بین الاقوامی کلاسیکی ادب میں ایسے بے شمار ادیب موجود ہیں جو ابھی تک لوگوں کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک شارلٹ برانٹے بھی ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں اور جن کے قلم نے ایسے متاثر کن کام کو تخلیق کیا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ ابھی تک قارئین کے اعصاب پر چھائی ہوئی ہیں۔ ناول نگار و شاعرہ شارلٹ برانٹے ( 21 اپریل 1816۔ 31 مارچ 1855 ) وکٹورین دورحکومت میں یارک شائر شمالی انگلستان میں پیدا ہوئیں۔ والد کا نام پیٹرک برانٹے تھا جو ایک پادری تھے اور والدہ کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ برانٹے سسٹرز تین بہنیں تھیں تینوں ہی لکھتی تھی اور شارلٹ برانٹے سب سے بڑی تھیں۔
’جین آئر‘ شارلٹ برانٹے کا ایسا شاہکار ناول ہے جس نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ شارلٹ برانٹے کی کہانیاں حقیقت نگاری پر مبنی ہیں جن کے ذریعے انیسویں صدی کے انگلستانی معاشرے کی زبردست عکاسی کی گئی ہے۔ شارلٹ برانٹے کا اسلوب سادہ اور دل چسپ ہے جو متاثرکن احساسات کا اظہاریہ ہے۔ وہ مضبوط کردار تخلیق کرتی ہے اور روزمرہ زندگی میں محبت، انصاف، جنسی تحمل اور دیگر معاشرتی مسائل کو موضوع بناتی ہے۔
Read more