بھاگ بھری: برصغیر میں ایٹمی تباہی کی منظر نگاری


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

بھاگ بھری 2018 میں پہلی بار شائع ہوا۔ یہ ناول برصغیر پاک و ہند میں ہونے والی جوہری تباہی پر لکھا گیا فکشن ہے۔ ناول کے مصنف صفدر زیدی ہیں جو دی ہیگ ہالینڈ میں مقیم ہیں۔ صفدر زیدی قدیم اور جدید تاریخ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسی تاریخ سے ماخوذ واقعات اور حالات کو خیالات میں ڈھال کر ایک عمدہ اور منفرد ناول لکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ناول میں بھارت اور مغرب کے بیانیے کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہیں اور ایک دن یہ انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ جائیں گے جس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت میں جوہری تصادم وقوع پذیر ہوتا ہے اور اس تباہی سے لاکھوں انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں، اور بچ جانے والے تاب کاری سے پیدا صورت حال سے نبرد آزما ہوتے ہوئے انتقال کر جاتے ہیں۔ اس ناول میں بے بسی اور قحط سالی کی بہت ہی بھیانک منظر کشی کی گئی ہے۔

اس سے پہلے 2013 میں ان کا ناول ’چینی جو میٹھی نہ تھی‘ ہالینڈ سے ولندیزی زبان میں چھپ کر منظر عام پر آیا جس کا بعد میں اردو میں بھی ترجمہ کیا گیا تھا۔ 2022 میں ان کا ناول ’بنت داہر‘ بھی شائع ہو کر داد سمیٹ چکا ہے۔ ’بھاگ بھری‘ 416 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ انگلستان ہے جس میں مستقبل یعنی 3000 عیسوی کا زمانہ دکھایا گیا ہے، اس حصے کے 43 ابواب ہیں۔ دوسرا حصہ ایٹمی حملوں کے بعد کی صورت حال پر مشتمل ہے، اس میں 20 ابواب ہیں۔ جب کہ تیسرے حصے میں خشک سالی کا دور دکھایا گیا ہے، اس کے بھی 20 باب ہیں۔ ناول کا پلاٹ مذہبی انتہا پسندی اور جنوبی ایشیا میں ایٹمی تصادم کے گرد گھومتا ہے۔

ناول کا آغاز مستقبل میں 3000 عیسوی سے ہوتا ہے جب انگلستانی طالب علموں کی ایک ٹیم اپنے استاد ہمراہ دریائے ٹیمز کے کنارے منتقل کیے گئے تاج محل کو دیکھنے کے لیے جاتے ہیں۔ تاج محل کو ایٹمی تباہی کے بعد ہندوستان سے یہاں منتقل کر دیا گیا ہے تا کہ مستقبل میں جب کبھی ہندوستان دوبارہ آباد ہو تو اسے باحفاظت واپس پہنچایا جا سکے۔ اسی حصے کے دوسرے باب سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے جسے داستان کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ البرٹ جسے ہندوستان کی زبانوں پر عبور حاصل ہے، پاک و ہند کے گم شدہ قصے کہانیوں کی کھوج کر رہا ہے۔ وہ اپنے ساتھی طالب علموں کو ماضی میں 1985 کے دور میں لے جاتا ہے اور ’بھاگ بھری‘ کی کہانی بیان کرتا ہے۔

ہندو اچھوت بھاگ بھری اور اس کا بیٹا ساون اس ناول کے مرکزی کردار ہیں۔ ساون وڈیرے حیدر شاہ کے چھوٹے بھائی جعفر شاہ کی ناجائز اولاد ہے جو زنا بالجبر سے پیدا ہوتا ہے۔ ساون جب چودہ برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو وڈیرے کے مظالم سے تنگ آ کر گوٹھ سے بھاگ کر پنجاب کے جنوبی شہر راجن پور کے ایک مدرسے میں داخل ہو جاتا ہے جہاں نوجوانوں کو انتہا پسندانہ تعلیم سے ہمکنار کیا جاتا ہے اور عسکری تربیت بھی دی جاتی ہے۔ اس مدرسے کا امیر اسے مسلمان کرتا ہے اور اسے خالد سفیانی کا نام دیتا ہے۔

خالد سفیانی بہادر اور جنگجو ہے اور وہ بدنام دہشت گرد بنتا ہے اور کشمیر سمیت افغانستان، وزیرستان، اور کراچی میں دہشت گردی کی مختلف کارروائیاں انجام دیتا ہے جس پر اس کے نام کو مزید ترقی دی جاتی ہے اور وہ خالد سفیانی سے خالد خراسانی بن جاتا ہے ۔ پھر ایسا وقت بھی آتا ہے جب جہاد کو غزوہ ہند کی طرف موڑ دیا جاتا ہے جو آگے چل کر ایٹمی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔

صفدر زیدی نے اس ناول کے ذریعے باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ جوہری جنگ دونوں دیسوں تک ہی محدود نہ رہے گی بلکہ یہ دنیا کے دیگر ممالک پر بھی اثر انداز ہو گی۔ ناول میں دونوں جانب پائے جانے والے انتہا پسندانہ نظریات اور منفی رویوں پر بات کی گئی ہے اور سیاست دانوں کی نالائقی کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ اس میں پاکستان اور بھارت کے عسکری اداروں کی پیشہ ورانہ نا اہلی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے اور خطے میں بین الاقوامی مداخلت اور مفادات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ صفدر زیدی نے وڈیروں کے مظالم کو بھی قلم بند کیا ہے اور یہ کس طرح غریبوں کا استحصال کرتے ہیں اس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

بہرحال صفدر زیدی نے ایک اہم موضوع پر عمدہ کام کیا ہے۔ ان کی تاریخ پر گرفت مضبوط ہے، وہ علاقائی و عالمی سیاست پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کا اسلوب صحافتی ہے۔ مصنف نے سیاسی نظام کی تباہی اور سماجی زوالکو جمالیاتی ذوق کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہ پلاٹ، کہانی، مکالمہ نویسی اور منظر نگاری کے فن سے قارئین کو جکڑ لیتا ہے۔

Facebook Comments HS