نشئی اور پاکستان


مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف تین سال گیارہ ماہ کی مفروری کے بعد بالآخر پاکستان پہنچ گئے، اس سے قبل ”کالعدم“ تحریک انصاف کے مفرور یا غائب ہونے والے رہنما جوق در جوق عوام کے سامنے آرہے ہیں، پہلے جیل کی یاترا کرنے والے پریس کانفرنس کر کے ”کالعدم“ تحریک انصاف سے لاتعلقی کا اعلان کرتے تھے جس کے بعد وہ سکون کی زندگی گزار رہے ہیں

چند دنوں سے نیا طریقہ اپنایا گیا ہے جس میں مفرور رہنما کسی من پسند بڑے چینل پر معروف اینکر کو انٹرویو دیتے چیئرمین تحریک انصاف کے ”کالے کرتوت“ آشکار کرتے نظر آئے ہیں، ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ بیوروکریٹ ریٹائر اور سیاستدان کڑا وقت آنے پر ”سچ“ بولنے لگتے ہیں جب تک ان کو سرکاری مراعات دستیاب رہتی ہیں ان کو کوئی برائی نظر نہیں آتی نہ ہی ان کو حرام کی بو آتی ہے بس جیسے ہی اچھا وقت گزرتا ہے ان کا ضمیر جاگ جاتا ہے اور وہ سچ اگلنے لگتے ہیں

جو پاکستان کی سیاست کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ملک میں کسی بھی جماعت کو حکومت میں لانے اور نکالنے والے کون ہیں، یہاں آج کے دشمن کل کے دوست اور کل کے دشمن آج کے دوست بن جاتے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال نواز شریف ہیں، نواز شریف کو جب 2017 ءمیں نا اہل قرار دیا گیا تو انہوں نے بہت واویلا مچایا ”مجھے کیوں نکالا“ ، آج وہ پھر ڈارلنگ بن گئے ہیں

ڈارلنگ بھی ایسی کی جس کی ایک ایک ادا پر اس کا عاشق مر مٹتا ہے اور اس کی ہر خواہش کو پوری ضرور کرتا ہے، اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا، 73 سالہ بوڑھی ڈارلنگ کی فرمائش پر قانون میں گنجائش نہ ہونے کے باوجود حفاظتی ضمانت دی گئی جب ڈارلنگ کی فرمائش ہو تو قانون کی کیا اوقات رہ جاتی ہے، اچھا ہوا میاں صاحب آ گئے اب مہنگائی ختم ہوگی کیونکہ ان کے بھائی کی سولہ ماہ کی حکومت نے مہنگائی اس لئے آسمان پر پہنچا دی تھی تاکہ وڈے میاں صاحب آئیں اور وہ خود مہنگائی کو نیچے لائیں

فیصل آباد کے کاروباری افراد کا بہت معروف واقعہ ہے، ان کاروباری افراد کی تربیت کا انداز ہی نرالا ہوتا ہے، کسی سے رقم لینی ہو تو سب سے چھوٹے بیٹے یا بھائی کو بھیجا جاتا ہے جو جاکر تڑیاں شڑیاں لگاتا ہے اور دھمکی دیتا ہے میں تو رعایت کر رہا ہوں، رقم نہیں دینا تو وڈے میاں صاحب نوں بلا لئے، واقعہ یوں ہے ایک ٹرینر تاجر کی شادی ہوتی ہے اور وہ حجرہ عروسی میں جاکر دلہن سے سلام دعا کرتا ہے اور کہتا ہے کنڈ (گھونگھٹ) چک لو، دو، تین بار کہنے پر دلہن شرماتی رہتی ہے کہ دولہا کنڈ خود چکے مگر ٹرینر تاجر کو سمجھ نہیں آتی تو چوتھی بار وہ غصے میں کہتا ہے کہ کنڈ چکو گے کہ وڈے میاں صاحب آ کے چکن (گھونگھٹ اٹھائیں گی کہ بڑے میاں صاحب آ کر اٹھائیں ) موجودہ صورتحال بھی ایسی ہی ہے کہ نکے میاں جی نے مہنگائی اتنی زیادہ کردی کہ وڈے میاں صاحب آ کر مہنگائی کو نیچے اتاریں گے اور پھر نعرے لگیں ”میاں دے نعرے وجنے نے“

خیر بات ”کالعدم“ تحریک انصاف کی ہو رہی تھی، ان پر زمین تنگ کردی گئی، گزشتہ روز بھی لاہور میں یوتھ کنونشن پر پولیس نے دھاوا بول دیا کئی گرفتار کرلئے، سوال یہ ہے کہ اس طرح کسی بھی جماعت کو آپ تباہ کر سکتے ہیں، بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد آمر جنرل ضیاء نے اسی طرح جیالوں پر زندگی حرام کردی تھی، کئی شہید کر دیے گئے، کئی جیلوں میں ڈال دیے گئے، کئی کو اپاہج بنا دیا تھا مگر آج 50 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی عوام کے دلوں سے بھٹو نہیں نکالا جا سکا، اسی لئے شاید ضیاء کے وارثان خوفزدہ ہے اور وہ پیپلز پارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ کئی دہائیوں سے نہیں دے رہے کیونکہ ان کا منشور ہی یہی ہے کہ عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں

جتنی تیزی سے اسٹیبلشمنٹ کی بھٹی میں تحریک انصاف پکا کر تیار کی گئی تھی اتنی تیزی سے اس کو ختم کرنا ممکن نہیں، عمران خان کا طرز حکومت اور طرز سیاست پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کا بدترین اور مکروہ دور تھا جس نے پاکستان کو اتنا نقصان پہنچایا جس کا خمیازہ عوام مزید دس سے پندرہ سال تک بھگتیں گے، 63 فیصد نوجوانوں کی اکثریت اب بھی چیئرمین تحریک انصاف کے ساتھ ہے، اس عمر میں آپ ان پر جتنا زور آزمائیں گے وہ اتنے ہی پختہ اور مضبوط ہوں گے اس لئے ملک کو چلانے کے لئے ہر سیاسی جماعت کو کھلا موقع دینا چاہیے کہ وہ الیکشن میں اپنا اپنا منشور عوام کے سامنے رکھیں اور عوام جسے چاہے منتخب کرے

چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ جن کو انہوں نے اتنے بڑے بڑے عہدوں سے نوازا وہ وقت پڑنے پر کیسے بھاگ نکلے، عثمان بزدار جیسے گھگو گھوڑا جس کو کوئی جانتا تک نہیں تھا اس کو سب سے بڑے صوبے پنجاب کی سرداری دیدی، جو ویران پہاڑوں کا سردار تھا اسے آدھے ملک کا سردار بنا دیا، جیسے ہی سرداری ختم ہوئی عثمان بزدار تب سے ایسے غائب ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ، اس سے بہتر تو پرویز الہی رہا جواب تک کھڑا ہے

”کالعدم“ تحریک انصاف کو ختم کرنے کے لئے آئے روز پریس کانفرنسز اور ٹی وی انٹرویوز چل رہے ہیں، دو روز قبل چیئرمین پی ٹی آئی کے اتحادی شیخ رشید نے بھی انٹرویو دیدیا اور 40 روز کا چلہ کاٹنے کا بھی بتایا، اس سے مجھے 80 ءکی دہائی میں معروف اداکارہ، کامیڈین معین اختر کی کیسٹ کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے

واقعہ یوں ہے کہ ایک نشئی کنویں کے کنارے بیٹھا گنتی گن رہا تھا، 25، 25، 25، ایک شخص قریب سے گزرتا ہے اور رک کر کہتا ہے کہ آگے بھی گنو، 26، 27، 28 مگر نشئی پھر زور سے کہتا ہے کہ 25، 25، وہ شخص پھر کہتا ہے کہ یار 26، 27، 28، مگر نشئی پھر یہی نعرہ لگاتا ہے 25، 25، وہ شخص غصے سے کہتا ہے کیا گن رہے ہوتو نشئی جواب دیتا ہے خود دیکھ لو، جیسے ہی وہ شخص کنویں میں دیکھنے کے لئے جھکتا ہے تو نشئی اس کی ٹانگ پکڑ کنویں میں پھینک دیتا ہے اور کہتا ہے 26، 26

یہ ڈرامہ 2104 میں میاں صاحب کے خلاف ہی شروع کیا گیا تھا جس سے ان کے لئے حکومت چلانا محال ہو گیا تھا، اب سب کچھ بدل گیا ہے، میاں صاحب آ گئے ہیں، گنتی والا کھیل اب بند کر دیں، سب الیکشن کی طرف جائیں اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان کریں، پاکستان اور اس کے عوام میں 75 برسوں میں بہت کچھ جھیل لیا ہے اب ان میں سکت نہیں رہی۔

Facebook Comments HS