محنت میں عظمت- عوامی جمہوریہ چین کا آنکھوں دیکھا حال (3)
ہماری رہائش ہوٹل ہوابن انٹرنیشنل میں تھی۔ شاید پنج ستارہ، جس کے سامنے کھڑا ہو کر آپ اس کی آخری منزل کی اور دیکھیں اور آپ کے سر پر چمن کے اچکزئی یاقلات کے محمد شہی کی طرح ٹوپی ہو تو غالب گمان یہی ہے کہ ٹوپی گر جائے گی۔ دائرے میں گھومتا صدر دروازہ، جس کے اندر جائیں تو ایک بڑا ہال۔ ہال میں دائیں اور کو استقبالیہ، بائیں اور صوفے اور کرسیاں لگی ہیں جن سے آگے جا کر ہال کے آخری سرے پر بڑے کیفے اور ڈائننگ ہال کی طرف راستہ مڑ تا ہے۔ ہال کے دائیں کونے میں چھوٹی سی لابی جہاں لفٹ لگے ہیں اور اس سے پہلے ہوٹل کے اندر وائن شاپ۔ یہ ہوٹل دارالحکومت بیجنگ کے سب سے مہنگے اور مصروف علاقے میں زیڈان چوک پر ہے۔ تاریخی میوزیم، فاربیڈن سٹی اور تاریخی اہمیت کا حامل تیانمن سکوائر بھی یہاں سے قریب ہی ہے۔
تیانمن سکوائر جسے اردو میں ہم روانی میں تیامن سکوائر کہہ کر پکارتے ہیں عوامی جمہوریہ چین کی قدیم و جدید تاریخ کا منبع بھی کہلاتا ہے ایک طرف اس کی قدیم حیثیت دوسری جانب چیئر مین ماؤ کی بدولت اسے جدید چینی تاریخ میں ملنے والی اہمیت بعد ازیں وہاں رونما ہونے والے حالات و واقعات اس مقام کی اہمیت دو چند کر دیتے ہیں۔ تیامن سکوائر پندرہویں صدی عیسوی سے اہمیت کا حامل مقام ہے چینی تاریخ کے کئی اہم واقعات اس مقام سے جڑے ہیں۔
یہاں گریٹ ہال ہے۔ قومی قرار دیا گیا عجائب گھر بھی یہیں پر ہے، چین کے قومی ہیروز کا یاد گار بھی اسی سکوائر پر ہے مگر دو واقعات زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ایک یکم اکتوبر انیس سو انچاس میں جب ماؤزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا باضابطہ اعلان یہاں اسی اسکوائر پر کیا ماؤزے تنگ کا مقبرہ بھی یہیں پر ہے اور دوسرا بڑا واقعہ جس کے باعث اب چین میں عام طور پر آپ اسکوائر کا نام لیں تو آپ سے متعلق شکوک و شبہات جنم لینے لگتے ہیں کہ آپ کو اس میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟
جی ہاں تیامن اسکوائر کے وہ مظاہرے جس میں مظاہرین پر طاقت کا استعمال ہوا اس مقام کی اہمیت تو پہلے ہی تھی مرکزی مقام ہے جو مرکزی شہر اور دارالخلافہ کے مرکزی علاقے میں ہے پندرہ اپریل انیس سو نواسی میں کمیونسٹ پارٹی کے سابق جنرل سیکرٹری ہویاؤ بانگ کی موت کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مظاہرے بڑھتے گئے اور مرکزی مقام یہی سکوائر ہی تھا جہاں چار جون کو فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ان پر تشدد کیا اور سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔
یہاں جلسے جلوس کنسرٹس اور دیگر تقاریب بھی منعقد ہوتی ہیں سیاحت کے حوالے سے بھی اہم ہے فن تعمیر موسیقی اور آرٹ ہر حوالے سے قابل ذکر جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مگر افسوس کہ ہمارا جو پروگرام تشکیل دیا گیا تھا اس میں اس اہم مقام کی سیر شامل نہیں تھی۔ ہمارے بعض دوستوں نے اس حوالے سے منتظمین سے بات بھی کی لیکن جواب ملا کہ یہ ترتیب دیے گئے پروگراموں میں شامل نہیں۔ تاہم آپ چاہیں تو شیڈول میں شامل پروگراموں کے بعد ازخود وہاں جا سکتے ہیں۔
شدید تھکاوٹ سے چور ہم جب ہوٹل کی لابی میں پہنچے اور ابھی ہم نے کمروں میں چیک ان بھی نہیں کیا کہ میزبانوں کی جانب سے اگلے پروگرام کے اعلان نے ہمیں مزید تھکاوٹ کے احساس سے دوچار کر دیا۔
” آپ لوگوں کے پاس تین گھنٹے ہیں، فریش ہوجائیں اور ساڑھے بجے لابی میں آ جائیں“ ہر چند ہم نے کافی کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح آج کا پروگرام منسوخ ہو اور ہم پاکستان کی طرز پر سو کر اپنی تھکن اچھی طرح اتاریں لیکن یہ پاکستان تھوڑی تھا؟ میشل نے ہمارے اس مطالبے پر کہ ہم آج آرام کرنا چاہتے ہیں۔ سر ہلاتے ہوئے بتایا کہ ”یہ ممکن نہیں کیونکہ آپ کا پروگرام طے شدہ ہے۔ ہم نے چائنہ کی فارن منسٹری جانا ہے اب سے آپ کا شیڈول جو بھی ہے اس کے مطابق ہم چلیں گے اس میں رد و بدل نہیں ہو سکتا“ واقعی چین میں قیام کے دوران ہم نے نہ صرف اس بات کو عملی طور پر دیکھا کہ جو شیڈول طے ہے سب کچھ اسی کے مطابق ہونا ہے اور ہوتا رہا بلکہ ہم نے مجموعی طور پر بیجنگ اور دوسرے شہر چنتاؤ میں اس بات کا انتہائی عمیق مشاہدہ کیا کہ چین کا باشندہ بھلے کسی بھی مذہب پر یقین نہ رکھتا ہو لیکن وہ فطرت کے بعض قوانین پر انتہائی سختی سے عمل پیرا ہے۔
وقت کی پابندی سب سے پہلا جز ہے اسی طرح صبح سویرے سڑکوں اور کاروباری مراکز میں لوگوں کا جم غفیر، دوپہر کا ایک گھنٹے کا قیلولہ ( جو ہمیں پورے ہفتے نصیب نہیں ہوا ) مغرب اور عشاء کے بیچ رات کا کھانا، نو بجے بڑے بڑے مالز اور کاروباری مراکز کی پوری طرح بندش، چین کا بالکل نہ ہونے کے برابر استعمال، ان ڈور سموکنگ پر ہر جگہ پابندی اور آؤٹ ڈور جگہ جگہ بڑے بڑے ایش ٹریز کی تنصیب جہاں سگریٹ نوشی پر کوئی ممانعت نہیں۔
پینے کے لئے ٹھنڈے پانی کا استعمال بالکل ہی نہ ہونے کے برابر، ہم فرمائشی طور پر ٹھنڈا پانی منگواتے تو کمرے کے درجہ حرارت ( روم ٹمپریچر) سے ہم آہنگ پانی فراہم کر دیا جاتا، دسترخوان سجے تو اس پر بغیر چینی کے سبز چائے کی کیتلیاں، میں نے اور یار جان بادینی نے کوئٹہ کے سبز چائے کا نشہ بیجنگ اور چنتاؤ میں خوب اتارا۔ چینی جسے گرین ٹی کہہ کر پیش کرتے وہ دراصل ہمارے کوئٹہ کی ”شنے ترخے چائے“ تھے جسے یار جان بادینی کا بیلٹ ( قلات، رخشان اور مکران ڈویژن) ”ایرانی چاہ“ کہتا ہے مجھے نہیں پتہ کہ اس کی کیا افادیت ہے لیکن ہم لوگ یہ پیتے ہیں ہو سکتا ہے کہ ہاضمے کے لئے مفید ہو۔
ہم سب لوگ تھکے ہوئے تھے لیکن ایک آدھ ساتھی کو چھوڑ کر کوئی بھی سو نہیں پایا کیونکہ وقت ہی نہیں تھا۔ ہم وقت مقررہ پر ایک ایک کر کے لابی میں پہنچنے لگے۔ میں جس وقت لابی میں پہنچا تو میشل اور کیٹی وہاں ٹہل رہی تھیں اور ان کے چہروں کا تاثر یہی تھا کہ وقت پورا ہو چکا ہے مگر آپ لوگ ابھی تک تیار نہیں ہوئے۔ خیر اگلے چند منٹ کے بعد ہم کوسٹر میں تھے اور کوسٹر رواں دواں تھی چائنہ کے فارن آفس کی طرف۔
شہر کے بیچ شاؤیانگمن کے علاقے میں منسٹری آف فارن افیئرز آف چائنہ کی بڑی سی عمارت جس کے مین گیٹ پر پہنچ کر ہم چار سے پانچ سیکنڈز ہی رکے ہوں گے جس کے بعد گیٹ کھول دیا گیا۔ ہماری کوسٹر عمارت کے احاطے میں چند منٹ گھوم کر ایک عقبی عمارت کے سامنے رک گئی۔ کوسٹر سے اترے تو اکنامک ڈیلی کے ہیڈ اور فارن آفس کے دو اور افسران استقبال کے لئے کھڑے تھے۔ کسی سے معانقہ کسی سے مصافحہ کر کے ہم ان کی معیت میں آگے بڑھے۔
لابی سے گزر کے بڑے سے ہال کے ایک سرے پر دروازہ جس کے اندر جائیں تو ایک اور بڑا ہال نما کمرہ۔ دونوں طرف آمنے سامنے دس سے بارہ صوفے۔ صفوں کے پیچھے پندرہ بیس کرسیاں اور بائیں طرف دو اور بڑے صوفے ان کے بیچ تھوڑا سے پیچھے کی اور ایک اور نشست۔ میں نے بیٹھتے ساتھ ہی ارد گرد نگاہ دوڑائی۔ ابھی میں طرز عمارت کا جائزہ ہی لے رہا تھا جس سے سادگی میں وقار اور تمکنت ٹپ رہا تھا کہ بیک وقت دائیں اور بائیں دونوں دروازوں سے لوگ داخل ہونے لگے۔ دائیں دروازے سے شاید فارن افیئرز کے بعض افسر آئے تھے اور بائیں اور سے اسسٹنٹ منسٹر چائنہ نونگ رونگ اندر آئے۔ نونگ رونگ فرداً فرداً سب سے ملے۔ تعارف کے بعد وہ جا کر اپنی جگہ پر بیٹھے جن کے ساتھ پاکستان وفد کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر فرقان راؤ اور پیچھے کی نشست پر چائنیز ٹرانسلیٹر بیٹھ گئیں۔
پچپن سالہ نونگ رونگ کا نام پاکستان میں بھی بہت سے لوگ کافی عرصے سے سنتے آئے ہیں کہ وہ پاکستان میں چین کے سفیر رہ چکے ہیں۔
اپریل دو ہزار اکیس میں جب مسٹر نونگ رونگ کوئٹہ کے دورے پر تھے ایک ایسے وقت میں جب انہوں نے شہر کے ہوٹل آنا تھا کہ اسی دوران ہوٹل میں دھماکہ ہو گیا۔ سیکورٹی حکام اور اس وقت کے وفاقی اور صوبائی وزرائے داخلہ کے مطابق دھماکہ خود کش تھا اور جس وقت دھماکہ ہوا چینی سفیر ہوٹل میں نہیں تھے۔ نونگ رونگ رواں سال کے اوائل میں چین کے اسسٹنٹ منسٹر فارن افیئرز آف چائنہ متعین ہوئے۔ وفد کے ساتھ ان کی بات چیت پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک، چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو، پاک چین تعلقات کے گرد گھومتی رہی تاہم ہمارے بعض ساتھیوں نے ان سے سوالات بھی پوچھے جن کے انہوں نے فرداً فرداً اور نہایت تفصیل کے ساتھ جواب دیا۔
ہمارے ساتھی انگریزی میں سوال کرتے تو مترجم انہیں چائنیز میں بتاتیں اور پھر اسسٹنٹ منسٹر چائنیز ہی میں جواب دیتے جس کا مترجم پھر سے انگریزی میں ترجمہ کرتیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ نونگ رونگ کو انگریزی آتی ہے لیکن ان کی جانب سے چائنیز میں بات چیت میں ہم ایسے انگریزی کی غلامی میں جکڑے ذہنوں کے لئے بہت بڑا سبق پوشیدہ تھا، ہے اور رہے گا۔ (جاری ہے )


