سٹوری پارٹ 5
صبح سویرے سے ہی لوئر بار نہر کی پٹری پر صفائی اور مرمت کے لئے تاحد نگاہ محکمہ انہار کے نہری باوردی بیلدار اور درمیان میں ذرا مختلف وردیوں والے تار بابو جو کہ آج نگرانی کے امور انجام دے رہے تھے۔ اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ چالیس فٹ چوڑی لوئر بار نہر حالیہ تاریخ کے عقلی معجزات میں سے ایک۔ جس نے پنجاب کو بدل کر دکھا دیا تھا۔ آج اس نہر پر پن بجلی کے منصوبے پر ڈپٹی کمشنر صاحب کی بیگم صاحبہ کا دورہ تھا۔
جس میں منٹگمری سے رینالہ تک سواری نے نہر کنارے ہی آنا تھا اور جانا تھا۔ جس کے لئے آج تیاری کی جا رہی تھی نہر کے کنارے کے ساتھ سنتری تھے۔ جو کہ اس بات کو یقینی بنا رہے تھے کہ کوئی کالا بندہ پٹڑی پر قدم نہ رکھے۔ قریب دس بجے ڈی سی کی بگھی میں بیگم صاحبہ کا جلوس کوٹھی سے برآمد ہوا اور ہائی سٹریٹ سے ہوتا ہوا۔ نہر کی پٹری پر چڑھا اور پھر پندرہ میل کا سفر کرنے رینالہ پن بجلی گھر کی طرف رواں دواں ہوا۔ نہر کے کنارے پر ضلع کے متفرق محکمہ جات کے ملازمین کی کثیر تعداد موجود تھی۔
روز فلاور مین کی بگھی کے آگے اور پیچھے درجن درجن گھوڑ سوار محافظ دستہ اور دو درجن ذاتی ملازمین کی سواری تھی۔ بگھی کے گھوڑ سوار محافظ دستہ کے آگے جھنڈا بردار تھا۔ جس نے یونین جیک کو تھاما ہوا تھا۔ راستہ میں برج والا کے مقام پر بیگم صاحبہ کو پھول و تحائف پیش ہوئے اور وہ بارہ بجے کے قریب پن بجلی کے مقام پر پہنچی۔ روز فلاور مین نے دیسی انجنیئر کے بنائے پن بجلی کے منصوبہ کو دیکھا اور دل ہی دل میں حیران ہوئی۔
——————————-
ثانی اور موہن نے آج بھگت سنگھ کا دکھ سانبھا کرنے کے لئے شام کو کلب میں نشست کرنے کا سوچا۔ شام جب موہن کلب جانے کے لئے گھر سے نکالنے لگا تو اس کی بہن موہنی نے بھی ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کی۔ لیکن موہن نے اس کو ٹال دیا۔ موہنی نے فٹ جا کر کا مہتاب کور کو کہا کہ میں نے بھی ساتھ جانے ہے۔ اس نے مہتاب کود کے کہنے پر اس کو دوبارہ سمجھایا کہ آج نہ جائے۔ لیکن وہ بضد رہی اور ان کے ساتھ سوار ہو کر رہی۔ خیر دونوں تانگے میں سوار کلب گئے۔
کلب کے لان میں دور سے ہی انہوں نے ثانی کو دیکھ لیا۔ موہنی کو اس نے الگ میز کی طرف اشارہ کیا اور خود جا کر ثانی کے پاس بیٹھا۔ فالسہ کا شربت بیرے نے فوراً میز پر رکھا موہن نے ثانی سے کہا کہ ہمیں ہے ہر حال بھگت سنگھ کا بد لہ لینا چاہیے۔ موسم بہار اپنے اختتام پر تھا۔ لان کے اطراف پھولوں کی اک اپنی ہی بہار تھی۔ ہلکی ہلکی ہوا ہوا چل رہی تھی۔ ثانی نے اس کو ٹالنے کے لیے کہا یار اتنا اچھا موسم ہے۔ چھوڑ بدلہ شالہ کو۔
زندگی ایک دفعہ ملتی۔ اس کو کیا ان چکروں میں ضائع نہ کرو۔ موہن کو حیرانی ہوئی۔ یہ آدمی صرف عہدہ ملنے سے بدل گیا۔ بہر حال ہمیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہو گا۔ موہن نے کہا۔ اس کو ثانی نے ٹالنے کے لئے کیا ٹھیک ہے کچھ کریں گے۔ پھر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ اس دوران ان کو وہی پرانا انگریز جو ان کو ٹرین میں ملا تھا نظر آیا۔ اس نے بھی ان کو غور سے دیکھا اور ان کی طرف آ گیا اور بولا: ہائے! میں نکلسن ہو۔ کیسے ہو تو لڑکیوں؟
ثانی نے احتراماً اس کو بیٹھنے کا کیا جو کہ وہ تھوڑا تکلف کر کے بیٹھا گئے۔ پھر ان سے تعارف کیا اور پھر لان پر نظر ڈال کر موہنی کے بارے میں سوال کیا موہن نے و جواب دیا کہ میری بہن ہے۔ لیکن ان دونوں نے اس بات کو بے حد ناگوار محسوس کیا۔ لیکن وہ چپ کر گئے۔ نکلسن بھی بہانہ کر کے وہاں سے اٹھ گیا اور موہنی کے میز کے قریب سے گزرتے ہوئے۔ اس کو دیکھ کر مسکرا اور دوسری میز پر جا کر بیٹھا گیا لیکن بار بار اس کی جانب دیکھا رہا۔
مین اور ثانی نے اس بات کو محسوس کیا کہ یہ انگریز بوڑھا تو پیچھے ہی پڑ گیا ہے۔ ٹائی نے کہا کہ بھگت سنگھ کے بدلہ میں کیا اس کو نہ سبق سیکھا دیا جائے۔ اس کو تو بالکل بھی کسی چیز کا خیال نہیں۔ نکلسن کچھ دیر بیٹھا کر لان سے اندر ہال میں چلا گیا۔ لیکن موہن نے ثانی کو دوبارہ کہا یار نکلسن کو سبق دینا ضروری ہے۔ ثانی کا ابال ختم ہو چکا تھا۔ اس نے موہن کو کہا کہ ”یار چھوڑ باقی مذاقاً کہا کے چلو کسی دن اس کو راستہ میں ڈرتے ہیں۔ یہ ویسے ہی مہنگری چھوڑ کر بھاگ جائے گا۔ موہن کو اس بات پر غصہ آیا۔ اس نے روز سے کہا“ یار ثانی میں اس کو سیدھا نہ کرو تو پھر کہنا۔ یہ سن کر کلب کے بیرے بھی بھا گئے ہوئے ان کی طرف آئے اور انہوں نے بھی یہ سن لیا۔ لیکن ثانی نے مسکرا کر اس بات کو ٹال دیا


