’بادشاہ سلامت کی واپسی‘
پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت انتخابات کے انعقاد اور ملک میں جمہوری و آئینی عمل جاری رکھنے پر اصرار کر رہی ہے تاہم اسے اس معاملہ پر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے تعاون حاصل نہیں ہو رہا۔ پارلیمانی و آئینی تبدیلی کے نام پر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لاکر 16 ماہ تک مل کر ملک پر حکمرانی کرنے والی دو جماعتوں کے سیاسی طرز عمل میں اس تضاد کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
کیا اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) مفاہمت و مصالحت کی علمبردار بن کر ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے کے لیے پر امید ہے۔ اور پیپلز پارٹی اسٹبلشمنٹ کا ایسا قرب حاصل نہیں کر سکی جس کی بنیاد پر اسے فوری طور سے ایک بار پھر اقتدار میں آنے کی امید ہو۔ پیپلز پارٹی کے لیے اقتدار کا دروازہ دو ہی صورتوں میں کھل سکتا ہے۔ ایک کہ وہ پنجاب میں سیاسی طور مستحکم ہو جائے اور قابل قدر تعداد میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو۔ دوسرے یہ کہ پنجاب سے زیادہ تعداد میں سیٹیں جیتنے والی پارٹی اسے مخلوط حکومت میں حصہ دار بنا لے۔ بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ پیپلز پارٹی کے قائدین نے گزشتہ چند دنوں میں جو بیانات دیے ہیں اور جیسے نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اس سے تو یہی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو فی الوقت مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کے یہ دونوں دروازے بند دکھائی دیتے ہیں۔ شاید اس نے تسلیم کر لیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ہی ایک بار پھر مرکز اور پنجاب میں فیصلہ کن سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئے گی۔ اسی لیے پیپلز پارٹی کے لیڈر نواز شریف کو نشانہ بنا کر اپنی مایوسی کا اظہار کرنے پر مجبور ہیں۔
البتہ اس حوالے سے یہ نکتہ دلچسپ مطالعہ کا سبب بن سکتا ہے کہ ملک میں صرف وہی سیاسی حلقے انتخابات اور آئین کی بات کرتے ہیں جنہیں اقتدار تک راستہ مشکل دکھائی دے رہا ہو۔ جن سیاسی پارٹیوں کو کسی نہ کسی طریقے سے اپنی جیت کا یقین ہو، ان کے لیے انتخابات جیسے ’غیر ضروری‘ موضوع پر بات کرنا شاید مناسب نہیں ہوتا۔ اس وقت بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ اگرچہ آئینی طور سے انتخابات نومبر میں منعقد ہونے چاہیے تھیں لیکن الیکشن کمیشن نے بمشکل یہ اعتراف کیا ہے کہ انتخابات جنوری میں کروائے جائیں گے۔ اس کے باوجود انتخابات کی حتمی تاریخ دینے سے گریز کیا گیا ہے۔ اسی لیے متعدد تجزیہ نگاروں کو بدستور انتخابات کے بارے میں شبہات لاحق ہیں۔ یہ اندیشہ کھلے عام ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملک میں انتخابات کو کسی نہ کسی بہانے سے غیر معینہ عرصے تک ملتوی کیا جائے گا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پاک فوج کی طرف سے انتخابات کی بجائے معیشت مستحکم کرنے کے عمل کو ترجیح دینے کے اشارے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ سمجھنے سے گریز کیا جا رہا ہے کہ ملکی معیشت کی بحالی سیاسی استحکام اور شفاف انتخابات منعقد کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔
انتخابات کے حوالے سے نگران حکومت کا طرز عمل بھی بدستور شکوک و شبہات پیدا کرنے کا سبب بنا ہوا ہے۔ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اقوام متحدہ اور یورپ کے دو ہفتے پر محیط دورے کے بعد اب چین پہنچے ہوئے ہیں۔ حالانکہ کسی عبوری یا تھوڑی مدت کے لیے قائم ہونے والی حکومت کے سربراہ کی طرف سے ایسے دوروں کا کوئی مقصد نہیں ہو سکتا۔ ایسے میں یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ ملک میں مارشل لا لگانے یا ماہرین پر مشتمل کوئی غیر منتخب حکومت مسلط رکھنے کا منصوبہ موجود ہے، البتہ یہ تاثر ضرور قوی ہو رہا ہے کہ طاقت ور حلقوں کو فوری طور سے انتخابات کے انعقاد میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ملک میں سانحہ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف کو کمزور کرنے اور اس کی قیادت کو ’کیفر کردار‘ تک پہنچانے کا جو کام شروع کیا گیا تھا، عسکری حلقے اسے بہر حال جاری رکھنا چاہتے ہیں تاکہ انتخابات جب بھی ہوں، تحریک انصاف کوئی قابل قدر نمائندگی حاصل نہ کرسکے اور اپوزیشن کے طور پر بھی اسمبلیوں میں اسے کوئی طاقت ور حیثیت حاصل نہ ہو۔
ان حالات میں انتخابات کے بروقت انعقاد کا مطالبہ یا تحریک انصاف کی طرف سے کیا جاتا ہے یا پیپلز پارٹی بار بار اس معاملہ پر انتباہ جاری کرتی رہی ہے۔ ایک روز پہلے ہی کراچی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ’ملک میں آئین، جمہوریت اور انتخابات ایک آدمی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں‘ ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن فوری طور سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے کیوں کہ ’انتخابات میں تاخیر ووٹ کی عزت کی بجائے ووٹ کی توہین کا سبب ہوتی ہے‘ ۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اس بیان میں واضح طور پر مسلم لیگ (ن) کے رہبر نواز شریف اور عوامی حکمرانی کے لیے ان کے نعرے کو نشانہ بنا رہے تھے جو اس وقت سعودی عرب سے دبئی پہنچے ہیں جہاں سے وہ ہفتہ کی صبح پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 90 دن کے اندر انتخابات نہ کروانے کے فیصلہ کی کڑوی گولی نگلی ہے لیکن اب تمام جمہوری طاقتوں کو الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ فوری طور سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے تاکہ بے یقینی کا خاتمہ ہو۔
پیپلز پارٹی کی بے چینی اور جمہوریت پسندی کے اعلانات اور مسلم لیگ (ن) کی انتخابات کے بارے میں پراسرار خاموشی سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ملک میں حکمرانی کے کسی ایسے منصوبے کا حصہ ہے جس میں پیپلز پارٹی کی شراکت مشکوک ہو چکی ہے اور اسے شاید ایک بار پھر سندھ کی حکومت تک اکتفا کرنا پڑے۔ اس صورت حال سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ملکی سیاسی پارٹیوں و لیڈروں کو جمہوریت، انتخابات اور آئین کی یاد اسی وقت ستاتی ہے جب وہ کسی دوسرے راستے سے اقتدار تک پہنچنے کی امید کھو چکے ہوتے ہیں۔ اسی لیے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف انتخابات کے لیے بے چین دکھائی دیتی ہیں لیکن دیگر پارٹیاں عوام اور جمہوریت کا نام لینے کے باوجود انتخابات کا مطالبہ زبان پر نہیں لاتیں۔ گویا ملک میں آئین کا احترام کسی پارٹی کی سیاسی ضرورتوں سے مشتق ہو چکا ہے۔ اقتدار کی تیاری کرنے والے عناصر انتخابات کی بجائے حصول اقتدار کے ناقابل بیان تقاضے پورے کرنے میں مصروف ہوتے ہیں لیکن اقتدار کی دوڑ سے باہر نکالے جانے والے انتخاب، آئین اور جمہوریت کی دہائی دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس دوران میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے ہیں جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو وطن واپسی پر 24 اکتوبر تک گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے یعنی انہیں حفاظتی ضمانت دی گئی ہے تاکہ بعد میں عدالت کے سامنے پیش ہو کر وہ مستقل بنیاد پر ضمانت حاصل کر لیں۔ یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ نواز شریف کو سیاسی بنیاد پر مقدموں میں الجھا کر ان کے خلاف فیصلے سنائے گئے تھے اور سیاست سے نا اہل قرار دینے سے لے کر نواز شریف کو قید کی سزا دینے تک ملکی عدالتی نظام کو ایک ناجائز ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم اس وقت قانونی پوزیشن تو یہی ہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں شدید علیل ہوئے اور پھر انہیں عدالت، فوج اور تحریک انصاف کی حکومت کی ملی بھگت سے لندن جانے کی اجازت دے دی گئی۔ البتہ نومبر 2019 میں علاج و طبی معائنے کے بہانے لندن جانے والے نواز شریف چار سال تک وہیں مقیم رہے۔ اس دوران وہ یورپ کے علاوہ مشرق وسطی کے نجی دورے کرتے رہے لیکن پاکستان کی طرف رخ نہیں کیا۔ حتیٰ کہ ان کے بھائی 16 ماہ تک وزیر اعظم کے عہدے پر متمکن بھی رہے لیکن نواز شریف کے لیے واپسی کا راستہ ہموار نہیں ہوا۔ اب وہ یوں واپس آرہے ہیں جیسے کوئی بادشاہ اپنے کھوئے ہوئے تخت کو واپس لینے کے لیے آ رہا ہو۔
بلاشبہ نواز شریف ہی نہیں بلکہ ملک کے تمام شہریوں کو قانون کے مطابق انصاف ملنا چاہیے اور جس کے خلاف بھی جھوٹ اور ناجائز بنیادوں پر مقدمے قائم کیے گئے ہیں، انہیں ختم ہونا چاہیے۔ لیکن اس عمل میں بھی توازن اور عدل کی شفافیت کا اہتمام کرنا اہم ہے۔ نواز شریف ناجائز طور سے ملنے والی سزا پر اگر پہلے کئی ماہ جیل میں گزار چکے ہیں تو انہیں اب بھی کم از کم ملکی عدالتی نظام کا بھرم رکھنے کے لیے واپس آ کر جیل ہی جانا چاہیے تھا۔ بعد میں میرٹ پر ضمانت حاصل کرلی جاتی۔ تاہم کسی ’بادشاہ کی واپسی‘ کا تاثر راسخ کرنے کے لیے یہ طریقہ شایان شان نہیں سمجھا گیا۔ اب ملکی عدالتیں کسی سعادت مند بچے کی طرح وہ سارا سبق ازبر سنا رہی ہیں جس کی گونج پہلے بھی اس ملک کی فضاؤں میں موجود ہے۔
یہ طریقہ خاص طور سے ایک ایسے ماحول میں مضحکہ خیز پیروڈی دکھائی دیتا ہے جب عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر لیڈروں کے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو 2017 میں نواز شریف کے ساتھ روا رکھا گیا تھا۔ یعنی اسٹیج وہی ہے بس منظر نامہ پر کردار تبدیل ہوچکے ہیں۔ حالانکہ ملکی عوام، سیاسی لیڈر، جج حضرات اور فوجی قیادت اس حقیقت کی چشم دید گواہ ہے کہ ان ہتھکنڈوں سے جمہوری و آئینی انتظام ہی نہیں بلکہ ملک کے وجود تک کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ اس وقت پرانے ہتھکنڈے جاری رکھنے کی بجائے، ملک بچانے کے لیے حقیقی معنوں میں کوشش کرنا ضروری ہے۔ لیکن ’ریاست بچانے کے لیے سیاست قربان کرنے‘ کا دعویٰ کرنے والے بھی اگر نظام اور ریاست کی بجائے ذاتی جاہ اور سیاسی منصوبہ بندی کو فوقیت دیں گے تو آگے بڑھنے کا راستہ کشادہ نہیں ہو سکے گا۔


