اساتذہ پر درندوں کی طرح یلغار
کلاس روم سے انسان پاچ برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو والدین یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری کا بوجھ کس کے سر ڈالا جائے۔ والدین میں اتنی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ خود اپنی اولاد کو اس قابل بنا سکیں کہ وہ بہ بخوبی اپنی خاندانی اور سماجی زندگی گزارنے لائق ہو جائے۔ والدین کو اپنی اولاد سے توقعات بھی بڑی گہری اور حساس ہوتی ہیں کہ جن کی آس سوائے اولاد کے کسی دوسرے سے کرنا ممکن نہیں۔
لیکن دوسری طرف یہ اتنا بھی نہیں جانتے کہ وہ کیا انداز تعلیم اور تعلیم و تدریس کے وہ کون سے اصول اور قاعدے ہیں جو ان کے بچے کی ذہنی استعداد کے مطابق کارگر اور موثر ہو سکتے ہیں۔ اپنی اولاد کے بارے میں والدین کی جان کاری کی حالت تو یہ ہوتی ہے کہ ایک مدت تک بچے کی پرورش کرنے اور اس کے قریب رہنے کے باوجود بھی یہ اپنے بچے کی ان جسمانی اور دماغی کمزوریوں سے واقف نہیں ہوتے جو ایک ماہر استاد بچے کو ایک نظر دیکھتے ہی دریافت کر لیتا ہے۔
زندگی کے اس موڑ پر بچے کا شفیق باپ بے بس و لاچار ہوتا ہے اور بچہ بھی نہیں جانتا کہ دنیا میں اس کی حیثیت اور اس کا مقصد کیا ہے اور اسے کیسا ہونا چاہیے۔ لہذا سیانا سمجھ دار باپ اور ذہین فطین بیٹا دونوں کی عقل مفلوج ہو کر ناکارہ ہو جاتی ہے انسانی زندگی کا یہ ہی وہ نازک مرحلہ ہے جہاں ایک استاد کی اہمیت و منزلت ایک مسیحا کی مانند ابھر کر سامنے آتی ہے۔ بلا شبہ انسانی زندگی کا کوئی دور ایسا نہیں گزرا جب کسی باپ اور بیٹے کو اس مشکل وقت میں استاد کی ضرورت نہ پڑی ہو، وہ چاہے دور قدیم کے قیصر و کسری، مصر و روم کے تاج و تخت کے شہنشاہ ہوں یا آج کے حکمران ہوں یا پھر سماج کے عام شہری، بلکہ چاہے وہ بذات خود کوئی استاد ہی کیوں نہ ہو، کوئی ایک بھی انسان یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اپنی نسل اور خاندان کے روشن مستقبل اور بقا کے تحفظ کی ضمانت کے لئے وہ کسی نہ کسی استاد کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ ہوا ہو۔
ہر سال طالب علم ایک استاد سے علم و ہنر کا فیض حاصل کرتے ہیں اور پھر اگلی کلاس میں چلے جاتے ہیں اور استاد کے ساتھ ان کا تعلق منقطع ہو جاتا ہے۔ جانے والے طالب علم زندگی کی تیز دوڑ کے ہجوم میں گم ہو جاتے ہیں کلاس روم کے در و دیوار چھت اور کھڑکیاں کچھ بھی نہیں بدلتا خالی لیکن کلاس روم میں استاد اکیلا باقی رہ جاتا ہے۔ کوئی طالب علم اور کسی طالب علم کا باپ کبھی نہیں جان پاتا کہ اس کے دل پہ کیا گزرتی ہے اور خالی کلاس روم میں استاد اپنی کرسی پر ایک بے جان وجود کی طرح گرتا ہے اور اپنے شکستہ اور دکھی دل کے ساتھ اپنے رنجیدہ چہرے پر محرومی اور ناکامی کی مسکراہٹ کے ساتھ کف افسوس سے اپنے ہاتھ ملتا ہے۔
وہ ہی استاد جو اپنے بے شعور شاگردوں پر بڑی محنت سے اپنے وسیع تجربات و مشاہدات سے ان کی عمدہ ذہنی اور جسمانی نشو نما کے لئے ان کے رجحانات ان کی دلچسپیوں ان کی ذہنی خامیوں اور خوبیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور پھر اپنی تحقیق کی روشنی میں اپنے مخصوص انداز تدریس سے انہیں مختلف قاعدوں، اصولوں، ضابطوں کے علم و ہنر کی تعلیم دیتا ہے۔ ان کو تہذیب، شرافت، انسانیت، صداقت، اپنی ذات، اپنی خودی کی تکمیل سے آشنا کرتا ہے اور سماج کے مطلق جاہل اور ناکارہ افراد کو سماج اور خاندان کے لئے قابل فخر اور کامیاب شخصیت میں بدل دیتا ہے۔
وہ اپنے شاگردوں پر محنت تو کرتا ہے لیکن یہ اس کی بدنصیبی ہے کہ اسے اپنی محنت کا صلہ نہیں مل پاتا۔ یہ کبھی نہیں جان پاتا کہ اپنے جس شاگرد پر اس کبھی کسی وقت بڑی محنت کی تھی اس کے بے معنی وجود کو معنویت دی تھی وہ کہاں ہے کیا ہے؟ اس کی محنت کا کیا بنا؟ یقیناً استاد کا یہ دکھ اس دکھیاری ماں کا دکھ ہے جس کا جوان بیٹا کہیں نہ معلوم مقام پر مارا جاتا ہے اور وہیں دفنا دیا جاتا ہے اور بدنصیب ماں اپنے مرے ہوئے بچے کا منہ دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوتا۔
یہ ہی بد نصیبی استاد کی بھی ہے اور ہر عظیم استاد کا یہ ایک ایسا خواب اور ایسی حسرت ہے جو کبھی پوری نہیں ہوتی۔ شاید ہی دنیا کا کوئی مخلص اور ایماندار استاد ایسا ہو جس کے دل کو اس دکھ نے کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کر ڈالا ہو۔ کتنا عجیب مذاق قدرت اور کس قدر مقام حیرت کہ نسل انسانی کی بقا کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرنے والا مسیحا اس مرحلے پر ایک ایسے مظلوم کے طور پر سامنے آتا ہے کہ زندگی کی ہر آسائش اور آسودگی بھی اس کے دکھ کے سامنے ہیچ دکھائی دیتی ہے اور اس کے دکھ کا مداوا کرنے سے معذور اور کنارہ کش رہتی ہے۔
جس طرح ایک جاہل اور حیوان نما ابن آدم کو شرافت انسانیت کی راہ پہ ڈالنے کا عظیم کام کے لئے قدرت نے محض استاد کو ودیعت کیا ہے اسی طرح اپنی محنت کے صلے سے محروم رہنے کا دکھ بھی دنیا کی اس واحد ایک ہستی کے نصیب میں لکھ ڈالا ہے۔ لیکن گلہ قدرت سے نہیں بلکہ ریاست اس حکمران سے بھی نہیں جس نے کبھی کسی استاد کے قدموں کی چاپ سن کر کلاس روم میں منہ پر چپ سادھ لی تھی۔ لیکن اب جب چونکہ وہ ریاست کے با اختیار منصب پہ بیٹھ چکا ہے تو اپنی بے لگام خود غرضی اور مغروریت کے ہاتھوں قابل تعظیم استاد کی زندگی کو اجیرن اور مفلس کرنے کا فرمان جاری کرتا ہے بلکہ استاد کے شریفانہ پر امن احتجاج کے حق کو بھی اپنی خود غرضی کی توہین سمجھتا ہے اور حالت غضب میں بپھرے ہوئے جلاد کی طرح استاد پر ظالمانہ تشدد سے اپنی خود غرضی کی تسکین بھی چاہتا ہے۔
ریاست کی انتظامیہ حرکت میں آتی ہے اور وردی میں ملبوس اور ہتھیاروں سے لیس سپاہی جتھوں کی صورت نہتے استاد پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہوتا جس نے کبھی استاد کی تعظیم میں سر نہ جھکایا ہو۔ ان سب نے کبھی تعظیم شرافت اور احترام انسانیت کے ترانے پڑھے تھے۔ لیکن اب ان جنونیوں کے حلق سے غیر انسانی سفاک خونخوار درندوں کی آوازیں نکلتی ہیں یہ نہتے استادوں کو گھورتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں ایک سیدھا استاد کے گریبان پہ ہاتھ ڈالتا ہے اور پکڑ کے جھنجھوڑتا ہے دوسرا کمر پہ لات مارتا ہے کوئی چہرے پہ تھپڑ مارتا ہے، کوئی استاد کو سر کے بالوں سے پکڑتا ہے اور اٹھا کر زمین پہ پٹک دیتا ہے استاد درد سے کراہتا ہے۔
لیکن کسی کا ضمیر نہیں جاگتا اتنے میں ایک طیش سے بپھرا ہوا جنونی سپاہی استاد کے سر پہ لاٹھی سے وار کرتا ہے اور استاد کا چہرہ بیچ چوراہے پر لہو لہان ہوجاتا ہے اور پھر یہ سپاہی درد اور تکلیف سے کراہتے ہوئے نیم جان استاد کو اٹھا کر پولیس وین میں ڈال کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ پنجاب کی دھرتی کانپ اٹھتی ہے لیکن پنجاب پھر بھی چپ چاپ اپنے استاد کی ذلت اور بے عزتی کا تماشا سر عام دیکھتا ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ اتنا ظلم سہنے کے باوجود بھی استاد کا گلہ کسی سے بھی نہیں حکمران وقت سے بھی نہیں، کیونکہ گلہ تو انسانوں سے ہوتا ہے اور پھر آپ ہی ایمانداری سے بتائیے کہ استاد پر درندوں کی طرح چڑھ دوڑنے والوں میں کوئی ایک بھی انسان تھا کیا؟


