چالیس برس پہلے کا اکتوبر


شام ہو رہی ہے۔ چھت پہ چڑیاں دانہ دنکا چگنے کے بعد اڑنے کی تیاری میں ہیں۔ پس منظر میں ابا کا ریڈیو بج رہا ہے۔
ابا کے کمرے میں بچھی میز کے سامنے ہم ایک کرسی رکھ چکے ہیں۔ میز پہ پین، پینسل، ربر اور کچھ کاغذات کے ساتھ ہماری بے صبری بھی موجود ہے جو سوچتی ہے آخر ابا کی نماز کیوں ختم نہیں ہو رہی؟

یہ اکتوبر 1983 ہے۔
میز پر رکھے کاغذات کل دوپہر ہی سر بمہر لفافے سے نکلے ہیں جو لاہور سے بھیجا گیا تھا۔ ابا نے لفافہ کھول کر ہماری طرف بڑھایا اور ہم نے چمکتی آنکھوں سے اسے تھاما تھا۔

ابا اپنی کرسی پر بیٹھے چائے کی چسکیاں بھر رہے ہیں۔ کاغذ ہمارے سامنے کھلے ہیں اور ابا چاہتے ہیں کہ ہم انہیں اچھی طرح پڑھ لیں۔ ہم دل ہی دل میں جھنجھلا رہے ہیں کہ خود ہی کیوں نہیں بتا دیتے کہ کرنا کیا ہے؟

کاغذات کے ساتھ دی گئی چھوٹی سی بک لٹ کے صفحات تیزی سے پلٹ کر ہم جان چھڑانا چاہ رہے ہیں مگر ابا کی تنبیہی نگاہ ہمیں اس سے روک دیتی ہے۔ اب ہم ہر لفظ اور ہر جملہ دھیان سے پڑھنے کی ایکٹنگ کر رہے ہیں۔

ابا چائے پی کر پوچھ رہے ہیں، سمجھ آ گیا؟
جی۔
اگر کوئی کنفیوژن ہے تو پوچھو؟
نہیں ابھی تو نہیں۔
کیا پتہ چلا؟
جی پسند لکھنی ہے اس پر؟ ہم جواب دیتے ہیں۔
ایک یا زیادہ؟ وہ پوچھتے ہیں۔
نہیں جی۔ سب۔
کچی پینسل ہے تمہارے پاس؟ وہ پوچھتے ہیں
جی بیگ میں۔
لے کر آؤ۔

اردگرد سب چلتے پھرتے اس کارروائی کو دیکھ رہے ہیں۔ ہائیں۔ کچی پینسل سے ابا فارم بھریں گے کیا؟ ہم سوچتے ہوئے پینسل لینے بھاگتے ہیں۔

لکھو۔ وہ کہتے ہیں۔
میں لکھوں؟ ہم پریشان ہو کر کہتے ہیں۔
ہاں تم۔ ظاہر ہے۔ وہ مسکرا کر کہتے ہیں۔
ابا میری رائٹنگ اچھی نہیں ہے۔ آپ پلیز۔ ۔ ۔
نہیں تم لکھو گی، میں سپروائز کروں گا۔

ہم سوچتے ہیں کہ یہ خود ہی کیوں نہیں لکھ دیتے بھلا؟ اتنی اچھی لکھائی اور شاندار انگریزی۔ ہماری لکھائی ایسی جیسے کیڑے مکوڑے۔ اور اگر کوئی لفظ غلط لکھا گیا تو؟

ابا بھانپ لیتے ہیں کہ ہمارے ذہن میں کیا چل رہا ہے؟
کچی پینسل سے لکھو پہلے۔ کوئی غلطی ہوئی تو ٹھیک ہو جائے گی پھر پین سے لکھنا۔
بتاؤ، سب سے پہلے کیا لکھنا ہے؟ ابا پوچھتے ہیں۔
آپ بتائیں۔ ہم کہتے ہیں۔
میں کیوں بتاؤں؟ یہ بات تمہیں پتہ ہونی چاہیے کہ تم نے کہاں جانا ہے؟ ابا کہتے ہیں۔
ابا۔ میں نے تو سوچا ہی نہیں
چلو اب سوچ لو، کہاں جانا ہے؟ کیا کرنا ہے؟
ابا پنڈی میں تو صرف ایک ہے۔ ہم ہچکچا کر کہتے ہیں۔
ہاں بھئی۔
اور نام سب کے لکھنے ہیں۔
درست۔ وہ مسکرا کر کہتے ہیں

تو پھر۔ میرا مطلب ہے کہ دوسرا شہر۔ ہم کچھ کنفیوزڈ نظر آ رہے ہیں۔
دوسرا شہر ہو یا پنڈی۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ وہ کچھ اور مسکراتے ہیں۔
میرا مطلب ہے گھر چھوڑ کر۔ ۔ ۔ ہم کہتے کہتے رک جاتے ہیں۔

جہاں تک مجھے علم ہے، اپنے شوق کے لیے تو تم دنیا کے دوسرے کونے تک جانے پر بھی تیار ہو۔ وہ جواب دیتے ہیں۔

جی۔ مگر۔ ۔ ۔ مگر۔ ۔ ۔ ہم کچھ کہتے کہتے رک جاتے ہیں۔
کیا مگر؟ وہ پوچھتے ہیں۔
جی میرا مطلب ہے کہ جانے میں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔ ۔ ۔
پھر؟
جی وہ خرچہ؟ پیسے؟
خرچہ اور پیسے تمہارے باپ کا مسئلہ ہے، تمہارا نہیں۔ وہ مسکراتے ہیں۔

چلو اب لکھنا شروع کرو۔ کتنے ہیں کل؟
جی سات۔ ہم بتاتے ہیں
کہاں کہاں؟
پنڈی میں ایک۔
لاہور میں تین۔
فیصل آباد میں ایک۔
ملتان میں ایک۔
بہاولپور میں ایک۔

نام لکھو سب کے۔ وہ کہتے ہیں۔
پہلے سادہ کاغذ پر لکھ کر دکھاؤ تاکہ سپیلنگ میں کوئی غلطی نہ ہو۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ باپ بیٹی کے درمیان کیا مکالمہ چل رہا ہے جس کا سر پیر پلے ہی نہیں پڑ رہا۔ رکیے ہمیں سادہ کاغذ پر نام لکھ لینے دیں، پھر بتاتے ہیں آپ کو اس کا پس منظر۔

پنڈی۔ راولپنڈی میڈیکل کالج
لاہور۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج
لاہور۔ فاطمہ جناح میڈیکل کالج
لاہور۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج
ملتان۔ نشتر میڈیکل کالج
بہاولپور۔ قائداعظم میڈیکل کالج
فیصل آباد۔ پنجاب میڈیکل کالج

ایف ایس سی کا رزلٹ آ چکا تھا۔ نمبر اچھے تھے۔ میڈیکل کالج میں داخلہ؟ اس کی اجازت؟
ایسے مسائل ہمارے گھر میں موجود ہی نہیں تھے۔

لاہور سے داخلہ فارم منگوائے گئے۔ ابا کے کزن کا بھیجا لفافہ آ پہنچا۔ لفافے میں داخلہ فارم کے ساتھ ہدایت نامہ بھی تھا۔ پنجاب میں کل سات میڈیکل کالج تھے اور سب کے سب سرکاری سو سب کے لیے ایک ہی فارم، ایک ہی جگہ جمع کروایا جانا تھا۔

اب یہ کیسے علم ہو کہ کس کالج میں جانا ہے؟ اور کس کو کہاں داخلہ ملے گا؟
اس کا بھی ایک طریقہ کار تھا۔

فارم پہ امیدوار اپنی خواہش کا اظہار پرائیورٹی کے حساب سے لکھتا کہ مجھے پہلے نمبر پر یہ کالج چاہیے، دوسرے نمبر پر یہ، تیسرے نمبر پر یہ، چوتھا، پانچواں، چھٹا۔
امیدواروں کے حاصل کردہ نمبرز کے حساب سے فہرست بنتی اور پھر پرائیورٹی سے میچ کیا جاتا۔ گورکھ دھندا تھا پورا۔

پہلے نمبر پہ کون سا لکھنا چاہو گی؟ ابا پوچھ رہے ہیں۔

ہم سوچ میں پڑ گئے۔ پنجاب کا سب سے اعلیٰ کالج تو کنگ ایڈورڈ ہے، وہ لکھوں؟ لاہور جاؤں گی تو ہوسٹل کا خرچ؟ ابا کہہ تو رہے ہیں کہ کوئی حرج نہیں۔ نہیں۔ میرا خیال ہے کہ پہلے نمبر پر پنڈی میڈیکل کالج ہی لکھوں۔ فیس ابا دے دیں گے، پھر کتابیں، امتحان۔ ہوسٹل کی فیس تو بچائیں۔

ابا ہمیں بغور دیکھ رہے ہیں۔
ہم پینسل اٹھاتے ہیں اور پنڈی میڈیکل کالج لکھ دیتے ہیں۔
دوسرا؟ ابا پوچھتے ہیں۔

گھر سے نکل کر جب ہوسٹل جانا ہی ہوا تو پھر کوئی سا بھی ہو؟ دل نے کہا۔
ٹھہرو۔ دماغ بولا۔ لاہور نزدیک بھی ہے اور لاہور تو لاہور ہے۔
ٹھیک۔ دماغ بھیا۔ دل بولا۔

دوسرا نمبر کنگ ایڈورڈ، تیسرا فاطمہ جناح، چوتھا علامہ اقبال، پانچواں پنجاب، چھٹا نشتر اور ساتواں قائداعظم میڈیکل کالج۔

لیجیے سات خانے بھر دیے ہم نے کچی پینسل سے۔ لیکن بات ختم نہیں ہوئی۔ اس شیطان کی آنت فارم کے بیسیوں مزید خانے تھے جو بھرے جانے تھے۔ میٹرک کے نمبر، مضامین، سکول، غیر نصابی سرگرمیاں، ایف ایس سی اور نہ جانے کیا کچھ۔

بیچ بیچ میں ہمیں ڈانٹ بھی پڑی، ہم نے منہ بھی بسورا، دل ہی دل میں ناراض بھی ہوئے مگر ابا نے ہمت نہ ہاری اور ہمیں پیچھے ہٹنے نہ دیا، فارم بھروا کر ہی چھوڑا۔
یہ نہ سمجھیے کہ یہ سب کچھ ایک دن میں ہوا۔ یہ ایک رولر کوسٹر جیسا سفر تھا۔ کبھی اوپر کبھی نیچے۔ کئی دن لگ گئے یا شاید ہفتہ دو۔

باپ بیٹی تو مشغول تھے ایک خواب کی بنیاد کھڑی کرنے میں۔ مگر ساتھ میں کچھ اور بھی تھا۔ گھر کی فضا میں کچھ تناؤ، کچھ تلخی، کچھ اداسی اور کچھ بے رخی۔ کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا؟ لیکن بات تو کھلنی تھی، سو جلد کھل گئی۔

ابا کے کمرے میں ریڈیو بج رہا ہے، امی داخل ہوتی ہیں اور ریڈیو کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ جاتی ہیں۔ کچھ چپ چپ سی ہیں۔ ابا تشویش بھری نظر سے انہیں دیکھ کر انتظار میں ہیں کہ امی کچھ کہیں۔

امی شش و پنج کا شکار نظر آتی ہیں، کنفیوزڈ جیسے الفاظ نہ مل رہے ہوں بات شروع کرنے کے لیے۔ لیکن بات کرنے ہی تو آئی ہیں۔

ہو گئے فارم مکمل؟ وہ پوچھتی ہیں۔
بس ہونے والے ہیں۔ ابا حقہ گڑگڑاتے ہوئے کہتے ہیں۔
وہ ایک بات کہنی تھی۔ امی ہچکچاتے ہوئے کہتی ہیں۔
کیا؟ کہو؟
وہ۔ وہ میڈیکل کالج میں تو لڑکے بھی ساتھ پڑھتے ہیں۔ امی رک رک کر کہتی ہیں۔
ہاں ہاں۔
وہ ۔ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ ۔ بڑا کچھ خوش نہیں اس بات سے۔
ابا کے ماتھے پر پڑی لکیر ابھر آتی ہے۔ وہ زور زور سے حقہ گڑگڑانے لگتے ہیں۔
امی کچھ اور کہنے لگتی ہیں۔ ابا انہیں ہاتھ کے اشارے سے روک دیتے ہیں، کچھ کہتے نہیں۔

امی کچھ دیر انہیں دیکھتی رہتی ہیں، ابا حقے کی نے منہ میں لیے گہری سوچ میں ہیں، لکیر گہری ہوتی جاتی ہے۔ خاموشی۔ گہری خاموشی۔
امی اٹھ کر جانے لگتی ہیں۔ ابا حقے کی نے منہ سے نکال کر ایک جملہ کہتے ہیں۔ اسے کہو، یہ میرا درد سر ہے، اس کا نہیں۔

امی خاموشی سے چلی جاتی ہیں۔ دوسرے کمرے میں بیٹھے ہوئے ہم پوری بات سنتے ہیں اور جی چاہتا ہے کہ دوڑ کر ابا کے گلے لگ جائیں۔ لیکن۔ آج یہ حسرت ایک سلگتی ہوئی چنگاری ہے۔
فارم پہ پینسل سے لکھے کچھ حروف پین کی روشنائی میں ڈھل کر لفافے میں بند ہو کر ڈاک کے سپرد کر دیے جاتے ہیں۔

گھر میں خاموشی ہے۔ اور انتظار کہ لاہور سے کیا جواب آئے گا؟ ہماری قسمت ہمیں کہاں لے جائے گی۔
یہ تحریر ہم نے اپنے ابا کی یاد میں ان کی سالگرہ کے موقع پر لکھی ہے۔
سالگرہ مبارک ابا جی!

Facebook Comments HS