دنیا کی نظریں ایشیا پر
تعلیمی اداروں میں اساتذہ ہوں، پارلیمنٹ میں بیٹھے سیاستدان ہوں یا ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے تجزیہ کار ہوں ہر کوئی یورپ کے مہذب ہونے، اس کے قوانین اور اس کے لوگوں کے رہن سہن کی مثالیں دیتے نظر آئیں گے۔ ان کے نزدیک اس کی بڑی وجہ یورپ میں اچھے تعلیمی ادارے، سخت قوانین، رولز فالو کرنے والے لوگ، قانون کی عملداری اور جان و مال کا تحفظ ہے۔ لیکن ایشیاء آج کے یورپ سے ہزاروں سال قبل بھی مہذب تھا، ترقی یافتہ تھا، پرامن تھا، خوبصورت تھا، قوانین اور رولز کے حوالے سے اپنی الگ پہنچا رکھتا ہے، تعلیمی ادارے نامی گرامی تھے۔
پانچ ہزار سال قبل سندھ میں موہنجوداڑو کی تہذیب کے آثار بھی اس کی گواہی دے رہے ہیں، ٹیکسلا کی تعلیم درسگاہ میں چین، مصر تک سے طالبعلم تعلیم حاصل کرنے آتے تھے، موہنجوداڑو کے لوگوں کو پانچ ہزار سال قبل نکاسی آب کے لئے نالیاں بنانے اور پانی محفوظ کرنے کا شعور تھا۔ یہ ان دنوں کی باتیں ہیں جب یورپ جنگل تھا اور امریکہ میں ریڈ انڈین رہتے تھے۔
آج یورپ بہت طاقتور ہے اس کے شہری خود کو ساری دنیا سے زیادہ مہذب سمجھتے ہیں وہ ایشیا کے باشندوں کو حقارت کی نظر سے بھی دیتے ہیں۔ سولہویں صدی کے بعد یورپ کے لوگ ایشیائی ملکوں میں آئے اور جو کچھ ہاتھ لگتا لوٹ کر لے جاتے رہے۔ اگر اپ دنیا کے نقشے کو غور سے دیکھیں تو آپ کو چھوٹا سا یورپ عظیم الشان براعظم ایشیا کے سامنے اس کا ایک جز نظر آئے گا ایک وقت تھا ایشیا کے لوگ یورپ پر حملہ آور ہوتے اور اسے فتح کرتے رہے۔
انہوں نے یورپ کو لوٹا بھی لیکن اس کے ساتھ انہوں نے یورپ کو مہذب بھی بنایا ان میں آریہ، سیتھن، ہن، عرب، مغل اور ترک شامل تھے یہی لوگ سارے یورپ میں پھیل گئے۔ پورا یورپ ایک مدت تک ایشیا کی نو آبادی رہا۔ جدید یورپ کے اکثر باشندے انہی ایشیائی حملہ آوروں کی نسل ہیں۔ نقشے پر ایشیا بہت بڑا ہے لیکن یورپ چھوٹا سا ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ یورپ نے کبھی ترقی دیکھی نہیں ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپ نے سترویں صدی کے بعد ترقی کا دور دیکھا تھا لیکن اس سے قبل ایک مدت تک نہیں ہزاروں سال پہلے بھی اور بعد میں بھی ایشیا کے لوگ زیادہ باشعور پڑھے لکھے اور مہذب تھے ہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یورپ کے اکثر ملکوں کے بڑے روشن دور گزرے ہیں ان میں سائنس کے بڑے بڑے ماہرین پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی تحقیق اور ایجادوں سے انسانی تہذیب کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔
کروڑوں انسانوں کے لیے انہوں نے بڑی بڑی سہولیات مہیا کر دی۔ اس کے علاوہ یورپ میں بڑے بڑے اہل قلم، مفکر، مصور اور ادب سے منسلک شخصیات پیدا ہوئیں۔ یورپ کی عظمت سے انکار کرنا سراسر حماقت ہے لیکن اس کے ساتھ ایشیا کی عظمت کو بھی فراموش کرنا اتنی ہی بڑی حماقت ہے۔ ممکن ہے ہم یورپ کی موجودہ چمک دمک میں ایسے کھو جائیں کہ اپنے ماضی کو بھول جائیں اس لیے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایشیا ہے جس نے ایسے ایسے جلیل القدر پیشوا پیدا کیے جنہوں نے ساری دنیا کی کایا پلٹ دی۔
شاید کسی فرد یا کسی چیز نے دنیا پر اتنا اثر نہ ڈالا ہو جتنا ان جلیل القدر پیشواؤں نے ڈالا۔ یہ لوگ وہ تھے جنہوں نے دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کی بنیاد ڈالی۔ ہندو مذہب جو تمام مذاہب میں سب سے پرانا ہے ہندوستان سے ہی اس کی شروعات ہوئی۔ اسی طرح بدھ مت بھی جو چین، جاپان، برما، تبت اور سری لنکا میں پھیلا ہوا ہے۔ یہودی اور عیسائی مذہب بھی ایشیائی ہیں کیونکہ ان کی ابتدا ایشیاء کے مغربی ساحل یعنی فلسطین سے ہوئی۔
پارسی مذہب گریٹر ایران سے شروع ہوا جبکہ پیغمبر اسلام محمد مصطفی ﷺ عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ کرشن جی، بدھا جی، زرتشت، حضرت عیسی، حضرت محمدﷺ، چین کے جید فلسفی کنفیوشس اور لاؤ تسی کے نام اہم ہیں۔ ایشیا کے بے شمار ارباب عمل میں گزرے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری ایسی مثالیں ہیں جن سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ براعظم ایشیا کتنا عظیم الشان ہے لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے ٹیکنالوجی کا دور ہے لوگوں کے ساتھ وقت بھی تیزی سے بدل رہا ہے لیکن اب ایشیا میں بھی تاریخ تیزی سے بدل رہی ہے ایشیا اب گہری نیند سے بیدار ہو رہا ہے۔ آج دنیا کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہے کیونکہ مغرب کا ہر شخص جانتا ہے کہ مستقبل کی تشکیل میں ایشیا کا بہت بڑا حصہ ہو گا۔


