سلطانہ چاند بی بی

سلطانہ چاند بی بی: ہندوستان میں پہلی مسلمان خاتون حکمران، ملک عنبر: ایک حبشی غلام جس نے ہندوستان میں پہلی افریقی ریاست قائم کی، دکن کا تاج محل: جسے اورنگزیب نے اپنی بیوی کی یاد میں بنوایا
سولہویں صدی کے آغاز میں ملک احمد شاہ کی موت کے بعد ، ان کے بیٹے برہان جس کی عمر صرف سات سال تھی کو تخت پر بٹھایا گیا۔ اس کے بعد تخت کے لیے کئی جنگیں ہوئیں۔ اس دوران بیجاپور سلطنت کے ساتھ بھی لڑائی ہوئی۔ ان جنگوں میں مغل حکمرانوں نے بھی اس علاقے کو فتح کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ مغلوں کے حملوں کو روکنے میں چاند بی بی نام کی ایک خاتون کا ذکر ملتا ہے جو ریاست احمد نگر کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
جب تک چاند بی بی زندہ رہی مغل اس علاقے پر اپنے قدم نہ جما سکے۔ میرے علم کے مطابق سلطانہ چاند بی بی پہلی ہندوستانی مسلمان حکمران اور جنگجو تھیں۔ انھوں نے سلطنت بیجا پور اور احمد نگر کی حفاظت کے لیے مغلوں سے کئی لڑائیاں لڑیں۔ اس علاقے کی تاریخ میں انھیں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ وہ سلطانہ کا خطاب حاصل کرنے والی پہلی مسلمان خاتون ہیں۔ 1595 ء میں شہنشاہ اکبر کی مغل افواج کے خلاف احمد نگر کا دفاع کرنا بھی ان کا ایک اہم کارنامہ ہے۔
ملک عنبر: ایک حبشی غلام جس نے ہندوستان میں پہلی افریقی ریاست قائم کی
چاند بی بی کی موت 1600 ء میں ہوتی ہے جس کے بعد مغلوں نے احمد نگر فتح کر کے راجہ کو قید کر لیا لیکن ملک عنبر اور احمد نگر کے دیگر عہدیداروں نے مغلوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی۔ انھوں نے ایک اور شہر کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا اور ملک عنبر اس کا وزیر اعظم بنا۔ اس نے ایک نئے شہر کھڈکی بعد میں اورنگ آباد کی بنیاد رکھی اور اپنا صدر مقام اس نئے شہر میں منتقل کر دیا۔ یہ ملک عنبر کون تھا اور کہاں سے آیا تھا؟ یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے کہ کس طرح ایک حبشی غلام ہندوستان میں ایک ریاست کا حکمران بنا؟
ملک عنبر کے بارے عمر حامد علی نے ایک کتاب
Malik Ambar: Power and Slavery Across the Indian Ocean
کے نام سے لکھی ہے۔ عمر حامد علی لکھتے کہ ملک عنبر ایک افریقی غلام تھا جسے بغداد کے ایک تاجر نے خریدا تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کی اعلٰی فکری اور جسمانی صلاحیتوں کو پہچاننے کے بعد اس کا نام عنبر رکھا گیا۔ اسے کئی مرتبہ بیچا گیا اور اس کی وجہ اس کی اعلیٰ جسمانی اور دماغی صلاحیتیں تھیں۔ اس کا عرب مالک اسے ہندوستان لے آیا جہاں اسے ایک سابقہ حبشی غلام چنگیز خان نے خرید لیا جو احمد نگر سلطنت کے وزیر اعلی ٰکی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہا تھا۔
آقا کے انتقال کے بعد ملک عنبر کو اس کے آقا کی اہلیہ نے رہا کر دیا۔ آزاد ہونے کے بعد اس نے بیجاپور کے سلطان کی ریاست میں ملازمت شروع کر دی۔ اس کی قابل داد خدمات کے بدلے سلطان نے اسے ”ملک“ کا خطاب دیا۔ اس نے علاقے میں مغلوں کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے میں بے حد اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران اس نے ایک گھڑسوار دستہ تیار کر لیا جس کی تعداد سات ہزار کے قریب تھی۔ ایک وقت آیا کہ اس کی فوج میں دس ہزار حبشی اور دکن کے چالیس ہزار لوگ شامل تھے۔ میرے لیے اتنی بڑی تعداد میں حبشی لوگوں کا ہندوستان میں موجود ہونا ایک اچنبھے کی بات ہے۔
ملک عنبر نے اپنا دارالحکومت جنڈار سے کھڈکی منتقل کیا جس کی بنیاد اس نے خود رکھی۔ ملک عنبر کی وفات کے بعد اس کے بیٹے نے اپنے نام پراس شہر کا نام فتح پور رکھا جسے بعد میں شہنشاہ اورنگزیب نے اورنگ آباد میں تبدیل کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ملک عنبر دکن کے خطے میں گوریلا جنگ کا بانی ہے جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں مغل اس علاقے پر قبضہ نہ کر سکے۔ اس کی موت کے بعد خلد آباد میں اس کا مقبرہ بنایا گیا۔
میرے علم کے مطابق ہندوستان میں کسی بھی مغل بادشاہ کے نام پر یہ واحد بڑا شہر ہے۔ اورنگ آباد اس شہر کا تیسرا نام تھا جو اب تک برقرار ہے۔ مغل سلطنت کے کمزور ہونے کے بعد اس علاقے پر ریاست حیدرآباد کے حکمرانوں نے قبضہ کر لیا۔ 1960 ء میں یہ مہاراشٹرا کا حصہ بن گیا۔ اس شہر میں تیس فیصد سے زائد مسلمان آباد ہیں۔
دکن کا تاج محل: جسے اورنگزیب نے اپنی بیوی کی یاد میں بنوایا
بی بی کا مقبرہ اورنگ آباد، مہاراشٹرا میں واقع ہے۔ مغل بادشاہ اورنگزیب نے اسے 1660 ء میں اپنی بیوی بانو بیگم کی یاد میں شروع کیا۔ یہ مقبرہ اورنگزیب کی والدہ ممتاز محل کے مقبرے تاج محل سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔ اسی مماثلت کی وجہ سے اسے دکن کا تاج محل بھی کہا جاتا ہے۔ اس مقبرے کو عطا اللہ معمار اور ہنسپت رائے انجینئر نے مل کر بنایا تھا۔ عطاء اللہ، تاج محل کے پرنسپل ڈیزائنر استاد احمد لاہوری کے بیٹے تھے۔ اورنگزیب کے بیٹے اعظم شاہ نے بعد میں اسے مکمل کیا۔
رات کافی بیت چکی تھی اور میں تصور ہی تصور میں اپنے آپ کو اس علاقے میں محسوس کر رہا تھا۔ جیسے جیسے میں کتاب میں اس علاقے کی تفصیلات پڑھتا جا رہا تھا ویسے ویسے میرا اورنگ آباد دیکھنے کا شوق بھی زیادہ ہو رہا تھا لیکن ایسا کوئی موقع میسر نہیں آیا تھا۔ میرے تمام ساتھی گہری نیند سو رہے تھے۔ مجھ پر بھی نیند غالب آ رہی تھی۔ میرے احساسات اور جذبات کے ساتھ ساتھ مجھ پر یہ حقیقت بھی واضح ہو رہی تھی کہ ہندوستان کے جن علاقوں میں مسلمان بزور طاقت داخل ہوئے ان کے اکثر شہروں میں مسلمانوں کی آبادی دس سے بیس فیصد کے درمیان ہے جب کہ جنوبی ہندوستان کے کئی شہر ایسے ہیں جہاں تیس سے چالیس فیصد مسلمان رہتے ہیں۔ یہ سب جان کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جن لوگوں نے بھی اسلام کی تبلیغ کا کام اپنے اخلاق اور کردار کی مدد سے کیا ان علاقوں میں بہت سے مقامی لوگ مسلمان ہوئے۔




