ہم نصابی سرگرمیوں میں نظم خوانی کے مقابلوں کا کردار


حبیب ایجوکیشن ٹرسٹ کے زیر انتظام ’حبیب گرلز اسکول‘ اپنی نوعیت کا منفرد اسکول ہے۔ اپنے قیام 19 اگست 1964 سے لے کر تاحال اس اسکول نے ہزاروں طالبات کو نرسری سے بارہویں جماعت تک معیاری تعلیم کے ساتھ بہترین تربیت سے بھی فیض یاب کیا ہے۔ اسکول ہذا نے معاشرے میں خواتین کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں با اختیار بنانے اور جدید دنیا میں ترقی کی منازل طے کروانے کے لیے خود کو وقف کیا ہوا ہے۔

نصابی سرگرمیوں میں بھرپور توجہ کے ساتھ حبیب گرلز اسکول طالبات کی کردار سازی، قائدانہ صلاحیتوں میں نکھار اور کمیونٹی سروس پر بھی زور دیتا ہے۔ اسکول کا سازگار اور دوستانہ ماحول اپنی طالبات میں اعتماد، تنقیدی سوچ اور زندگی بھر سیکھتے رہنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

ہم نصابی سرگرمیاں طلبہ کے تعلیمی سفر کا ایک ناگزیر حصہ ہیں، جو انھیں معاشرے کے اچھے، کار آمد اور فعال افراد بننے سمیت ان کی ہمہ گیر شخصیت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیے) یہ سرگرمیاں نصابی کتب اور کمرۂ جماعت کے درس و تدریس سے آگے بڑھ کر طلبہ کو اپنی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو نکھارنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ اسی سلسلے میں حبیب گرلز اسکول نے پچھلے دنوں (26 ستمبر 2023) ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح پر مختلف اسکولوں کے طلبہ کے مابین اردو اور انگریزی زبانوں میں تحت الفظ نظم خوانی کا مقابلہ منعقد کروایا اور راقم کو اپنے مزید دو ساتھیوں فرحان خان اور ثنیہ صدیقی سمیت ان مقابلوں میں منصفین کا کردار نبھانے کے لیے مدعو کیا۔ اس مقابلے میں کراچی کے دس مختلف مشہور و معروف اسکولوں کے طلبہ نے حصہ لیا، جنھوں نے اس مقابلے کے لیے اردو اور انگریزی کے مشہور شعرا کی معروف منظومات کا انتخاب کیا تھا۔

اس پروگرام میں ثانوی سطح کے طلبہ کا آپس میں اور اعلیٰ ثانوی سطح کے طلبہ کا اپنی سطح پر ہی مقابلہ رکھا گیا تھا۔ مقررہ وقت پر انگریزی زبان میں فن خطابت کے مقابلوں سے پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ دونوں زبانوں میں طلبہ کی تیاری اور سٹیج پر آ کر حاضرین کے سامنے بہترین انداز میں الفاظ کی ادائی، درست لب و لہجے، زیر و بم کا خیال اور پر اعتماد انداز میں نظم خوانی نے سب کے دل موہ لیے۔ اس دوران راقم سر دھنتے ہوئے سوچنے لگا کہ اس سرگرمی سے طلبہ کو کیا فائدہ پہنچا ہو گا۔

کچھ مہارتوں نے ذہن پر دستک دینا شروع کی اور آج صفحۂ قرطاس پر آ گئیں۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

مواصلات کی مہارتیں : تحت الفظ نظم خوانی اور تقریری مقابلے مواصلات کی مہارت کو بڑھانے کے لیے بہترین پلیٹ فارم ہیں۔ ان مواقع سے طلبہ درست لب و لہجہ، آواز میں زیر و بم اور اپنے تاثرات کے بہتر اظہار کا فن سیکھتے ہیں، جو نہ صرف علمی بلکہ حقیقی زندگی کے مختلف حالات میں بھی اہم ہیں۔ ایسے مواقع سے طلبہ کو اپنے خیالات کو واضح طور پر بیان کرنے اور سامنے والے کو قائل کرنے کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔ یہ عملی زندگی میں ملازمت کے لیے انٹرویو سے لے کر عوامی خطابات تک مختلف مراحل کے اہداف سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایک ایسی مہارت ہے جو زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ان کے کام آ سکتی ہے۔

اعتماد میں اضافہ: عوامی تقریبات میں سامنے جا کر بات کرنا خوف زدہ ہونے والا تجربہ ہو سکتا ہے، لیکن تقریری یا نظم خوانی کے مقابلے ایک منظم ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں طلبہ بہ تدریج مجمع کے سامنے بات کرنے یا نظم سنانے کے حوالے سے اپنے خوف پر قابو پا سکتے ہیں اور خود اعتمادی پیدا کر سکتے ہیں۔ سامعین کے سامنے اشعار سنانے کا عمل ان کی خود اعتمادی کو تقویت پہنچاتا ہے۔ نظم خوانی سے طلبہ کا خود پر یقین بڑھ سکتا ہے اور شائستگی کے ساتھ لوگوں اور ان کے خوف کا سامنا کرنا آسان ہو سکتا ہے۔

تخلیقی اور جذباتی اظہار: نظم خوانی اظہار خیال کا ایک طاقت ور ذریعہ ہے۔ شاعری کرنے اور سنانے سے طلبہ اپنے جذبات سے جڑنا سیکھتے ہیں اور اپنے جذبات اور احساسات کو تخلیقی، دل چسپ اور فن کارانہ انداز میں پہنچانا سیکھتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کی جذباتی ذہانت بلکہ ان کی تخلیقی سوچ اور اظہار بیان میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

ادب اور ثقافت کی قدر: یہ مقابلے اکثر ادبا اور شعرا کے ادبی کاموں اور کلاسیکی نظموں کے گرد گھومتے ہیں۔ ادب کے ان حصوں کے ساتھ مشغول ہونا نہ صرف طلبہ کی ذہنی صلاحیت کو وسیع کرتا ہے بلکہ یہ ان کو ثقافت اور تاریخ کے بھی قریب لاتا ہے۔ اس سے انھیں ثقافتی طور پر زیادہ آگاہ اور ہم درد افراد بننے میں مدد ملتی ہے۔

دوسرے اسکولوں، اساتذہ اور طلبہ سے مربوط رابطے : ایسے پروگراموں میں کئی دوسرے اسکول، ان کے اساتذہ اور ان کے طلبہ کی شرکت سے بہت سارے طلبہ ایک دوسرے سے رابطے میں آ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں، مہارتوں اور علم سے ضرور کچھ نہ کچھ سیکھتے رہتے ہیں اور ایک مستقل روابط کا حصہ بن جاتے ہیں۔

ہمہ گیر شخصیت کی تشکیل: ادب سے لگاؤ اور گہرا مطالعہ، علمی محافل سے خطاب، اپنے جذبات کا اظہار اور حرکات و سکنات کے استعمال کا ہنر طلبہ کی ہمہ گیر شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسکولوں کی ذمہ داری طلبہ کو فقط درسی کتب تک محدود کر دینا نہیں ہوتا ہے بلکہ طلبہ کو مختلف سرگرمیوں کے مواقع فراہم کر کے ان میں پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارا جائے تاکہ ان کی شخصیت نکھر کر سامنے آ جائے۔

ہم نصابی سرگرمیاں طلبہ کی ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ حبیب گرلز اسکول نے اس پروگرام کا انعقاد کر کے یہ ثبوت دیا ہے کہ یہ سرگرمیاں طلبہ میں مواصلات کی مہارتوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی خود اعتمادی اضافہ کرتی، طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتی اور ثقافت اور ادب کی گہری سمجھ کو فروغ دیتی ہیں۔ نیز اس طرح کی سرگرمیوں میں فعال طور پر حصہ لے کر اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے تن دہی سے کام کرنے سے، طلبہ اپنی پوری صلاحیتوں کو جاننے کے بعد نکھار سکتے ہیں اور کمرۂ جماعت سے باہر بھی موجود اک وسیع دنیا کے اہداف کے لیے تیار ہونے والے اچھے افراد میں ترقی کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS