کنڈینسڈ میٹر فزکس کا تعارف


مادی آلات کی دریافت اور پھر ان کی مدد سے مادے میں تبدیلیوں کا عمل انسانی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ پتھروں، ہڈیوں، چمڑے کے استعمال سے لے کر برتن بنانے اور دھات کاری جس میں تانبہ، سیسہ، لوہا اور پیریاڈک ٹیبل کے دیگر تمام عناصر کی دریافت اور ترتیب شامل ہے۔ یونہی برقیات، حرارت، روشنی، مقناطیسیت اور کیمیاوی تعاملات سمیت سپر کنڈکٹر اور سپر فلائڈ کی دریافت، پلاسٹک، سیرامک، گرافین اور حالیہ وقتوں میں ٹوپولوجیکل انسولیٹر بھی شامل ہیں۔

ہم انسانوں نے اپنی ذہانت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر قدرتی وسائل کو کارآمد آلات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے مفید بنانے کا کام کیا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ مادے کی ان حالتوں کی دریافت اور ان کے استعمال کے پیچھے کون سا علم کارفرما ہے؟ جدید آلات میں سینکڑوں مشینی پرزے موجود ہوتے ہیں جنہیں دریافت کرنے اور قابل استعمال بنانے میں فزکس کے ایک شعبے سے سب سے زیادہ کام لیا گیا ہے اور یہ کنڈینسڈ میٹر فزکس Condensed Matter Physics کا شعبہ ہے۔ آئیے چند مثالوں کی مدد سے اس شعبے کا تعارف کیا جائے۔

سب سے پہلے ٹرانزسٹر کی مثال لیجیے۔ اس کی ایجاد کے بغیر کوئی بھی الیکٹرانکس کی مشین آپ کی جیب میں فٹ نہیں ہو سکتی تھی۔ ٹرانزسٹر سیمی کنڈکٹر مٹیریل سے بنتے ہیں جیسا کہ سیلیکون اور جرمینیم وغیرہ جن میں برقی بہاؤ کی مقدار کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اسی لئے یہ کنڈکٹر اور انسولیٹر دونوں کا کام کرتے ہیں (کنڈکٹر سے مراد وہ مٹیریل جس میں الیکٹرک کرنٹ بآسانی بہتا ہے جیسا کہ لوہا جبکہ انسولیٹر میں کرنٹ نہیں بہتا جیسا کہ پلاسٹک) ۔

اس خاصیت کی وجہ سے انہیں برقی سوئچ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ برقی بہاؤ کو آن یا آف کر سکتے ہیں۔ ان کو ایمپلی فائر کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جس میں ایک کم ایمپلی ٹیوڈ والے سگنل کو زیادہ ایمپلی ٹیوڈ میں بدلا جا سکتا ہے جیسا کہ آپ نے لاؤڈ سپیکر میں دیکھا ہو گا کہ یہ آپ کی آواز کو اونچی آواز میں بدل دیتا ہے۔ کمپیوٹر کو چلانے میں یہی دو بنیادی افعال یعنی ایمپلی فائر اور برقی سوئچ کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی لئے ٹرانزسڑ کی دریافت پر بارڈین، براٹین اور شاکلے کو 1956 کا نوبل انعام دیا گیا۔ ٹرانزسٹر کی دریافت سے برقی سرکٹ چھوٹے سے چھوٹے سائز کے ہوتے گئے اور یوں پرسنل کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ یا سمارٹ فون کی دریافتیں سامنے آئیں۔ ٹرانزسٹر کی اہمیت کا اندازہ یوں لگا لیں کہ صرف سال 2014 میں ہر دو سیکنڈز میں 8 ٹریلین رزسٹر بنائے جاتے تھے اور آج یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہوگی۔ یاد رہے کہ جدید ٹرانزسٹر کا سائز انتہائی چھوٹا یعنی چند ایٹموں پر مشتمل ہوتا ہے اسی لئے اتنی زیادہ تعداد میں بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

دوسری مثال کے لئے اپنے سیل فون کی سکرین کو دیکھئے جو کہ ایل سی ڈی (لیکویڈ کرسٹل ڈسپلے) سے بنی ہے۔ یہ لیکوئیڈ کرسٹل خود ایسی خصوصیات رکھتے ہیں جو خالص مائع اور ٹھوس کرسٹل کے مابین ہیں۔ ان کا بہاؤ تو مائع جیسا ہوتا ہے لیکن ان کے مالیکیول ایک ٹھوس کرسٹل کی طرح اپنی ساخت برقرار رکھتے ہیں۔ اگر لیکوئیڈ کرسٹل میں سے روشنی کی شعاعیں گزاری جائیں تو یہ مالیکیولوں کی خاص ترتیب کے باعث اس روشنی کے لئے شفاف اور غیر شفاف دونوں واسطوں کا کام کر سکتے ہیں۔

ان میں مالیکولوں کی ترتیب کو برقی توانائی کی مدد سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور یوں ان سے مختلف تصاویر کو ڈسپلے کیا جا سکتا ہے۔ انہیں کمپیوٹر اور ٹی وی کی سکرینوں، ویڈیو پلیئرز، گھڑیوں، سیل فون اور دیگر بہت سی چیزوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکوئید کرسٹل کو اگرچہ انیسویں صدی ہی میں دریافت کر لیا گیا تھا لیکن اس کا صحیح مصرف بیسویں صدی میں تب سامنے آیا جب فرانس کے سائنسدان Pierre Gilles de Gennes نے ان لیکوئیڈ کرسٹلز کو سمجھنے میں بنیادی کردار ادا کیا جس پر اسے 1991 میں فزکس کا نوبل انعام دیا گیا۔ جدید سیل فون بنانے میں جن نظریات اور ٹیکنالوجی کا استعمال ہوتا ہے ان کی فہرست تو کافی لمبی ہے۔ کیمرہ کے ہائی ریفکریشن لینز، مائیکروفون اور سپیکر میں نسب مقناطیسی آلات، RAM میں موجود سپن والوز وغیرہ سب کے پیچھے کنڈینسڈ میٹر فزکس ہی موجود ہے۔ لیکن کنڈینسڈ میٹر فزکس ہے کیا؟

امریکی نوبل انعام یافتہ سائنسدان فلپ اینڈرسن نے مادے کی ٹھوس اور مائع حالتوں کے مطالعہ کو یکجا کرنے کے لئے کنڈینسڈ میٹر فزکس کی اصطلاح کو عام کیا۔ یہ مادے کی وہ حالتیں ہیں جن میں الیکٹرانوں کے درمیان تعاملات Eectronic interactions اہم کردار ادا کرتے ہیں (یاد رہے کہ کنڈکٹر، انسولیٹر اور سیمی کنڈکٹر وغیرہ کی وضاحت کے لئے الیکٹرانوں کا باہمی تعامل زیادہ مضبوط نہیں ہوتا اس لئے ہم ہر الیکٹران کی خصوصیات کو آزادانہ معلوم کر سکتے ہیں ) ۔

ان نئے پیچیدہ مادی مظاہر کی وضاحت کے لئے ہم یہ نہیں کہ سکتے (جیسا کہ reductionism میں مانا جاتا ہے ) کہ ایک ایک ذرے کی آزادانہ خصوصیات کو بس یکجا کر لیا جائے تو پیچیدہ سسٹم کی خصوصیات مل جائیں گی۔ بلکہ ایسے انجانے اور پیچیدہ مظاہر کی وضاحت کے لئے ہمیں بالکل نیا طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے جس میں پیچیدہ نظام کو بذات خود ایک اکائی تصور کیا جاتا ہے۔ اس نئے مظہر کو Emergent Phenomenon کہا جاتا ہے۔ ایسے تمام مظاہر کے مطالعے کا نام ہی کنڈینسڈ میٹر فزکس ہے۔

اس شعبے نے ہماری زندگیوں میں مواصلات، کاروبار کے طریقے اور سفری ذرائع تک کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اس سے طب، کمپیوٹر اور توانائی کے مہیا وسائل کے بھرپور استعمال میں بے بہا ترقی ہوئی ہے۔ لیکن یہ بھی ابھی آغاز ہے۔ اس شعبے میں کام کرنے والے سائنسدان انسانوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز سے نپٹنے کے لئے سرگرم ہیں۔ کیا آپ نے کبھی تصور بھی کیا ہے کہ آنے والے سو سال میں دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی؟

آئیے ذرا تصور کریں کہ کیا ہمارے اردگرد بچھے ہوئے بجلی کی تاروں کے جال سے چھٹکارا پا کر زیر زمین چھوٹی تاروں کا استعمال ہو سکتا ہے؟ دنیا بھر میں پیدا ہونے والی بجلی کا تقریباً بیس فیصد ان تاروں میں موجود برقی بہاؤ میں مزاحمت کی نذر ہوجاتا ہے (اسے ہی Trasmission loss کہا جاتا ہے ) اور اس سے معاشی اور ماحولیاتی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ اس مزاحمت کی وجہ یہ ہے کہ جب کرنٹ کے بہاؤ کے لئے ایک دھاتی تار کو دونوں جانب سے ایک بیٹری سے جوڑا جاتا ہے تو اس تار کے اندر موجود الیکٹرانوں میں یک سمتی بہاؤ پیدا ہوتا ہے جسے برقی بہاؤ کہا جاتا ہے۔

چونکہ تار کے اندر الیکٹران کے علاوہ بھاری بھرکم ایٹم اور آئنز موجود ہوتے ہیں اس لئے قدرتی بات ہے کہ بہنے والے الیکٹران ان رکاوٹوں سے ٹکراتے ہیں اور اس مزاحمت کے نتیجے میں ان کی کافی برقی توانائی ضائع ہوتی ہے۔ اب ذرا سوچیں کہ اگر ایسی تاریں مل جائیں جن میں مزاحمت صفر ہو؟ ہم ان سے زیادہ بہتر موٹریں، جنریٹر اور کمپیوٹر بنا سکتے ہیں۔ لیکن ایسا میٹیریل کیسے بنایا جا سکتا ہے جس میں مزاحمت صفر ہو؟ درحقیقت ایسا مٹیریل بہت پہلے ہی دریافت ہو چکا ہے جس میں مزاحمت صفر ہو اور اسے سپر کنڈکٹر کہتے ہیں۔

ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے 1911 میں  ہائکے کیمرلن اونیس نے پہلا سپر کنڈکٹر دریافت کیا تھا۔ اوپر والی مثال میں اگر کرنٹ والی تار کا درجہ حرارت کم کرنا شروع کر دیں حتی کہ یہ منفی 270 ڈگری سیلسیس کے قریب چلا جائے تو اس تار کا مٹیریل ایک بالکل انوکھی اور نئی حالت میں یکسر تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس عمل کو فیز ٹرانزیشن کہتے ہیں۔ اس طرح انتہائی کم درجہ حرارت پر بہت سی دھاتیں سپر کنڈکٹر حالت اختیار کر لیتی ہیں۔

سپر کنڈکٹر بننے کے مرحلے میں ان تاروں میں الیکٹرانوں کی دیگر رکاوٹوں سے مزاحمت صفر ہوجاتی ہے اور یوں تار میں برقی توانائی بغیر کسی ضیاع کے مسلسل قائم رہتی ہے۔ اسی حالت میں ایک اور دلچسپ مظہر سامنے آتا جسے میں ایک سپرکنڈکٹر کسی بھی بیرونی مقناطیسی میدان کے اثر کو مکمل دفع کرنے کا کام کرتا ہے۔ (مشہور چینی اور جاپانی بلٹ ٹرینوں میں جن کی رفتار 500 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہے ان میں سپرکنڈکٹر کا یہی مقناطیسی مظہر استعمال ہوتا ہے ) ۔

آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر سپرکنڈکٹر اتنا موثر اور بہترین مٹیریل ہے تو ہم اسے روزمرہ زندگی میں استعمال کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ دراصل سپر کنڈکٹر کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں پہلے ہی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ہسپتالوں میں موجود ایم آر آئی Magnetic Resonance Imaging مشینوں میں یہی سپر کنڈکٹر استعمال ہوتا ہے۔ انہیں موٹروں، کمپیکٹ جنریٹروں، ٹرانسفارمروں اور تیز ترین ٹرینوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

لیکن ابھی ہم سپر کنڈکٹر کو بڑے پیمانے پر استعمال نہیں کر پا رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ کہ موجودہ سپر کنڈکٹر کے لئے انتہائی کم درجہ حرارت یعنی منفی 270 ڈگری سیلسیس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس قدر کم درجہ حرارت کو مسلسل قائم رکھنا بہت مہنگا اور مشکل ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے مسلسل کوشش جاری ہے کہ ایسے سپر کنڈکٹر بنائے جائیں جو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پر بھی کام کر سکیں۔ اس وقت سائنسدان بہت پر امید ہیں کہ اب وہ دن زیادہ دور نہیں ہیں۔

ایک بار پھر ذرا سوچئے کہ کیا ہم تصور کر سکتے ہیں کہ ہم ایسے مٹیریل بنا لیں کہ جو بہت کم وقت میں بہت زیادہ توانائی محفوظ کر سکیں؟ یا جو اپنی سطح پر زنگ لگنے سے محفوظ رہ سکیں؟ یا ایسے کہ جن کا وزن انتہائی کم ہو مگر وہ بہت مضبوط ہوں؟ جو حیاتیات کے لئے بھی محفوظ ہوں اور خطرناک شعاعوں کا اخراج نہ کریں؟ جن کے ذریعے کمپیوٹنگ کی پاور کو بڑھایا جا سکے؟ یا انہیں جسمانی بیماریوں کے علاج میں بغیر کسی نقصان کے استعمال کیا جا سکتا ہو؟

یہ سب ممکن ہو سکتا ہے اگر ہم انتہائی نچلے پیمانے پر جا کر ان کی خصوصیات کو سمجھ سکیں اور انہیں اپنے فائدے میں لا سکیں۔ رچرڈ فائن میں نے 1959 کے اپنے مشہور خطاب میں ایسے ممکنات کا اشارہ دیا تھا اور کہا تھا کہ There is plenty of room at the bottom یعنی کہ نچلے پیمانے پر انگنت ممکنات ہیں۔ اس مشہور لیکچر کو نینو ٹیکنالوجی کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔

نینو ٹیکنالوجی  میں مادے کو ایٹم کی سطح پر سمجھنے کا کام ہوتا ہے۔ نینو کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک میٹر کو ایک کھرب حصوں میں تقسیم کر دیا جائے تو اس کا ایک کھربواں حصہ نینو کہلائے گا۔ جو کہ تقریباً سونے کے تین ایٹموں کے سائز کے برابر ہے۔ (یعنی اب ہم الگ الگ ایٹم کو دیکھ پرکھ سکتے ہیں ) ۔ نینو ٹیکنالوجی کا ایک مظہر ٹرانزسٹر کے سائز کو اتنا کم کرنا ہے کہ ایک چھوٹی سی چپ پر کھربوں ٹرانزسٹر نصب کیے جا سکتے ہیں۔

نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے جسم کے اندر مطلوبہ جگہ پر بڑی احتیاط سے کسی دوا کو بھیجا جا سکتا ہے۔ اس کا استعمال کینسر زدہ خلیوں کو ختم کرنے کے لئے ہو رہا ہے۔ حالیہ نوبل انعام 2023 جو کہ کوانٹم ڈاٹ کی دریافت و استعمال پر دیا گیا ہے وہ بھی نینو ٹیکنالوجی ہی کی دین ہے۔ اسی طرح دو جہتی مٹیریلز میں ہونے والے کوانٹم ہال ایفیکٹ، کاربن نینو ٹیوبز اور نینو تاریں، نینو ذرات اور ان سے مل کر بنے سیمی کنڈکٹر مٹیریل جنہیں سولر پینل میں استعمال کیا جا رہا ہے وغیرہ بھی نینو ٹیکنالوجی سے ہی ممکن ہوا ہے۔

گزشتہ دہائیوں میں دریافت ہونے والا ایک اور اہم مٹیریل گرافین ہے جو کہ گرافائٹ کی ایک دو جہتی شیٹ ہے۔ یہ وہی گرافائٹ ہے جو عام طور پر پنسل میں لکھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ گرافائٹ میں سے ہی گرافین کو نکالا جاتا ہے جو کہ کاربن کے ایٹموں سے بنا ہوا ایک کرسٹل ہے جس کے ایٹم ایک خاص ترتیب یعنی Honeycomb lattice میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس نئے مٹیریل میں الیکٹران کا بہاؤ ابھی تک موجود دھاتوں یا سیمی کنڈکٹر وغیرہ سے یکسر مختلف ہے۔

گرافین ایک حیران کن مٹیریل ہے۔ اس کی شیٹ انتہائی باریک لیکن بے حد مضبوط ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گرافین کی چادر پر اگر چھ ہاتھی کھڑے کر دیے جائیں تو بھی یہ نہیں ٹوٹے گی۔ اور گرافین کی شیٹ روزمرہ درجہ حرارت پر بھی قائم رہتی ہے۔ اگر روشنی اس کی شیٹ میں سے متوازی گزاری جائے تو وہ بنا کسی رکاوٹ کے گزر جاتی ہے۔ اسی طرح یہ برقی بہاؤ کے لئے بہترین کنڈکٹر ہے۔ اس لئے گرافین کی دریافت سے کنڈنسڈ میٹر فزکس میں ایک انقلاب برپا ہوا ہے اور اس پر مزید تحقیق سے آنے والے سالوں میں صنعت اور روزمرہ زندگی میں بھی انقلاب آ جائے گا۔ اپنی عملی اہمیت کے علاوہ گرافین نے دو جہتوں پر مشتمل دیگر بہت سے مٹیریلز جیسے مولبڈینم سلفائیڈ، ہیگزاگونل بورون نائٹرائڈ اور سیاہ فاسفورس وغیرہ کو سمجھنے میں مدد فراہم کی ہے۔ گرافین کی مدد سے فزکس کے کچھ بنیادی تصورات کو بھی سمجھنے میں مدد مل رہی ہے اور دنیا بھر میں اس پر کام ہو رہا ہے۔

بہرحال اس مختصر مضمون میں ہم نے مادے کی نئی حالتوں اور فزکس ایک اہم ترین شعبے کا تعارف پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم انسانوں نے علم کا بہت سفر طے کر لیا ہے اور ہم ہر لحظہ ہونے والی نت نئی دریافتوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ لیکن ابھی ہم نے اس سے بھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ بہت سے سوالات کے جوابات تلاش کرنے ہیں۔ ہم اپنی قوت ارادی اور جستجو کی لگن کے بل پر یہ سفر تیزی سے طے کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS