حماس کے اسرائیل پر حملے کی حقیقت
فلسطین کی مسلح تنظیم ”حماس“ کی جانب سے اسرائیل پر 5 ہزار میزائلوں سے ایک زبردست حملہ ہوا، جس کے ردعمل میں اسرائیل نے کارروائیاں (بمباریاں ) شروع کر کے حماس کے ٹھکانوں سمیت عوامی مقامات کو بھی کافی نقصان پہنچایا۔ دونوں جانب سے کارروائیوں میں متعدد افراد شہید اور بہت سے مارے گئے ؛ جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آئے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ: آخر کیا وجہ ہوئی کہ حماس نے یک دم اتنا بڑا اور مضبوط حملہ کر ڈالا، جس نے ہائی ٹیکنالوجی سے لیس (اسرائیل) جیسے ملک کو بھی کافی سخت وقعت دینے کے ساتھ ساتھ اس کے اتحادیوں کی بھی ناک میں دم کر کے ڈالا ہوا ہے۔
دراصل یہ کوئی روایتی یا غیر معمولی حملہ نہیں، بلکہ ایک غیر معمولی حملہ تھا۔ گزشتہ مہینے ہندوستان میں جی۔ 20 ممالک کا سربراہی اجلاس ہوا، جس میں آئی۔ مییک (انڈیا۔ مڈل ایسٹ۔ یورپ۔ اکنامک۔ کاریڈور) کے منصوبے پر دستخط ہوئے۔ یہ کوریڈور (راہداری) دراصل چائنہ کے ”ون بیلٹ۔ ون روڈ“ منصوبے کے مقابلے میں بنایا گیا ہے۔
یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ چائنہ سپر پاور بننے کے چکر میں ہے، جبکہ سپر پاور بننے کے لئے مضبوط معیشت کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے میں مضبوط سفارتی اور تجارتی تعلقات کا ہونا بھی لازمی ہے۔ ان سب کے حصول کے لئے چائنہ دن رات محنت کر رہا ہے اور مختلف منصوبوں پر کام کرتا ہے، جن کی وجہ سے امریکہ اور یورپی ممالک کافی پریشان ہیں ؛ کیونکہ چائنہ اپنے علاقے (ایشیا) میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، جبکہ چین کا یہاں اثر و رسوخ بڑھانے کا مطلب امریکہ اور یورپ کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔
اسی چیز کو دیکھتے ہوئے امریکہ اور یورپی یونین نے ’آئی۔ مییک‘ منصوبے کا سوچا کہ صرف اسی سے ہی چائنہ کے اس بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکا جاسکتا ہے۔ لہذا دہلی میں جی۔ 20 ممالک کے سربراہی اجلاس میں ممبر ممالک (ہندوستان، امریکہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، فرانس، جرمنی، اٹلی اور یورپی یونین) کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
یہ منصوبہ چونکہ انڈیا سے شروع ہو کر خلیج عرب (براستہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب) سے ہوتا ہوا اسرائیل اور یورپ تک جائے گا؛ لہذا سعودی عرب اور اسرائیل کو اس میں شامل کرنا بھی لازمی تھا۔ جبکہ سعودی عرب، اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور ان کی آپس میں نہیں بنتی۔ لہذا امریکہ نے اس حوالے سے سعودیہ سے بات شروع کردی کہ: آپ کو جو چاہیے ہم دینے کو تیار ہیں (یعنی اگر ’سول نیوکلیئر پروگرام‘ میں شمولیت چاہیے یا کوئی ڈیفینس سسٹم وغیرہ) ، لیکن اسرائیل کو تسلیم کر کے تعلقات بہتر بناؤ (کیونکہ آئی۔ میک کی کامیابی کے لئے دونوں ممالک کے مابین بہتر تعلقات کا ہونا لازمی تھا) ۔ یہی وجہ ہے کہ حال میں محمد بن سلمان کی جانب سے اسرائیل کے حوالے سے موقف میں نرمی دیکھنے کو مل رہی تھی اور تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے بھی بیانات سامنے آرہے تھے۔
ادھر ایران اور خاص طور پر فلسطین کو اپنی فکر لاحق ہوئی کہ ہمارا کیا ہو گا، کیونکہ سعودیہ کا اسرائیل کو تسلیم کرنا، دیگر مسلم ممالک کا اسرائیل کے لئے دل میں جگہ بنانے (تسلیم کرنے کے حوالے سے سوچنے ) کے مترادف ہو گا۔ لہذا حماس نے ایران کی مدد سے اسرائیل پر (ان کے مقدس دن پر) صبح سویرے ایک تابڑ توڑ حملہ کر کے سارا کھیل الٹا کر دیا۔ کیونکہ ایسے حالات میں کہ جب اسرائیل اور فلسطین کی جنگ ہو رہی ہو سعودیہ کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرنا مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کے مترادف ہو گا، اور ایسی باتیں کرنے سے مسلم دنیا کی جانب سے ایک زبردست اور مضبوط ردعمل سامنے آئے گا۔
دوسری جانب جب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہوئی ہے، تب سے آئی۔ مییک منصوبے پر کام بھی رکا ہوا ہے۔ لہذا اس موقع کو دیکھتے ہوئے چین اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور اپنے ون بیلٹ ون روڈ میں تیزی لانے کی کوشش کر رہا ہے


