خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان
کیا لوگوں کی سوچ مفلوج ہو گئی ہے؟ یا ہم نے سوچنا چھوڑ دیا ہے؟ یا ہم سوچنا ہی نہیں چاہتے؟ ہم بات کرنا کیوں نہیں چاہتے؟ بات کرنے سے ہی بات بنتی ہے۔ مسائل کا حل نکلتا ہے۔ آج مین ایک میں پاکستان می بڑھتے ہوئے خودکشی کے رجحان پر بات کرنا چا ہوں گی۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے شاید ہی دنیا کا کوئی ملک محفوظ ہو۔ کہیں کم تو کہیں زیادہ لیکن مسئلہ ہے ضرور۔ بعض ممالک میں یہ مسئلہ کسی بحران سے کم نہیں۔ دی انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار سوسائیڈ پریوینشن کے مطابق ”ہر 45 سیکنڈ میں اس کرۂ ارض کے کسی حصہ میں کوئی شخص اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں ختم کر لیتا ہے۔ یوں ہر سال دنیا بھر میں 7 لاکھ 3 ہزار افراد خودکشی کرتے ہیں“ ۔
پاکستان کی ہل چل سے بھرپور گلیوں میں ایک پرسکون بحران آ رہا ہے۔ 49۔ 241 سے زائد آبادی پر مشتمل یہ قوم دینا کا تیرہواں سب سے بڑا ملک ہو نے کا درجہ رکھتی ہے لیکن پھر بھی یہ ایک پریشان کن حقیقت اور خود کشی جیسے مسئلے سے دو چار ہے۔ ایک ایسا ملک جو انتہائی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا جہاں کی ثقافت اور روایات پوری دنیا میں مشہور ہیں وہیں اس ملک مین خودکشی کے اعداد و شمار ایک سنگین تصویر پیش کر رہے ہیں۔ ڈبلیو ایچ۔ او کی رپورٹ کے مطابق پاکستان خودکشی کے اعتبار سے دنیا میں سولہویں نمبر پر آ چکا ہے جن میں ٪ 3۔ 13 آدمی اور 4۔ 3 فیصد عورتیں شامل ہیں۔
تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مین 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں خودکشی موت کی چوتھی بڑی وجہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ عمر کا وہ گروپ جسے امید، صلاحیت اور موقع کی علامت ہونا چاہیے اس دل دہلا دینے والی حقیقت سے دو چار ہے۔
خودکشی کا سبب کیا ہے؟
ہر سال اتنے لوگ اپنی زندگی کا خاتمہ کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ غربت کی وجہ سے ہے؟ بے روزگاری؟ رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ؟ یا یہ ڈپریشن یا دیگر سنگین ذہنی امراض کی وجہ سے ہے؟ کیا خود کشیاں کسی زبردست عمل کا نتیجہ ہیں؟ یا وہ الکحل یا منشیات کے ناکارہ اثرات کی وجہ سے ہیں؟ ایسے بہت سے سوالات ہیں لیکن کوئی آسان جواب نہیں۔ کوئی ایک عنصر اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ ایک شخص خودکشی سے کیوں مرتا ہے۔ خودکشی کا رویہ ایک پیچیدہ رجحان ہے جو حیاتیاتی، جینیاتی، نفسیاتی، سماجی، اقتصادی، ماحولیاتی اور حالات کے عوامل کے تعامل سے متاثر ہوتا ہے۔
پاکستان میں خودکشی کا مسئلہ خاص طور پر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں دباؤ ڈال رہا ہے، جہاں ذہنی صحت کے لیے وسائل اکثر کم ہوتے ہیں۔ پاکستان اپنے پیچیدہ سماجی و اقتصادی منظر نامے کے ساتھ اس زمرے میں آتا ہے۔ عالمی سطح پر خودکشی کے 77 فیصد واقعات انہی ممالک میں ہوتے ہیں۔
چند عمومی وجوہات
خودکشی کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں اور ہر فرد کی صورت حال اور معاشرتی سیاق و سباقات مختلف ہوتی ہیں، لیکن چند عمومی وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں :
1۔ ذہنی اور نفسیاتی مسائل: افراد جن کے پاس انگلیوں میں کسی قسم کی ذہنی یا نفسیاتی مسئلے ہو سکتے ہیں، جیسے کہ ڈپریشن، باؤلر ڈسارڈر، اور شخصیتی اضطرابات۔
2۔ زندگی کی پریشانیاں اور دباؤ: مالی مشکلات، خاندانی تنازعات، عشقیاتی رشتوں کی بحرانی حالت، اور دوستوں کے ساتھ مسائل وغیرہ۔
3۔ اسلامی نکات یا دھارمک مسائل: عقائدی یا دھارمک مسائل بھی کسی کو خودکشی کی راہ میں دکھا سکتے ہیں۔
4۔ ریاستی سطح پر معاشرتی مسائل: جیسے کہ عدالتیں نیکلنے کی مسئلے، زیادہ تشدد اور نا انصافیت کا محسوس کرنا۔
5۔ بے روزگاری اور روزگاری کے مسائل: بے روزگاری، مالی کر یزیز، یا مزید بڑھتی معیشتی مشکلات خودکشی کی وجہ بن سکتی ہیں۔
6۔ تنہائی اور عذلت: شدید تنہائی اور عذلت کا محسوس کرنا بھی کسی کو خودکشی کی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔
7۔ شراب یا مخدرات کا استعمال: افراد جو شراب یا مخدرات کا مسئلہ رکھتے ہیں، ان کا معاشرت میں جذبہ بھی متاثر ہوتا ہے۔
8۔ خاندانی تارکین و اناجی زندگی: خاندانی تارکین اور اناجی زندگی کی وجہ سے بھی کسی کو خودکشی کا انجام دینے کی تشخیص ہو سکتی ہے۔
یہاں دھیان دینا ضروری ہے کہ ہر صورت حال مختلف ہوتی ہے اور ہر فرد کی صورت میں وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔
مسئلے کا حل
خودکشی کو روکنے کے لئے ہمیں اپنے کردار کو ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ اگر ہمارے اردگرد کے لوگ کسی بھی وجہ سے دباؤ اور تشویش کا شکار ہیں، تو ہم ان کی مدد کس طرح کر سکتے ہیں۔ عموماً، ایک مثبت رویہ انہیں الجھنوں سے نکال کر نجات دے سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال بھی لوگوں میں ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ ہمیں خود بھی اس کا استعمال محدود کرنا چاہیے اور اپنے دوستوں اور عزیزوں کو یہ سمجھانا چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کو اپنے لیے ایک ایسی عادت نہ بنائیں جس کے استعمال کی وجہ سے ان کا ذہن بہت سے مسائل کا گھر بن جائے۔
ذہنی امراض اور خودکشی جیسے مسائل پر ہم سب مل کر قابو پاتے ہوئے ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر ہمیں خودکشی کے مسائل کا حل بہتری کے لئے ہمیں جماعتی سطح پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلے تو ہمیں اس ذہنی اور نفسیاتی مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی، اور مضبوط اور دلائلی علاؤ کی بنائی کرنی ہوگی تاکہ لوگ اپنے دباؤ، اضطرابات اور تناؤ کو صحیح طریقے سے سمجھ سکیں۔ دوسرا، خودکشی کے امکان کو کم کرنے کے لئے عوامی تعلیم اور شعور افزائی منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو اپنی مشکلات کا حل تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔
تیسرا، سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کی ترویج کرنا ضروری ہے تاکہ لوگوں کی روحانی صحت بہتر رہے اور ان کی توجہ غیر مناسب موضوعات پر نہ جائے۔ اسی طرح، ماہرین صحت اور دانائی کو مشورہ دینے کی ترویج کرنی چاہیے تاکہ لوگوں کو ذہنی صحت کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں مدد ملے۔ ان تمام اقدامات کے ترکیب سے ہم ایک صحت مند معاشرتی اور روحانیتی ماحول تکمیل کر سکتے ہیں جس میں ہر فرد اپنی زندگی کو بہتر اور مثبت انداز میں گزار سکے۔


