سرکاری پیسہ اور سیاستدانوں کے نام
محترم فہیم زیدی صاحب نے ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس میں ایک سیاستدان کی تصویر کے ساتھ ایک خاصا بڑا اشتہار ہے انہوں نے سوال کیا ہے کہ اس پر کتنا خرچہ آیا ہو گا کیونکہ یہ اشتہار تقریباً تمام اخبارات میں دیا گیا ہو گا۔ اس کی پرائس تو معلوم نہیں ہاں یہ یاد ہے کہ جب گیلانی وزیراعظم تھے تو زلزلہ یا سیلاب فنڈ میں بینکس نے سرکاری ملازمین کی چند دن کی سیلری، عوام کے ڈونیشنز سے 25 کروڑ جمع کیے اور حکومت نے اس فنڈ میں پیسے اکٹھے کرنے کے لیے تمام چینلز اور اخبارات میں اشتہار چلوائے جن پر 28 کروڑ خرچہ آیا تھا۔ اس کو کہتے ہیں مال مفت دل بے رحم۔ کون سا ان کی جیبوں سے جاتا ہے۔ پیسہ تو ہمارا ہی ہوتا ہے۔
اور ایسا ہر بار ہوتا ہے۔ یہ سوکالڈ عوامی نمائندے ہر قدرتی آفت کے آنے پر زبردستی سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی ضبط کر لیتے ہیں ان کی ان علاقوں میں ڈیوٹیز بھی لگا دی جاتی ہیں اور عوام کو ان کی مدد پر ثواب کا درس بھی بڑے خشوع و خضوع سے دیتے ہیں مگر اپنی عیاشیوں میں کوئی کمی نہیں آنے دیتے۔ نہ ہی کوئی پیسہ دھیلا ان کے لیے دیتے ہیں ہاں ہمارے خرچ پر اپنی واہ واہ کے لیے ہیلی کاپٹرز میں ہوائی جائزہ لے کر افتتاحی تختیوں امدادی سامان پر اپنا نام ضرور لکھوا لیتے ہیں۔
شاید اس طرح وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سارا ثواب ان کے کھاتے میں چلا جائے گا اور عوام بھی ان کے ممنون ہوں گے۔ دل کی تسلی کو یہ خیال اچھا ہے غالب۔ ورنہ عوام اتنی باشعور ہو چکی ہے کہ ان کے ڈرامے منافقتیں اچھی طرح جان چکی ہے۔ سوائے ان کاٹھ کے الووں کے جو ان کو اپنا نمائندہ، پیر اور لیڈر مان کر شخصیت پرستی میں مبتلا ہیں۔
جب کبھی کوئی منسٹر یا حکومت ہمارے پیسے سے چھوٹا سا پل، اسکول، ہاسپٹل، سڑک کا ٹکڑا بنا کر اس پر اپنا نام لکھتا ہے، کسی سڑک ہاسپٹل، منصوبے وغیرہ کا نام اپنے یا اپنے آبا و اجداد کے نام رکھتا ہے تو میں سوچتی ہوں کتنا خرچہ کیا ہو گا ان سب کاغذات کو تلف کر دیا جاتا ہے جن میں اس کا نام پرانا ہوتا ہے اور نئے نام کے ساتھ اسٹیشنری اور تختیاں بنوائی گئی ہوں گی۔ کیا یہ عمل درست ہے؟ اگر یہ سب کام ان کے ذاتی پیسے سے بھی ہوں تب بھی ان کے نام لکھنا صحیح نہیں۔ اگر نام لکھنے ہی ہیں تو کیوں نہ ان لوگوں کے لکھے جائیں جنہوں نے پاکستان کے حصول کی جنگ لڑی۔ لیکن افسوس ان کے نام سے مختص جگہوں کو تبدیل کر کے اپنے ناموں سے منسوب کر دیا گیا ہے۔
اس لیے یہ قانون بنانا چاہیے کہ حکومتی اراکین کسی چیز کا نام اپنی پسند سے تبدیل نہیں کر سکتے نہ ہی کوئی تصویر، ہورڈنگ، بینرز وغیرہ بنوا سکتے ہیں نہ کوئی افتتاحی تختی۔ جب پیسہ سرکاری ہے تو نام بھی پاکستان کا ہی ہونا چاہیے۔ کیا خیال ہے آپ کا؟


