انتخابات: کون کتنے پانی میں
نواز شریف آ چکے ہیں اور آتے ہی پاکستانی میڈیا پر چھا گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف نے ایک زبردست پاور شو کیا ہے جس میں موجود لوگ مکمل طور پر چارجڈ اور نواز شریف سے جڑے ہوئے تھے۔ مخالفین کی شدید نفرت کے شکار نواز شریف سے لوگ گہری محبت بھی رکھتے ہیں اور اس کا مظاہرہ جلسے میں نواز شریف کی تقریر کے دوران بار بار ملا۔ اب آگے کیا ہو گا؟
پاکستانی سیاست درون خانہ کیا کیا ہنگامے لئے ہوئے ہے، ہم جیسے رہ گزر کے چراغوں کو اس کا کوئی اتا پتہ نہیں۔ کوئی کچھ بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔ نواز شریف نے بھی الیکشن کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ یا کم از کم مہینے کی بھی بات نہیں کی ہے لیکن ہم فرض کر لیتے ہیں کہ آئندہ چند مہینوں میں الیکشن ہوتے ہیں تو کس کو کیا ملنے کا امکان ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب میں نواز شریف کا ایک تگڑا ووٹ بینک موجود ہے، لوگ ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی جماعت کے پاس الیکشن مہم بالخصوص الیکشن ڈے کی منیجمنٹ کا وافر اور کثیر تجربہ موجود ہے۔ پی ایم ایل این کے پاس پیسے کی بھی کوئی کمی نہیں۔ قبضہ مافیا اور جرائم پیشہ افراد کا پیسہ بھی اس جماعت میں بہت ہے لہذا الیکشن مہم کے دوران پیسہ خرچنے کا کوئی مسئلہ ایم ایل این کے راستے میں حائل نہیں ہو گا۔ نواز شریف کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کی ڈارلنگ بن کر واپس آنا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے نالاں لوگوں کو نواز شریف کس طرح اپنے ساتھ رکھتے ہیں، یہ ان کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہے۔
پیپلز پارٹی جب سے مرکز میں اپنی افادیت کھو چکی ہے، مسلسل اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ نواز شریف حکومت کے دوران پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر بلوچستان حکومت تبدیلی ہو یا سینیٹ چیئرمین کے لئے پی ٹی آئی کے ساتھ اکٹھ، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اچھا بچہ بننے کے لئے تیار ہے۔ محبت کی یقین دہانی کا یہ سلسلہ پی پی نے تب بھی برقرار رکھا جب اسٹیبلشمنٹ کو پی ٹی آئی حکومت سے نجات مقصود تھی۔
پی ایم ایل این اور جے یو آئی کو عدم اعتماد کے ذریعے حکومت تبدیلی پر راضی کرنے اور رکھنے کے پیچھے زرداری صاحب ہی کی جادوگری تھی جس کا واحد مقصد اسٹیبلشمنٹ کی حمایت اور اعتماد حاصل کرنا تھا۔ پیپلز پارٹی کے پاس پیسے کی کبھی کوئی کمی نہیں رہی اور الیکشن مہم کے دوران پانی کی طرح پیسہ بہانا اس کے لئے کوئی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ صرف اور صرف یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اگر چہ تھوڑی بہت کرم فرمائی کی ہے لیکن اس شدت اور تعداد کے ساتھ الیکٹیبلز کو پیپلز پارٹی میں نہیں دھکیلا جس کی پیپلز پارٹی کو امید تھی لہٰذا پیپلز پارٹی کو فی الحال سندھ پر ہی گزارا کرنا پڑے گا، بلاول بھٹو کا وزیراعظم بننا ابھی ممکن نہیں۔
پی ٹی آئی بیچاری زخم دینے کی کوشش میں آج کل اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے باعث لوگوں کی ایک کثیر تعداد آج بھی پی ٹی آئی کے ساتھ منسلک ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ سیاسی جماعت کم اور فین کلب زیادہ ہے۔ اس جماعت سے وابستہ ووٹرز کے لئے عمران خان کے سوا بقیہ لیڈران میں کوئی کشش نہیں اور عمران بیچارہ جیل میں پڑا بے بس ہے۔ نفرت کی سیاست کے بل بوتے پی ٹی آئی نے اپنا ووٹ بینک کافی بڑھایا ہے لیکن یہ کاؤنٹر پروڈکٹیو بھی ثابت ہوا ہے اور آج کل موسم اس کے نقصانات اٹھانے کا ہے۔
جنرل پاشا کی نظر کرم کے بعد پی ٹی آئی کو اس بات کا بخوبی احساس ہوا ہے کہ پاکستانی سیاست میں پیسے کی کتنی اہمیت ہے۔ ہر جائز و ناجائز ذریعے سے الیکشن کے لئے پیسہ جمع کرنے کے بعد یہ جماعت جب پہلے کے پی کے اور بعد میں کے پی کے کے علاوہ پنجاب اور مرکز میں حکومت میں آئی تو شروع دن سے اگلے انتخابات کے لئے پیسے کا بندوبست کرنے میں لگ گئی۔ ممبران اسمبلی کو کھلی آزادی تھی کہ پیسے بناؤ لیکن الیکشن مہم کے دوران اپنے خزانوں کے منہ مسلسل کھلے رکھنے ہوں گے۔
پنجاب میں بزدار حکومت میں انتظامی اور مالی معاملات میں فرح گوگی اور دیگر کے ذریعے خوب مال بنایا گیا۔ معاملات بگڑے لیکن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایک انار سو بیمار والی صورتحال پیدا ہوئی تو ٹکٹ کے بدلے بڑی بڑی رقوم حاصل کی گئیں۔ یہ پیسے کہیں پڑے سستا رہے ہوں گے لیکن شومئی قسمت کہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سینگ پھنسانے کے بعد پیسہ تو بہ فضل خدا بہت ہے اور اس کو الیکشن میں استعمال بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اس کو کارآمد بنانے کے امکانات کم ہیں۔ آج کل پچھلے چار پانچ سال میں اپنی دولت میں ہزاروں گنا اضافہ کرنے والے پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کے لئے سر گرم ہیں کہ اڑان اور اونچی ہو۔ پچھلے دنوں ایک ستم ظریف نے پی ٹی آئی کے ایک امیدوار کے متعلق ایک جملہ بولا کہ کوئی عہدہ نہ ہونے کے باوجود ارب پتی بن گیا ہے تو جب عہدہ ملے گا تو کیا کیا گل کھلائے گا۔
جہانگیر ترین کی پارٹی کے لئے بھی پیسہ کوئی مسئلہ نہیں، جہانگیر ترین اور علیم خان اکیلے ہی کافی ہیں، ان کے علاوہ اس پارٹی میں موجود اسٹیبلشمنٹ کے مہروں کے لئے وسائل کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے لہذا یہ لوگ بھی پیسے کے زور پر الیکشن کی رونق بڑھائیں گے اور پنجاب اور قومی اسمبلی میں چند نشستوں کے ساتھ اپنی حاضری لگوائیں گے۔
جے یو آئی ف کے متعلق قوی امکان ہے کہ کے پی کے میں اپنا وزیراعلی لے آئے، بلوچستان میں بھی حکومت میں شریک ہوگی۔ جے یو آئی میں پیسے والے بہت ہیں اور اس پارٹی کے کارکن اور چندے اس کا بڑا اثاثہ ہیں۔ جے یو آئی الیکشن میں اپنا رنگ جمائے گی۔
نگران سیٹ اپ تقریباً باپ پارٹی کا ہی ہے اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ کا اس کے سر پر ہاتھ ہی اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ الیکشن جمے گا تو بلوچستان میں باپ پارٹی بھی الیکشن مہم میں اپنے رنگ بکھیرے گی۔
کے پی کے کی حد تک اے این پی بلور خاندان اور الیکشن لڑنے والے امیدواروں پر تکیہ کرتی ہے۔ اس پارٹی کے مڈل کلاس لیڈران جیسا کہ میاں افتخار اپنے ساتھیوں کی مدد سے الیکشن اخراجات پورے کرتے ہیں اور جہاں تک نظر آنے کی بات ہے، اے این پی کی الیکشن مہم زیادہ دلکش نہ صحیح نظر ضرور آتی ہے۔
جماعت اسلامی اخلاقی سیاست کا علم بلند کیے ہوئے لگ بھگ ایک سال پہلے ہی اپنے زیادہ تر حلقہ جات مڈل کلاس امیدواران کے سپرد کر چکی ہے۔ یہ لوگ ہلہ گلہ کریں گے، اصولی سیاست کی بات ہوگی، نعریں لگیں گے اور الیکشن کے دن بارہ بجے تک ان کے ماتھے لٹک جائیں گے، شام کو اپنے گھروں اور حجروں میں بیٹھ کر اپنے زخم چاٹیں گے اور الیکشن اخراجات کا حساب کتاب کر کے اداس ہوں گے۔ صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں اگر کھل ملا کر یہ پندرہ سولہ لوگ لے جائیں گے تو ہارنے والے امیدواروں اور جماعت کے ووٹرز سپورٹرز کے چہرے تھوڑے کھل اٹھیں گے اور انقلاب کی امید دلوں میں ژندہ رکھے اگلے الیکشن کا انتظار کریں گے۔
بات لمبی ہو گئی ہے۔ کہنا یہ مقصود تھا کہ انتخابات صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی سرگرمی بھی ہوتی ہے۔ اس کے سماجی پہلو پھر کسی دن لیکن آج بتانا مقصود یہ تھا کہ دولت کے انبار رکھنے والی پارٹیاں اور افراد جب عوام کے پاس جاتے ہیں تو معاشی سرگرمیاں فعال ہوتی ہیں۔ ان کی بے تحاشا دولت کا کچھ حصہ چند دنوں کے لئے عوام کے سامنے آتا ہے تو بہت سارے لوگ کا روزگار چمک اٹھتا ہے۔ جن کا کوئی روزگار نہیں ہوتا انہیں بریانی اور قیمے والے نان اور ہمارے پختونخوا میں چارسدوال چاول (موٹے چاول) جلسہ گاہوں تک کھینچ لاتے ہیں۔


