اور عابد باکسر بھاگ گیا


عابد باکسر پنجاب پولیس کا متنازع کردار تھا۔ جس نے اپنی ملازمت کے دوران کئی پولیس مقابلے کیے اور کئی افراد کو مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کیا۔ عابد باکسر کی وجہ شہرت ان کا شہباز شریف کے قریب ہونا بھی تھی اور ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا تھا کہ وہ شہباز شریف کی ایماء پر جعلی پولیس مقابلوں میں شہباز شریف کے مخالفین کو ان کے راستے سے ہٹاتے ہیں۔ اگرچہ اس الزام کو نہ کبھی کسی انکوائری میں ثابت کیا جا سکا، نہ کسی عدالت میں یہ الزام ثابت ہوا اور نہ کبھی شہباز شریف یا عابد باکسر نے اس الزام کو تسلیم کیا مگر اس الزام نے عابد باکسر کی شہرت کو چار چاند لگا دیے اور عابد باکسر راتوں رات ترقی کی منازل طے کرنے لگا۔

گورنمنٹ کالج لاہور سے باکسنگ شروع کرنے والے عابد باکسر کو پنجاب پولیس میں ملازمت بھی سپورٹس کے کوٹہ پر ملی تھی لیکن جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ دوران ملازمت ان کی شہرت کی وجہ باکسنگ کا کھیل نہیں بلکہ موت کا کھیل تھا اور وہ بدنام زمانہ انکاؤنٹر سپیشلسٹ تھے۔ دوران ملازمت عابد باکسر کو درجنوں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ کئی دفعہ معطل رہے مگر ان کی بحالی بھی جلد ہی ہوجاتی تھی۔

2010 میں وہ اپنے خلاف درج مقدمات میں گرفتاری سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہو گئے اور دبئی جا کر کاروبار کرنے لگے۔ 2018 میں انہیں انٹر پول کے ذریعے گرفتار کر کے پاکستان واپس لایا گیا مگر وہ جلد ہی ضمانت پر رہا ہو گئے اور لاہور میں کاروبار کرنے لگے۔ وہ لاہور میں گاڑیوں کے ایک بڑے شو روم کے بھی مالک ہیں۔ ماڈل ٹاؤن میں واقع عابد مارکیٹ کے بھی مالک ہیں اور پراپرٹی کا کاروبار بھی کرتے ہیں۔

عابد باکسر نے اداکارہ نرگس پر کسی زمانے میں تشدد بھی کیا تھا اور اس کے بال کاٹ دیے تھے جس پر اگرچہ وہ بعد میں شرمندگی کا اظہار کرتے تھے مگر یہ واقعہ تاحال ان کے نام کے ساتھ نتھی ہے۔

یہ تو تھا ان کا ماضی، حال میں وہ مفرور ہیں اور پولیس ان کے پیچھے پیچھے ہے۔ اس بات کا امکان بھی ہے کہ کسی ایسے ہی جعلی انکاؤنٹر میں قتل کر دیے جائیں یا قتل کر دیے گئے ہوں جس طرح کے جعلی انکاؤنٹر وہ خود کیا کرتے تھے۔

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ آرگنائزڈ کرائم یونٹ کی ایک ٹیم نے ان کے گھر چھاپہ مارا اور انہیں گرفتار کرنا چاہا مگر وہ اس وقت فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے جب پولیس انہیں پولیس وین میں بٹھا رہی تھی۔ اس چھاپے کی وجہ پنجاب پولیس نے پہلے یہ بیان کی کہ عابد باکسر نے اعلیٰ پولیس افسران کو دھمکیاں دی تھیں اور اس مقدمے میں انہیں گرفتار کرنا مقصود تھا تاہم بعد میں پولیس نے موقف بدلتے ہوئے کہا کہ آرگنائزڈ کرائم یونٹ کو خفیہ اطلاعات ملی تھیں کہ عابد باکسر نے اپنے گھر میں اشتہاری عمران صابر اور انجم شریف کو پناہ دے رکھی ہے۔ پولیس نے عابد باکسر کے گھر دونوں مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو عابد باکسر اور اس کے ساتھیوں نے مزاحمت کی اور جب انہیں گرفتار کرنے لگے تو تینوں فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔

پولیس کی اس کہانی میں بہت جھول ہیں۔

اگر مان لیا جائے کہ پولیس انہیں دونوں میں سے کسی بھی الزام میں یا دونوں میں ہی گرفتار کرنے گئی تھی تو دونوں الزامات ایسے نہیں ہیں کہ جس میں عابد باکسر کو سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی تھی۔ اس لیے ایک سابق پولیس افسر ہونے کی حیثیت سے وہ اس قانون سے واقف تھا اور بھاگنے کی حماقت نہیں کر سکتا تھا۔ شروع میں پولیس ذرائع نے یہ بھی کہا کہ عابد باکسر کو گرفتار کرنے کے لیے جانے والی پولیس پارٹی میں راشد امین بٹ بھی شامل تھے جن کے خلاف عابد باکسر نے 2021 میں مقدمہ درج کرایا تھا کہ وہ ان کے گھر ہونے والے فائرنگ کے واقعہ میں ملوث ہیں۔

پھر یہ بھی الزام لگایا گیا کہ اس پولیس پارٹی میں شامل ایک پولیس افسر اداکارہ نرگس کے شوہر ہیں جس پر سوشل میڈیا میں صارفین نے سوالات اٹھائے کہ اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دونوں افراد نے اپنی ذاتی دشمنی کی وجہ سے عابد باکسر کو ٹھکانے لگا دیا ہو گا تاہم بعد میں پولیس نے ایف آئی آر میں ان افسروں کی جگہ کچھ نئے افسران کا نام ڈال دیا۔

یہ بات تو کنفرم ہے کہ عابد باکسر والا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا پنجاب پولیس اسے بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس معاملے کی فوری اعلیٰ سطحی عدالتی انکوائری ہونی چاہیے تاکہ عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دیا جا سکے اور پاکستان میں جعلی پولیس مقابلوں کا خاتمہ ہو سکے۔

Facebook Comments HS