جمہوریت کے دو قدم


ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشت امکاں کو نقش پا پایا
۔ غالب

سیاست کے دشت میں جمہوریت کا ایک قدم رنجہ فرمانے کی روایت تو عرصے سے چلی آ رہی ہے مگر امکان کی اس دنیا اور تمناؤں کی بھیڑ میں دوسرا قدم کہیں کھو گیا ہے۔ سمت کے تعین اور تلاش کو بامراد بنانے لیے لازمی ہے کہ دوسرے قدم کا نقش پا ملے۔

ملک خداداد پاکستان میں خلق خدا جیون کے سہاروں کو ترس رہی ہے۔ حیات گراں اور موت ارزاں دکھائی دے رہی ہے۔ خط غربت سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں کسی سیاسی و غیر سیاسی رہنما کی آمد پر خوشی کے شادیانے بجانے کی روایت تاریخ کا تسلسل ہے خصوصاً جب وہ نجات دھندا کے روپ میں وارد ہو رہا ہو۔

سوالات مگر پھر بھی بدستور تشنگی کا احساس لئے جواب طلب ہیں۔ جمہور اور جمہوری قیادت تاریخ کا سبق سیکھنے میں دیر کیوں کرتے چلے جا رہے ہیں؟ بیمار ہوئے جس کے سبب، اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے کی روایت کب تک جاری رہے گی؟ چہروں کی تبدیلی سے عوام الناس کو طفل تسلیاں کب تک دی جاتی رہیں گی اور پوشیدہ کرداروں کی خفیہ کارروائیاں کب اور کیسے ختم ہو سکتی ہیں؟

جمہوریت میں انتخابی عمل پہلا قدم ہوتا ہے جو دشت امکاں میں خوش حالی کے خواب دکھاتا ہے۔ اس خواب کی تعبیر کا امکان دوسرے قدم پر ہوتا ہے جہاں منتخب قیادت نشان راہ پاتی، عوامی اعتماد پر پورا اترتی ہوئی انہیں ترقی و خوش حالی کی منزل کی طرف گامزن کرتی ہے۔

وطن عزیز میں سیاسی قیادت پہلے قدم پر لڑکھڑاتی، بھٹکتی اور دھوکہ کھاتی آئی ہے جب کہ دوسرے قدم پر غیر سیاسی قوتوں کے ہاتھوں شکست کھاتی چلی آ رہی ہے۔ عوام بے چارے ہر بار چکمہ کھاتے ہوئے فراز کے اس شعر کا مصداق ٹھہرتے ہیں ؛

آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے

غریب عوام کی تمناؤں اور خواہشات کا قتل عام ہوتا ہے۔ مستقل اور مستحکم ریاستی نظام، عارضی حکومتی نظام کو غیر مستحکم اور انجام کار رخصت کر دیتا ہے۔

حضرت اقبال سے معذرت کے ساتھ۔
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

یوں ایک پاؤں پہ کھڑی ہماری جمہوریت پشت کے بل گرتی ہوئی گھوڑوں کی سموں کے نیچے مسلی، روندی اور کچلی جاتی ہے۔ ایک طویل مدت تک اکھاڑ پچھاڑ کا دور چلتا ہے جس میں آندھیاں اور بگولے راج کرتے ہیں۔ عوام قنوطیت کے عالم میں صرصر کو صبا، ظلمت کو ضیاء اور بندے کو خدا لکھنے پر مجبور کیے جاتے ہیں۔

پھر کوئی جالب گلی گلی جبر کے احوال کو سر اور ساز دیتا، مزاحمت کا استعارہ بنتا ہے تو کوئی فیض کسی فیض سے پوچھ رہا ہوتا ہے ؛

دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت
درباں کا عصا ہے کہ مصنف کا قلم ہے
جس دھجی کو گلیوں میں لیے پھرتے ہیں طفلاں
یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا علم ہے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments