ایک پراسرار کائنات: کیا مادہ توانائی میں تبدیل ہو سکتا ہے؟
پچھلے دو مضامین میں، میں نے آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے کچھ ناقابل یقین نتائج پیش کیے ۔ تاہم، سب سے زیادہ مشہور اور انقلابی نتیجہ یہ ہے کہ فزکس کی سب سے مشہور مساوات E=mc^2 کے مطابق توانائی اور کمیت کو ایک دوسرے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یہ اس مضمون کا موضوع ہے۔
آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت سے وابستہ سب سے انقلابی تصور یہ ہے کہ مادہ توانائی میں اور توانائی مادے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہ ہزاروں سال پرانے اس نتیجے کے بر خلاف ہے جس کے مطابق مادے کی شکل ایک کیفیت سے دوسری کیفیت میں تو تبدیل ہو سکتی ہے مگر اس تبدیلی میں مادے کی کل مقدار ساکت رہتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک کلوگرام پانی کو گرم کیا جائے تو بھاپ بن جاتی ہے اور اگر ٹھنڈا کیا جائے تو برف بن جاتی ہے۔ مگر بھاپ اور برف کا وزن ایک کلو گرام ہی رہے گا۔ بظاہر کوئی ایسا طریقہ نہیں جس میں مادے کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکے یا کسی اور ہیئت میں تبدیل کیا جا سکے۔
یہی صورت حال توانائی کے ساتھ تصور کی جاتی تھی۔ انیسویں صدی کے آخر تک جانے والے قوانین فطرت کے مطابق توانائی شکل تو بدل سکتی ہے لیکن کل توانائی کی مقدار وہی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک پتھر کو اونچائی سے پھینکا جائے تو اس میں مخفی توانائی کی مقدار جو اس کی اونچائی سے وابستہ ہوتی ہے، کم ہوتی جاتی ہے جبکہ جیسے جیسے اس پتھر کی اونچائی کم ہوتی جاتی ہے، اس کی رفتار بڑھتی جاتی ہے۔ اس طور حرکت سے وابستہ توانائی بڑھتی جاتی ہے۔ یوں اونچائی سے وابستہ توانائی حرکت سے وابستہ توانائی میں تبدیل ہوتی رہتی ہے مگر اس طرح کہ کسی بھی وقت کل توانائی مستقل رہتی ہے۔ اس دوران پتھر کی کمیت میں بھی کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہوتی۔
انیسویں صدی کے اختتام پر یہ ایک تسلیم شدہ قانون فطرت تھا کہ کسی بھی عمل میں، توانائی کی ایک شکل کو توانائی کی دوسری شکل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن کل توانائی وہی رہتی ہے۔ اسی طرح یہ ایک طے شدہ بات تھی کہ مادے کی مقدار ایک جیسی رہتی ہے۔ آئن سٹائن نے جو دکھایا وہ یہ ہے کہ توانائی اور مادہ ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس طور مادہ اور توانائی کے انفرادی تحفظ سے وابستہ قوانین برقرار نہیں رہتے۔ آئن سٹائن کے نئے قانون کے مطابق مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں، مگر کسی عمل میں مادہ کے مساوی توانائی اور توانائی کا مجموعہ تبدیل نہیں ہوتا۔
یہ ایک انقلابی دریافت تھی جس کی بدولت بیسویں صدی کو ایٹمی صدی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس عہد ساز دریافت کے نتائج کے بارے میں، میں اس مضمون کے آخر میں بات کروں گا۔
لیکن پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تصور کو کیسے سمجھیں کہ مادہ اور توانائی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؟
یہ کیسے سمجھیں کہ مادہ توانائی میں تبدیل ہو سکتا ہے اور توانائی مادے میں؟
یہاں میں ایک سادہ تجربے کے ذریعے اس انقلابی نظر یہ کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔
پہلے ایک بند ڈبے پر غور کریں۔ تصور کریں کہ ڈبے کے اندر بائیں جانب ایک بھرا ہوا پستول ہے جو ایک ٹائمر سے منسلک ہے۔ ایک خاص وقت پر، پستول سے ایک گولی نکلتی ہے جو دائیں طرف سفر کرتی ہے۔ جس وقت گولی چلائی جاتی ہے، ڈبہ بائیں طرف حرکت کرتا ہے۔ یہ حرکت نیوٹن کے اس قانون کے مطابق ہے جس کے تحت ہر عمل کے لیے ایک مساوی اور مخالف ردعمل ہوتا ہے۔ گولی دائیں دیوار سے ٹکرا کر اس میں پیوست ہو جاتی ہے۔ پورے عمل کے دوران ڈبہ بند رہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ گولی کے وزن کے برابر کچھ مادہ بائیں سے دائیں طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ چونکہ ڈبے پر کوئی بیرونی قوت نہیں ہے، اس لیے ڈبے کا مرکز اسی مقام پر رہتا ہے جہاں گولی چلنے سے پہلے تھا۔
اب یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ اگر کسی سالڈ چیز میں مادہ بائیں سے دائیں طرف منتقل ہو تو اس چیز کا مرکز دائیں طرف چلا جائے گا۔ لیکن اگر ہم کہیں کہ مرکز حرکت نہیں کرتا اور ساکن ہے، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ دہ چیز بائیں طرف حرکت کر جائے گی۔
اب چونکہ ڈبے کے اندر مادہ کسی بیرونی قوت کے بغیر بائیں سے دائیں منتقل ہو گیا ہے اس لئے مرکز دائیں طرف حرکت کر تا ہے اور نتیجتاً ڈبہ بائیں طرف حرکت کرے گا۔
میکانکس کے نیوٹن سے وابستہ قوانین کو استعمال کرتے ہوئے اس پورے تجربے کی مکمل وضاحت کی جا سکتی ہے۔
آئن سٹائن کی گہری بصیرت اسی تجربے پر غور کرنا تھی جس کو ابھی بیان کیا گیا ہے، لیکن انہوں نے تصور کیا کہ ایک بھاری بھرکم پستول کی بجائے، ڈبے کے اندر بائیں جانب ایک فلیش لائٹ بلب ہے۔ ایک خاص وقت پر، بلب جلتا ہے اور دائیں طرف روشنی کا سگنل بھیجتا ہے۔ اس وقت ڈبہ بہت چھوٹی طاقت کے ساتھ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ صورت حال ایسی ہی ہے، جیسے تصویر کھینچتے وقت فلیش گن کے فائر ہونے پر کیمرہ پیچھے کی طرف حرکت کرتا ہے۔ روشنی کا سگنل دائیں طرف سفر کرتا ہے اور کاغذ کے سیاہ ٹکڑے میں جذب ہو جاتا ہے۔
آئیے دلیل کی خاطر مان لیتے ہیں کہ پہلے تجربے میں گولی کا حجم اتنا کم ہے کہ دونوں صورتوں میں ڈبے کی بائیں طرف حرکت یکساں ہے۔ اب آئن سٹائن نے یوں استدلال کیا کہ اگر ہم ڈبے کے اندر نہیں دیکھ سکتے، تو ہم دونوں تجربات میں فرق نہیں کر سکتے۔ ہم نہیں جان پائیں گے کہ ڈبے نے کیوں حرکت کی۔
کیا پستول کی گولی کے برابر مادہ بائیں سے دائیں منتقل ہوا ہے، یا روشنی کے سگنل (جس میں کمیت نہیں ہوتی بلکہ صرف توانائی ہوتی ہے ) نے بائیں سے دائیں سفر کیا ہے؟
اس انتہائی سادہ مثال سے آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ مادے (پستول گی گولی) اور توانائی (روشنی کے سگنل) میں فرق نہیں۔ یہ سادہ تجربہ توانائی اور مادے کے تعلق کی طرف لے جاتا ہے۔ اسی تجربے کے تفصیلی تجزیے کی بنیاد پر آئن سٹائن نے بیسویں صدی کی سب سے مشہور مساوات E=mc^ 2 تشکیل دی۔
اس مساوات میں E توانائی کی مقدار ہے جبکہ m کمیت کے برابر ہے اور c روشنی کی رفتار یعنی تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہ مساوات ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح چھوٹی سی کمیت بہت زیادہ توانائی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
توانائی کی مساوات کا ایک اہم اور ناقابل یقین نتیجہ یہ ہے کہ شے کی کمیت رفتار کے ساتھ بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ کوئی چیز جتنی تیزی سے حرکت کرتی ہے، اتنا ہی بھاری محسوس ہوتی ہے۔
اس عجیب نتیجہ کو سمجھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جب شے حرکت نہیں کر رہی ہوتی ہے اور ساکن ہوتی ہے، تو اس میں کچھ کمیت ہوتی ہے جسے ہم ’rest mass‘ کہتے ہیں۔ اگر شے حرکت کر رہی ہو تو اس میں حرکت سے وابستہ توانائی کی ایک خاص مقدار ہوتی ہے جسے kinetic energy کہتے ہیں۔ شے کی رفتار بڑھنے کے ساتھ حرکت سے وابستہ اس توانائی میں اضافہ ہوتا ہے۔
لیکن اضافیت کے قانون کے مطابق توانائی مادے کے مساوی ہوتی ہے۔ اس طور حرکت سے وابستہ توانائی، مادے کی مخصوص مقدار کے برابر ہوتی ہے۔ اس طرح ایک حرکت کرتی ہوئی شے میں مادے کی مقدار دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے ؛ ایک حصہ تو وہ ہوتا ہے جو ساکن حالت میں موجود ہوتا ہے، اور دوسرا حصہ اس توانائی کے مساوی مادے پر مشتمل ہوتا ہے جو اس شے کی حرکت سے وابستہ ہوتا ہے۔
یوں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایک ساکن شخص کے لئے مستقل رفتار سے حرکت کرتی ہوئی چیز کی کمیت اسی چیز کی ساکن حالت میں کمیت سے زیادہ ہوتی ہے۔
جیسے جیسے رفتار بڑھتی جاتی ہے، حرکت سے وابستہ توانائی بڑھتی جاتی ہے، اور اس توانائی کے مساوی کمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ اس چیز کی کل کمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ آئن سٹائن کے نظریات کے مطابق جب کوئی چیز روشنی کی رفتار سے حرکت کرتی ہے تو اس کی کمیت لامحدود ہو جاتی ہے۔
اب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ آئن سٹائن کی اس اہم دریافت سے، جس کے مطابق مادہ اور توانائی دو علیحدہ چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ ممکن ہونا چاہیے کہ مادہ توانائی میں اور توانائی مادے میں تبدیل ہو سکے، کس طور استفادہ کر سکتے ہیں۔
یہ انسانیت کی بد قسمتی ہے کہ انسانی سوچ سے وابستہ اتنی شاندار دریافت تباہ کن ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم جیسی ایجادات کا باعث بنی۔ اب میں اس بات کی وضاحت کر تا ہوں کہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے اس اہم نتیجے کی بنیاد پر ایٹم اور ہائیڈروجن بموں کی ساخت کو کس طرح سمجھا جا سکتا ہے۔
ایٹم بم میں جو اصول کار فرما ہے اس کو سائنسدان fission کا نام دیتے ہیں۔ اس پراسس میں جب ایک چھوٹا ذرہ، نیوٹران، بھاری نیوکلیس، مثلاً یورینیم یا پلوٹونیم، سے ٹکراتا ہے، تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ اہم دریافت یہ تھی کہ ان تقسیم شدہ حصوں میں مادے کی مقدار اوریجنل نیوکلیئس میں مادے کی مقدار سے کم ہوتی ہے۔ باقی ماندہ مادہ آئن سٹائن کے دریافت کردہ اصول کے مطابق توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ توانائی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس پراسس میں مزید نیوٹران پیدا ہوتے ہیں جو بہت سے دوسرے نیوکلیس کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں اور مزید نیوٹران بھی پیدا کرتے ہیں۔ اس طور ایک chain reaction شروع ہو جاتا ہے جو اتنی توانائی پیدا کرتا ہے جو دنیا میں موجود کسی اور بم سے زیادہ تباہی لا سکتا ہے۔ ایٹم بم بنانے کے لیے یورینیم یا پلوٹونیم کی ایک کم سے کم مقدار کی ضرورت ہوتی ہے، جس کو critical mass کہا جاتا ہے۔ اس سے کم مقدار کی موجودگی میں chain reaction قائم نہیں رہ سکتا۔
ایٹم بم کے مقابلے میں ہائیڈروجن بم میں جس عمل سے استفادہ کیا جاتا ہے وہ fusion کہلاتا ہے۔ ہائیڈروجن ایٹم کے مرکز میں صرف ایک پروٹون ہوتا ہے۔ جب ایک ہائیڈروجن ایٹم کو بڑی قوت اور طاقت سے دوسرے ہائیڈروجن ایٹم سے ٹکرایا جائے تو دونوں نیوکلیس ایک دوسرے میں فیوز یا مدغم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک نیا نیوکلیس بنتا ہے جس میں دو پروٹون جمع ہوتے ہیں۔ اس عمل سے ایک ہیلیم نیوکلیس وجود میں اتا ہے۔ اس ہیلیم نیوکلیس میں مادے کی مقدار دونوں ہائیڈروجن ایٹم کے مادے کے مقابلے میں کم ہوتی ہے اور یہ مادہ توانائی میں تبدیل ہوتا ہے اور بہت سی توانائی خارج ہوتی ہے۔ ہائیڈروجن بم کی یہ توانائی ایٹم بم کی توانائی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لیے ہائیڈروجن بم کی تباہی و بربادی ایٹم بم سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ سورج سمیت سب ستاروں کی روشنی اور توانائی کا سبب یہی فیوژن پراسس ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ سورج اور ستاروں میں ہر لمحہ لاکھوں ہائیڈروجن بم پھٹ رہے ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ اربوں سال سے چل رہا ہے اور اربوں سال تک چلتا رہے گا۔ کئی ارب سال بعد ایک دن ایسا بھی آئے گا جب سورج کے مرکز میں موجود ساری ہائیڈروجن ہیلیم میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس وقت یہ توانائی پیدا کرنے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ سورج تاریک اور ٹھنڈا ہو جائے گا اور آہستہ آہستہ ایک نیوٹرون ستارے میں ڈھل جائے گا۔
1950 کی دہائی میں سائنسدانوں نے یہ دریافت کیا کہ اگر ایٹم بم سے حاصل ہونے والی توانائی کو کنٹرول کیا جا سکے تو اس عمل سے روشنی یا بجلی پیدا کر نا ممکن ہونا چاہیے۔ اس اصول کے تحت نیوکلیر ری ایکٹر بنانا ممکن ہو سکا۔ جو چیز ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی وہ یہ ہے کہ ہائیڈروجن بم سے وابستہ توانائی کو بجلی پیدا کرنے کے لیے حاصل کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں تحقیق تو پچھلے ستر سالوں سے جاری ہے۔ یہ ایک خواب ہے کیونکہ جس دن ایسا ممکن ہوا، توانائی سے وابستہ تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ تو ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے جب ہم ایک گلاس پانی سے اتنی توانائی پیدا کرسکیں گے کہ وہ سارے شہر کو روشن کر سکے گی۔ لیکن ابھی ہم اس مقام سے کافی دور ہیں۔


