اور چکنا چور خواب


دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ پسینہ اچھے بھلے میک آپ کا ستیاناس مار رہا تھا۔ گھونگھٹ نیچے کیے بیٹھی ”ان“ کا انتظار کر رہی تھی۔ آج میری سہاگ رات تھی، شادی کی پہلی رات۔ کچھ اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے؟

جب میری عمر 22 سال کی ہوئی تو میری شادی کر دی گئی۔ میں ایک شریف مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئی، چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ ابا اور اماں انتہائی مذہبی لوگ تھے۔ 14 سال کی عمر میں جب مجھے حیض شروع ہوا تو خون کی روانی اور درد کی شدت سے میں پریشان ہو گئی۔ اماں گھر پر نہیں تھیں، بھاگی بھاگی ابا کے پاس گئی۔ ”ابا ابا مجھے خون آ رہا ہے پیٹ میں شدید درد ہو رہا ہے کیا میں مر تو نہیں جاؤں گی؟

ابا سٹپٹا گئے ”بیٹا اپنی امی کا انتظار کرو“ ۔ ”مگر کیوں ابا“ ؟ ”مجھے کیا ہو رہا ہے“ ؟ اتفاق سے اسی وقت اماں آ گئیں۔ مجھے گھسیٹتی ہوئی میرے کمرے میں لے گئیں۔ ”تمہیں ماہواری آ رہی ہے خبردار جو ابؔا اور بھائیوں سے اس کے بارے میں بات کی یہ عورتوں کی باتیں ہیں“ ۔ ایک ہفتے میں شدید درد میں مبتلا رہی۔ میں ابا سے اس کے بارے میں کیوں بات نہیں کر سکتی ”؟ بھائی میرے نخرے کیوں نہیں اٹھا رہے؟ میں تو ان کے آگے پیچھے خدمت کرتی ہوں جب وہ بیمار ہوتے ہیں؟ ان کو تو پتا ہی نہیں کہ مجھے کیا تکلیف ہے“ ۔ کیوں؟

تورات کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب حوا کے بہکانے پر آدم نے شجر ممنوعہ سے پھل کھا لیا تو خدا نے حوا اور حوا کے بعد آنے والی تمام عورتوں کو سزا کے طور پر بچے کی پیدائش پر ہونے والی سخت تکلیف میں، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مبتلا کر دیا۔ یہی عورت کی سزا بن گئی۔ کیا ماہواری بھی عورت کی سزا ہے یا ایک فطری عمل؟ درد ہو رہا ہے تو درد سے چلاؔوں یا شرم سے مر جاؤں؟

میں نے ”ان“ کو شادی سے پہلے صرف ایک دفعہ دیکھا تھا، جب یہ لوگ رشتہ لے کر آئے تھے۔ چائے لے کر اندر گئی تھی۔ پچپن میں ابا کے ساتھ عید کے موقعے پر بکرا منڈی میں بکریاں خریدنے کا تھوڑا تجربہ ہوا تھا۔ اس وقت احساس ہوا کے میں بھی بکری ہی ہوں! سجی سجائی، سہمی سہمی، ڈری ڈری، بس لگا کے ساس اب منہ کھولنے کا بولے گی تاکہ میرے دانت گن سکے! ایک نظر ڈالی تو اندازہ ہوا کہ شکل صورت کے اچھے تھے اور بہت پیسے والے بھی

شادی کی رات کیا ہوتا ہے کچھ اندازہ نہیں تھا۔ کس سے پوچھتی؟ شرم ہماری گھٹی میں ہے اور حیا ہماری فطرت۔ شادی سے پہلے مجھے کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔ عجیب سے بات ہے کے ایک غیر مرد تن و تنہا میرے کمرے میں آنے والا تھا اور مجھے کچھ پتا ہی نہیں کے کیا کروں گی؟

اماں نے بس دو باتیں بتائیں تھیں۔ ”شادی کر کہ جا رہی ہو تو مر کر ہی نکلنا“ اور ایک حدیث سکھائی کہ ”جو عورت بغیر کسی کسی عذر کہ اپنے شوہر کے ساتھ سونے سے انکار کر دیتی ہے فرشتے ساری رات اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

جب انھوں نے میرا گھونگھٹ اٹھایا تو میں جیسے شرم سے مر ہی گئی۔ میرے گال پر بوسہ دیا اور مجھے اپنے قریب کیا۔ میرا دل سینے سے پھٹ پڑنے کو تیار تھا۔ پھر جانے کیا ہوا ان کو، ایک دم سے اٹھے اور کمرے سے باہر نکل گئے

اگلے چھ مہینوں میں انھوں نے چار دفع میرے نزدیک آنے کی کوشش کی ہر دفعہ ایسا لگتا تھا کہ دو منٹ بعد شرمندہ ہو کر باہر بھاگ جاتے تھے۔ کچھ سمجھ نہیں آئی، میں کس سے بات کروں کس کو کہوں؟

ابراہیمی مذاہب میں خاندان کو بہت بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک مضبوط خاندان ہمارے مذہب کی بنیاد ہے۔ بغیر جنسی اختلاط کے خاندان وجود پزیر نہیں ہو سکتا مگر حلال جنسی معاملات پر بھی بات کرنا غلط اور حرام کیوں سمجھا جاتا ہے؟

قدیم زمانے میں معاشرے ماں کے نام پر چلتے تھے۔ آدمی شادی کر کہ عورت کے گھر میں جا بستا تھا۔ ان معاشروں میں بچے کا باپ وہی ہوتا تھا جو بچے کو پالتا تھا، اس سے زیادہ باپ کی نسبت کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ بعد کے وقتوں میں  عورت کو ایک نچلے طبقے کی مخلوق بتایا گیا۔ سینٹ پال نے عورتوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کی اور ان کو فساد کی جڑ قرار دیا۔ دوسری طرف یونانی اور رومی تہذیب نے بھی عورتوں کو انسان سمجھا ہی نہیں، بلکہ یہ کہا جانے لگا کہ عورتوں میں روح بھی آدھی جانوروں کی ہی ہوتی ہے۔ اسی صدی ( تقریباً 2000 سال پہلے ) سے عورتوں کا زوال شروع ہوا اور عورت صرف بچہ پیدا کرنے اور مرد کی خدمت کرنے کے لئے مخصوص کر دی گئی۔

وقت گزرنے کے ساتھ مجھے اندازہ ہوا کے مجھے اپنی یہ درگھٹنا خود ہی حل کرنی پڑھے گی۔ میں نے ”ان“ سے۔ دوستی کر لی اور آہستہ آہستہ اعتماد میں لیا

دو سال بعد ایک دن انھوں نے مجھے روتے روتے بتایا کر دس سال کی عمر میں مدرسہ کے مولوی نے ان کا ریپ کیا تھا۔ یہ سلسلہ سال بھر چلتا رہا، کسی کو بتا نا پائے بس تڑپتے رہے اور آج تک اسی عذاب میں مبتلا ہیں۔ جب بھی میرے نزدیک آنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ پرانی یادیں دماغ کے پھوڑے کی طرح پکنے لگتی ہیں۔ میں نے صحیح ساتھی ہونے کا حق نبھاتے ہوئے ان کا علاج کرایا انھوں نے بھی اپنی انا ایک طرف رکھ کر میری درخواست سنی اور مجھے اپنا حلال حق ماننے پر بے شرم نہیں سمجھا

ہمارے معاشرے میں مردوں میں قبل از وقت انزال
( premature ejaculation)
بہت عام ہے
اس کی مختلف وجوہات ہیں مگر اس پر کبھی بات نہیں ہوتی۔ کتنے ہی بچے احتلام
(dreams wet)
کو اپنے گناہوں کی سزا سمجھتے ہیں
مگر پوچھ نہیں پاتے

لڑکے، مرد اور پھر ان کی بیویاں سالوں سال اسی عذاب کو سہتے ہیں، بیماری سمجھتے ہیں مگر کسی سے بات نہیں کر پاتے! عورتیں اگر اپنا حق مانگیں تو رنڈیاں، بے شرم اور مرد بات کرنا چاہے تو نامرد!

اب میری میری تین بیٹیاں ہیں، الحمدللہ سب پکؔی مسلمان ہیں۔ میں نے ان کو دینی اور دنیاوی تعلیم دی ہے اور اپنا حلال حق ماننے کی جرات بھی۔ میری بچیاں مرد کی غلام نہیں اس کی ساتھی بن کر چلیں
تمام کردار فرضی ہیں

Facebook Comments HS