اسرائیلی جارحیت اور اقوام عالم کی بے حسی!


گزشتہ کئی دن سے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت جاری ہے۔ اسرائیل کے میزائل حملوں اور بمباری سے تقریباً تین ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد اٹھارہ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ شہید ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اسرائیل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہا ہے۔ تاکہ فلسطینیوں کی نسل کشی کر سکے۔ آج کی مہذب دنیا میں جنگوں کے بھی کچھ آداب اور اصول ضابطے ہوتے ہیں۔ لیکن اسرائیل ہر قانون کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ یہ ہر اخلاقی حد کو عبور کر چکا ہے۔ یہ سرعام خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ رہائشی علاقوں، ، سکولوں، مساجد، غرض ہر جگہ بمباری کر رہا ہے۔ ایک طرف یہ چاہتا ہے کہ فلسطینی علاقہ خالی کر دیں۔ دوسری طرف وہ ہجرت یا نقل مکانی کرنے والوں کو تاک تاک کر نشانہ بنا کر ان کی جانیں لے رہا ہے۔ اس نے ہسپتالوں تک کو نہیں بخشا۔ ہسپتالوں پر اسرائیلی بمباری سے ڈاکٹروں اور نرسوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ اسرائیل نے کئی دنوں سے غزہ کے لئے بجلی، پانی، ادویات اور اشیائے خور و نوش کی ترسیل روک رکھی ہے۔

اس صورتحال میں امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔ جو بائیڈن نے اسرائیل کو روکنے کے بجائے، اس سے اظہار یکجہتی کیا۔ اسے امریکہ کی غیر مشروط حمایت اور امداد کی یقین دہانی کروانی۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی ڈھٹائی دیکھیے کہ اس نے غزہ کے قدیم بلکہ تاریخی العاہلی عرب ہسپتال پر اسرائیل کی بمباری کی مذمت کرنے کے بجائے اس کی ذمہ داری فلسطینی تنظیم اسلامک جہاد پر عائد کر دی ہے۔ اس ہسپتال میں اسرائیلی جارحیت سے سینکڑوں مریضوں، ڈاکٹروں اور نرسوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اس ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس نے بھی ہسپتال پر حملے کی ذمہ داری فلسطینی تنظیم پر عائد کر دی تھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ دونوں ایک پیج پر ہیں۔ امریکہ نے سلامتی کونسل میں بھی یہ رویہ اختیار کیا۔

دو دن پہلے روس نے اسرائیل۔ فلسطین جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی تھی۔ اس قرار داد میں انسانی بنیادوں پر جنگ روکنے، امداد کی ترسیل یقینی بنانے، غزہ سے عام شہریوں کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ چین اور متحدہ عرب امارات سمیت چار ممالک کی حمایت کے باوجود یہ قرارداد منظور نہیں ہو سکی۔ وجہ یہ کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، اور جاپان نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تمام طاقت ور ممالک بغیر کسی ڈر، خوف کے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہیں دنیا کے ایک خطے میں ہونے والی بربریت اور خون ریزی روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھے۔

سوچنے کی بات ہے کہ ان حالات میں فلسطینی بے چارے کس کی طرف دیکھیں؟ یہ بات دہرانی پڑتی ہے کہ دنیا میں پچاس کے قریب مسلمان ممالک ہیں۔ ان ممالک میں ڈیڑھ ارب کے قریب مسلمان بستے ہیں۔ بیشتر ممالک تیل اور دیگر معدنیات کی دولت سے مالا مال ہیں۔ لیکن ان کی ضعیفی اور بے بسی دیکھیں کہ یہ فلسطین کو اسرائیل کی بربریت سے بچانے کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف اسرائیل ہے جو تقریباً نوے لاکھ آبادی کا حامل ملک ہے۔ یہ مسلمان ممالک میں گھرا ہوا ہے۔ لیکن مٹھی بھر آبادی کا حامل اسرائیل دنیا میں اپنی دھاک رکھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں اقوام عالم میں اپنی دھاک بٹھانے اور بات منوانے کا صرف ایک پیمانہ ہے۔ یہ پیمانہ مضبوط معیشت ہے۔ امریکہ کا شمار دنیا کی طاقت ور معیشتوں میں ہوتا ہے۔ تاہم امریکی معیشت یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے۔ بیشتر مسلمان ممالک امریکہ، آئی۔ ایم۔ ایف وغیرہ پر انحصار کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ ممالک کس طرح امریکہ یا اسرائیل سے اپنی بات منوا سکتے ہیں؟

پاکستان کی مثال لیجیے۔ کئی برس سے ہماری معیشت بستر مرگ پر پڑی سسک رہی ہے۔ ہم معیشت چلانے کے لئے امریکی اور عالمی بنک کی امداد کے منتظر رہتے ہیں۔ ہماری حکومتیں ان کی بھاری بھرکم شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ 2014 میں پاکستان نے چین کے ساتھ 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے حامل سی۔ پیک منصوبے کا آغاز کیا تھا۔ اس منصوبے کا آغاز کرنے والے کو کان سے پکڑ کر سیاست سے بے دخل کر دیا گیا۔ اس کے بعد قومی معیشت کا بھرکس نکال کر رکھ دیا گیا۔ آج اس نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر خوش آمدید کہا جا رہا ہے، جسے نہایت محنت اور منصوبہ بندی سے سیاست سے نکالا گیا تھا۔ خیال آتا ہے کہ اگر یہاں سیاسی اور معاشی استحکام قائم رہتا تو ملک کے حالات مختلف ہوتے۔ اللہ پاک ہمارے ملک پر رحم فرمائے اور امت مسلمہ پر بھی۔

مسلمان ممالک اسی قسم کے داخلی اور باہمی تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ کبھی ایران، یمن، سعودی عرب کے باہمی تنازعات دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کسی اور مسلمان ملک کے۔ تلقین ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں مت پڑو۔ مسلمان ممالک تفرقے میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں فلسطین کی مدد کیسے ہو سکتی ہے۔ لگتا ہے کہ فلسطینی اسرائیل کے رحم و کرم پر ہیں۔ نیتن یاہو جب چاہے گا، تب تک یہ جنگ اور بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جب اس کا دل بھر جائے گا۔ اس کے مقاصد پورے ہو جائیں گے، وہ یہ سلسلہ روک دے گا۔

جنگ کے ہنگام اسلامی سربراہی کانفرنس یعنی او۔ آئی۔ سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا تھا۔ اجلاس میں ایران نے مسلمان ممالک سے اپیل کی کہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ اس کے سفیروں کو ملک بدر کر دیا جائے۔ اسرائیل پر تیل کی بندش کی جائے۔ مگر ان عملی اقدامات کے لئے جرات مندی درکار ہوتی ہے۔ بہرحال اجلاس میں سلامتی کونسل کی مذمت کی گئی، جس میں روس کی قرارداد منظور نہیں ہو سکی تھی۔ اسرائیل کی مذمت کی گئی۔ اسرائیلی حملوں کی مذمت کی گئی۔ وغیرہ وغیرہ۔ ڈھیر ساری مذمتوں کے بعد اجلاس ختم ہو گیا۔ بات وہی ہے کہ امت مسلمہ اور اسلامی سربراہی کانفرنس میں جان باقی نہیں ہے۔ گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ اس ضمن میں سعودی عرب کا کردار اہم ہے۔ امریکہ کئی برس سے اسرائیل اور سعودی کو قریب لانے کے لئے کوشاں ہے۔ اسرائیل۔ فلسطین جنگ سے کچھ دن پہلے تک اطلاعات تھیں کہ دونوں ممالک کے مابین کوئی معاہدہ ہوا چاہتا ہے۔ اب اسرائیل فلسطین کے تناظر میں امریکہ ایک مرتبہ پھر متحرک ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان سے ملاقات کے لئے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی وزیر خارجہ کو گھنٹوں انتظار کروایا۔ اگلے دن ملاقات کی بھی تو اس میں غزہ میں ہونے والے ظلم کا تذکرہ کیا۔ مطالبہ کیا کہ امریکہ غزہ کا محاصرہ ختم کروانے اور فلسطینیوں کی امداد کی ترسیل کے لئے کردار ادا کرے۔ اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا منصوبہ بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان ممالک اتنے بھی بے بس نہیں ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ ممالک اتحاد و یکجہتی کے ساتھ دنیا کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں اور صحیح معنوں میں ایک امت بن کر اقوام عالم میں ابھریں۔ آمین

Facebook Comments HS