اناطولیہ کہانی: یشار کمال کا مزاحمتی استعارہ اور دیہی انسان کی ازلی تڑپ

اناطولیہ کہانی کو ترکی کے جنوبی علاقے چکروا کے تناظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس ناول کو نہ صرف ترکی کے ادب کا ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ظلم کے خلاف مزاحمت اور کسانوں کی جدوجہد کی ایک علامتی داستان ہے۔ پہلی بار یہ ناول 1955 میں ترکیہ زبان میں شائع ہوا۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ 1961 میں ایڈوارد رودیتی نے کیا جب کہ اسے اردو میں ڈھالنے کے فرائض نسرین

Read more

فلسطینی المیے پر غسان کنفانی کا ناولٹ دھوپ میں لوگ

غسان کنفانی کا ناولٹ ’دھوپ میں لوگ‘ دل کو دہلا دینے والی ایک ایسی کہانی پر مبنی ہے جو فلسطینی پناہ گزینوں کی بے کسی اور مایوس کن زندگی کو اُجاگر کرتی ہے جس میں لوگوں کو اپنے ہی خطے میں بیگانگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ کہانی تین فلسطینی مردوں ابوقیس، اسعد اور مروان کی جدوجہد کے بارے میں ہے جو 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزرنے پر مجبور ہیں اور

Read more

دی کائٹ رنر: دوستی، بے وفائی اور ندامت جیسے احساسات پر مبنی ایک اثر انگیز ناول

دی کائٹ رنر خالد حُسینی کا پہلا ناول ہے۔ اس کی کہانی دوستی، بے وفائی اور ندامت جیسے احساسات سے بُنی گئی ہے۔ یہ کئی دہائیوں اور براعظموں پر محیط ہے اور انسان کی اندرونی کیفیات، تفرقوں میں بٹی معاشرت، سیاسی بحرانوں اور بین الاقوامی مداخلت جیسے موضوعات کو بخوبی بیان کرتا ہے۔ پہلے ناول نگار کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ خالد حُسینی معروف افغان نژاد امریکی ادیب اور انسانی حقوق کے سرگرم رُکن ہیں۔ وہ پُراثر اور دل

Read more

موت کا دریا (افسانہ)

دریا کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جس کی آبادی تیس افراد پر مشتمل تھی اور ان کا ذریعہ معاش گلہ بانی تھا۔ اِس کے علاوہ وہ زمین کے چھوٹے چھوٹے قطعات پر کھیتی باڑی بھی کرتے تھے۔ گاؤں کے مغرب میں صرف ایک کلو میٹر کے فاصلے پر برلبِ دریا ہی ایک دوسرا گاؤں تھا جو تھوڑا بڑا تھا اور وہاں چالیس سے پچاس افراد کی رہائش تھی۔ دونوں جگہوں کے رہنے والے آپس میں قریبی رشتہ دار تھے

Read more

پہاڑ کی آواز: جاپانی ادب کا ایک شاہکار ناول

پہاڑ کی آواز نوبل انعام یافتہ جاپانی ادیب یاسوناری کاواباتا کا معروف ترین ناول ہے۔ اس میں ایک بوڑھے شخص کی کہانی بیان کی گئی ہے جو عمر کے آخری حصے کو پرسکون گزارنے کا خواہش مند ہے مگر نہ چاہتے ہوئے بھی بگڑتے ہوئے گھریلو معاملات میں دخل دینے پر مجبور ہے۔ مصنف نے ناول میں خاندان کے آپسی تعلقات کی نزاکت کو لطیف پیرائے میں بیان کیا ہے۔ پہلی بار یہ ناول 1954 میں جاپانی زبان میں چھپا۔

Read more

کافکا کا ناولٹ: کایا کلپ

کایا کلپ کے مصنف فرانز کافکا ( 1883۔ 1924 ) جرمن زبان بولنے والے ایک یہودی ادیب تھے جن کی پیدائش پراگ (چیک جمہوریہ) میں ہوئی۔ کافکا کا شمار بیسویں صدی کے با اثر ترین عالمی ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق ایک متوسط یہودی خاندان سے تھا۔ وہ یونیورسٹی آف پراگ سے فارغ التحصیل تھے جہاں سے انہوں نے قانون کی تعلم حاصل کی۔ وہ زندگی بھر انشورنس کے شعبے سے وابستہ رہے جہاں وہ معاشی طور پر

Read more

دی ٹرائل: کافکا کا نظام عدل اور نوکر شاہی پر تحریر کیا گیا تنقیدی فکشن

دی ٹرائل کے مصنف فرانز کافکا ( 1883۔ 1924 ) جرمن زبان بولنے والے ایک یہودی ادیب تھے جن کی پیدائش پراگ (چیک جمہوریہ) میں ہوئی۔ کافکا کا شمار بیسویں صدی کے با اثر ترین عالمی ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق ایک متوسط یہودی خاندان سے تھا۔ وہ یونیورسٹی آف پراگ سے فارغ التحصیل تھے جہاں سے انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ زندگی بھر انشورنس کے شعبے سے وابستہ رہے جہاں وہ معاشی طور پر

Read more

ملتے ہیں اگست میں: پوشیدہ جسمانی تعلقات اور جنسی خواہشات پر مبنی ایک دل چسپ ناول

اس ناول کے مصنف گیبرئیل گارسیا مارکیز کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ہسپانوی زبان کے معروف ترین ادیب بھی ہیں اور صحافی بھی۔ ان کی پیدائش 6 مارچ 1927 کو کولمبیا لاطینی امریکا میں ہوئی۔ اُن کی ادبی تخلیقات کو عالمی سطح پر اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کہ اُن کی خدمات کے اعتراف میں 1982 میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اُن کا انتقال 17 اپریل 2014 کو

Read more

فرانسیسی ادیب وکٹر ہیوگو کا ناول پھانسی

وکٹر ہیوگو ( 1802۔ 1885 ) فرانس کے نامور ادیب، شاعر، ڈرامہ نویس اور سیاست دان تھے۔ وہ اپنے رومانوی اندازِ تحریر کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ انہیں ان کے عہد کا عظیم ترین فرانسیسی ادیب گردانا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلے وکالت کی تربیت حاصل کی مگر پھر ادبی دنیا کی طرف راغب ہو گئے۔ ان کے تخلیق کردہ ادب کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں موسیقی سے بھی گہرا لگاؤ تھا اور

Read more

بھوک: کنوٹ ہامسن کی ایک اور نفسیاتی تخلیق

بھوک کے مصنف کنوٹ ہامسن ( 1859۔ 1952 ) ناروے کے معروف ادیب اور شاعر تھے۔ ان کے والد متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک غریب کسان تھے۔ ان کا بچپن افلاس زدہ اور کٹھن تھا مگر اس کے باوجود وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔ ان کا شمار جدید نفسیاتی اور وجودی ادب کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ ہامسن کی نثر میں ایک خاص شاعرانہ کیفیت اور جذباتی شدت پائی جاتی ہے جو انہیں ان کے

Read more

وکٹوریہ: طبقاتی تفاوت پر تحریر کیا گیا بہترین ادب پارہ

وکٹوریہ کے مصنف کنوٹ ہامسن ( 1859۔ 1952 ) ناروے کے معروف ادیب اور شاعر تھے۔ ان کے والد متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک غریب کسان تھے۔ ان کا بچپن افلاس زدہ اور کٹھن تھا مگر اس کے باوجود وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔ ان کا شمار جدید نفسیاتی اور وجودی ادب کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ ہامسن کی نثر میں ایک خاص شاعرانہ کیفیت اور جذباتی شدت پائی جاتی ہے جو انہیں ان کے

Read more

نامور فرانسیسی مصنف ایبے پریووس کا ناول مینن لیسکاٹ

ناول کی تفصیل میں جانے سے پہلے ہم اس کے مصنف کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ ایبے پریووس ( 1697۔ 1763 ) جن کا اصل نام انتوان فرانسو پریووس تھا ہیسڈن فرانس میں پیدا ہوئے۔ وہ فرانس کے نامور فکشن نگار، مورخ اور پادری تھے۔ ان کی زندگی دل چسپ اور غیر روایتی تھی۔ انہوں نے ابتدا میں یسوعی جماعت میں شمولیت اختیار کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے اور بعد میں بیڈ کائن راہب بن گئے۔ تاہم

Read more

نوبل انعام یافتہ کورین مصنفہ ہان کانگ کا ناول شاکا ہاری

ہان کانگ جنوبی کوریا کی ایک معروف اور باصلاحیت مصنفہ ہیں جنہوں نے اپنی منفرد اور تخیلاتی نثر کی وجہ سے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ وہ 27 نومبر 1970 کو جنوبی کوریا کے شہر گوانگجو میں پیدا ہوئیں، لیکن ان کا بچپن سیول میں گزرا۔ ہان کانگ کا ادبی سفر ان کے انگریزی ادب کے مطالعے اور شاعری کے شوق سے شروع ہوا، جس نے انہیں کہانیوں اور ناول نگاری کی جانب راغب کیا۔ ہان کانگ نے اپنے

Read more

’مشک پوری کی ملکہ‘ اور ’بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب‘: ایک تقابلی جائزہ

محمد عاطف علیم، مشک پوری کی ملکہ کے مصنف، ایک معروف کالم نگار، فکشن نگار، اور ڈرامہ نویس ہیں۔ ان کے ادبی سفر میں مشک پوری کی ملکہ کے علاوہ ان کا ناول گردباد اور کہانیوں کا مجموعہ شہرِ نامطلوب بھی شامل ہیں، جو قارئین کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ محمد عاطف علیم 10 مئی 1964 کو ڈسکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان بعد میں گوجرانوالہ منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزارا۔

Read more

ہسپانوی ناول ’لاثار لیودے تورمیس‘ کا جائزہ

لاثار لیودے تورمیس ہسپانوی ادب کا ایک شاہکار ناول ہے جسے سولہویں صدی میں ایک نامعلوم ادیب نے قلم بند کیا۔ معلوم ریکارڈ کے مطابق پہلی بار یہ 1554 میں چھپا۔ 1559 میں ہسپانوی کلیسا کی عدالت نے ناول پر پابندی عائد کر دی کیوں کہ اس میں کلیسا کے نمائندوں کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔ ناول نے اتنی مقبولیت پائی کہ اس کا ترجمہ دنیا بھر کی زبانوں میں کیا گیا۔ اس کا پہلا انگریزی ترجمہ 1576 میں

Read more

سنہری آنکھوں والی لڑکی: بالزاک کا ہم جنس پرستی پر لکھا جانے والا حیرت انگریز ناول

سُنہری آنکھوں والی لڑکی بالزاک کے ناول ’دا گرل ود دا گولڈن آئیز‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ہم جس ترجمے سے مستفید ہوئے ہیں وہ روف کلاسرا نے کیا ہے۔ پہلی بار یہ ناول 1835 میں فرانسیسی زبان میں چھپا۔ اس کا پہلا انگریزی ترجمہ 1930 میں نیویارک سے شائع کیا گیا۔ بالزاک نے ناول میں انیسویں صدی کے فرانسیسی معاشرے بالخصوص پیرس کے سیاسی و اخلاقی حالات، کو انتہائی گہرائی اور وسعت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اُس نے

Read more

بالزاک کا ناول یویجن گرینڈ

فرانسیسی مصنف ہنری ڈی بالزاک ( 1799۔ 1850 ) نے اپنی مختصر زندگی میں سو سے زائد ناول، ڈرامے اور کہانیوں کے مجموعہ جات تحریر کیے۔ بالزاک نے اپنے منفرد اسلوب کی مدد سے فرنچ معاشرے کی حقیقت پسندانہ عکاسی کی ہے۔ بالزاک کی پیدائش پیرس کے نواحی علاقے میں ہوئی جہاں اُس کا باپ سرکاری ملازم تھا۔ جوان ہوا تو باپ کی خواہش پر پیرس منتقل ہو کر ایک وکیل کے ہاں منشی کی نوکری کرنا شروع کر دی۔

Read more

قصہ سات نسلوں کا: تنہائی کے سو برس

اس غیر معمولی تخلیق کے مصنف گابرئیل گارسیا مارکیز کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ہسپانوی زبان کے معروف ترین ادیب بھی ہیں اور صحافی بھی۔ ان کی پیدائش 6 مارچ 1927 کو کولمبیا لاطینی امریکا میں ہوئی۔ اُن کی ادبی تخلیقات کو عالمی سطح پر اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کہ اُن کی خدمات کے اعتراف میں 1982 میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اُن کا انتقال 17 اپریل

Read more

اینا کریننا پر اظہارِ رائے سورج کو چراغ دِکھانا

ایسا ناول جس کے مطالعہ کے لیے عزم بھی درکار ہے اور استقلال بھی۔ ہم نے اینا کریننا کا زمانہ طالب علمی میں بھی مطالعہ کیا تھا اور اب ایک عرصے بعد جب اس پر تبصرہ لکھنے کو من چاہا تو دوبارہ کھول لیا۔ یہ ایک ایسا ناول ہے جسے پڑھنے کے لیے اُسی طرح کے اہتمام کی ضرورت ہے جیسے محبوب کو ملنے کی غرض سے وقت نکالا جاتا ہے۔ پھر اس کے مطالعہ سے جو مزہ آئے گا

Read more

ناول ”دی ہابٹ“ صرف بچوں کا ادب نہیں

’دی ہابٹ‘ جے آر آر ٹولکین (3 جنوری 1892۔ 2 ستمبر 1973) کا تحریر کردہ مہم جوئی پر مبنی ایک تخیلاتی ناول ہے۔ بنیادی طور پر دی ہابٹ نوجوانوں کے لیے لکھا گیا فکشن تھا جسے پہلی بار 1937 میں شائع کیا گیا۔ ٹولکین کے شہرہ آفاق ناول ’دی لارڈ آف رنگ‘ کی دیواریں بھی اسی ناول کی بنیادوں پر ہی قائم ہیں۔ ناول کا ترجمہ دنیا کی تقریباً تمام بڑی زُبانوں میں کیا جا چکا ہے۔ اس کے اُردو

Read more

ناول ’کبڑا عاشق‘ کا تعارف و جائزہ

کبڑا عاشق فرانسیسی کلاسیکی ناول ’ہنچ بیک نوٹرے ڈیم ڈی پیرس‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس ناول کی پہلی اشاعت 1831 میں ہوئی۔ ہم نے جس ایڈیشن کا مطالعہ کیا ہے اس کے 132 صفحات ہیں۔ جتنا عمدہ یہ ناول ہے اتنا ہی غیر معیاری اس کا سر ورق ہے۔ ناول کے جائزہ سے پہلے ہم ناول کے تخلیق کار کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انقلابی سوچ کے مالک وکٹر ہیوگو ( 26 فروری 1802۔ 22 مئی

Read more

ناول: زوربا یونانی کا تعارف

زوربا یونانی نامور یونانی ناول نگار نیکوس کیزنزاکیس ( 18 جنوری 1883۔ 26 جنوری 1957 ) کا شہرہ آفاق ناول ہے۔ نیکوس کیزنزاکیس سلطنت عثمانیہ کے شہر اکلیون میں پیدا ہوا تھا جو اب یونان کے پاس ہے۔ زوربا یونانی پہلی بار 1946 میں یونانی زبان میں چھپا۔ 1953 میں کارل وائلڈ مین نے اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا اور اب یہ اردو سمیت دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اردو میں اس اہم

Read more

اشعر نجمی کا ناول ’جوکر‘: کردار نگاری کی بہترین مثال

اشعر نجمی (سید امجد حُسین) معروف بھارتی شاعر و فکشن نگار  ہیں جو ساماہی مجلہ اثبات کے مدیر بھی ہیں۔ اُن کا تعلق جمشید پور سے ہے مگر اب انہوں نےممبئی میں ہی سکونت اختیار کر رکھی ہے۔اشعر نجمی کے اب تک تین ناول منظرِعام پر آ چکے ہیں۔ اُن کا پہلا ناول ‘اس نے کہا تھا’ جس کا موضوع ہم جنس پرستی پر مبنی ہے 2021 میں شائع ہوا۔،اس کے بعد 2022 میں ان کا ناول ‘صفر کی توہین’

Read more

ناول: چینی جو میٹھی نہ تھی

”چینی جو میٹھی نہ تھی“ نو آبادیاتی پس منظر میں تحریر کیا گیا ناول ہے۔ پہلی بار یہ 2013 میں ولندیزی زُبان میں شائع ہوا اور اس کا اردو ترجمہ 2016 میں پاکستان سے چھپا۔ اس کا ایک اردو ایڈیشن حال ہی میں بھارت سے بھی شائع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2016 میں صفدر زیدی کا ناول بھاگ بھری شائع ہوا جو پاک بھارت جوہری ٹکراؤ پر تحریر کیا گیا تھا اور 2022 میں ان کا ناول بنتِ

Read more

ناول ’ہڑپا‘ کا تخاطب پنجاب کی دیہاتی عورت

بہت کم ایسے ادیب ہیں جنہوں نے اُردو ادب میں بہت ہی قلیل عرصہ میں ایسی معیاری تخلیقات پیش کی ہیں کہ جو بہت جلد عوامی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ انہیں میں سے ایک ڈاکٹر طاہرہ اقبال ہیں جنہوں نے اپنے وسیع مشاہدہ و فکر و فن کی مدد سے منفرد اسلوب اختیار کیا اور اسے طاقت بناتے ہوئے پنجاب کی معاشرت و ثقافت کو اس کی حقیقی پہچان کے ساتھ بیان کیا۔ وہ باریک بین ہیں

Read more

ناول بے چارے لوگ کا تعارف و جائزہ

ناول کے مصنف فیودر میخائلو وچ دستوئیفسکی ( 1821۔ 1881 ) روس کے دارالحکومت ماسکو میں پیدا ہوئے۔ والد گرامی ایک خیراتی اسپتال میں ڈاکٹر تھے گھریلو حالات بچپن سے ہی عدم خوش حالی کا شکار تھے۔ جوان ہوئے تو سینٹ پیٹرز برگ کے فوجی انجینئرنگ اسکول سے گریجویشن کی اور وزارتِ انجینئرنگ سے وابستہ ہو گئے۔ بوجہ عدم دلچسپی اس نوکری سے مستعفی ہوئے اور اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا۔ آپ روسی ادب کے نامور ناول نگار، افسانہ

Read more

حاجی مُراد: ٹالسٹائی کا غیر معروف ناول

لیو ٹالسٹائی کو ‘جنگ اور امن’ اور ‘اننا کارینینا’ جیسے یادگار ناولوں کی بدولت عالمی کلاسیک ادب میں اہم مقام حاصل ہے لیکن حاجی مُراد  ان کا ایک غیر معروف کام ہے جو کاکیشیا  کے ہنگامہ خیز منظرنامے پر قلم بند کیا گیا ہے۔ 1912 میں بعداز مرگ شائع ہونے والا  یہ ناول ایک دل کش داستان پیش کرتا ہے جو نہ صرف ٹالسٹائی کی ادبی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے بل کہ وفاداری، احترام اور آزادی کی جدوجہد جیسے

Read more

ناول ’باپ اور بیٹے‘ کا تعارف و جائزہ

ایوان رتگینف روس کے عالمی شہرت یافتہ ادیب تھے جو 9 نومبر 1818 کو اور یول میں پیدا ہوئے۔ معیاری اور نئی روایات پر مبنی کام پیش کرنے کی وجہ سے انہوں نے عالمی کلاسیکی ادب میں اپنی منفرد شناخت پیدا کیا۔ انہوں نے اپنے بچپن کا زیادہ تر حصہ خاندانی جاگیر پر ہی قابل اساتذہ کی زیر نگرانی گزارا۔ اعلی تعلیم کے لیے ماسکو یونیورسٹی میں داخل ہو گئے، وہاں ایک سال گزارنے کے بعد وہ پیٹرزبرگ یونیورسٹی میں

Read more

”اور ڈان بہتا رہا“: تعارف و جائزہ

اور ڈان بہتا رہا کے خالق نوبل انعام یافتہ روسی ادیب میخائیل شولو خوف ڈان کے علاقے کاسک کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ دور حاضر میں اس علاقے کو ویشانسکایا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ 1913 ء میں شولوخوف نے تعلیم ادھوری چھوڑی اور بالشویکوں کی شراکت میں سفید روسیوں کے خلاف خانہ جنگی میں حصہ لیا۔ 1922 ء میں وہ صحافت کے شعبے سے منسلک ہو کر ماسکو چلے گئے اور کئی اخبارات کے لیے افسانے

Read more

تین راہی، میکسم گورکی کا شہرہ آفاق ناول

میکسم گورکی کا شہرہ آفاق ناول ”دی تھری“ جس کا اردو ترجمہ ”تین راہی“ کے نام سے انور عظیم نے کیا پہلی مرتبہ 1901 میں روسی زبان میں شائع ہوا۔ انیسویں صدی کے آخری عشرے کے روسی پس منظر میں تحریر کیے گئے اس ناول میں غربت و افلاس اور سماجی نا انصافیوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ بہترین کردار نگاری اور سماج عکاسی کی مدد سے گورکی نے بڑی مہارت سے ایسی داستان قلم کی ہے کہ جس میں

Read more

رولاک: جنسی ہوس پرستی پر نفسیاتی الجھاؤ

نئی کتابوں اور نئے چہروں سے شناسائی کی خاطر ہم ہر سال لاہور کے بین الاقوامی کتاب میلہ میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ نئے مراسم قائم ہوں اور نئی تخلیقات سے آگاہی بھی حاصل کی جا سکے۔ رفاقت حیات سے بھی ہماری پہلی ملاقات اسی کتاب میلہ میں ڈاکٹر ظہیر عباس کے توسط سے ہوئی۔ ملاقات کا پس منظر بھی عجب تھا۔ کچھ یوم قبل سوشل میڈیا کے ذریعے ہمیں رولاک کی خبر ہوئی، اس لیے ہم

Read more

ناول اینمل فارم کا تعارف و جائزہ

اینمل فارم کی اشاعت 17 اگست 1945 کو انگلستان میں ہوئی اینمل فارم ایک کلاسیک اور با اثر تصنیف ہے جس میں ایک فکر انگیز کہانی بیان کی گئی ہے۔ ناول کا پلاٹ انقلاب، طاقت، بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے گرد گھومتا ہے۔ یہ ناول طنزیہ ہے اور اس کا انداز تحریر علامتی ہے۔ جارج آرویل نے سیاسی، سماجی اور مقتدر طاقتوں کے لیے علامتی طور پر مرکزی کرداروں کے لیے مختلف جانوروں کا استعمال کیا ہے۔ ہر

Read more

’الکیمسٹ‘ میں خدا شگون کی زبان میں گفتگو کرتا ہے

پائیلو کوئلہو کے عالمی شہرت یافتہ ناول ”الکیمسٹ“ کا بہتر زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے اور اس کی اب تک ساڑھے چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ 1988 میں جب یہ پہلی مرتبہ پرتگیزی زبان میں چھپا تو اس کی صرف نو سو کاپیاں فروخت ہو سکی تھیں اور ناشر نے اسے دوبارہ چھاپنے سے منع کر دیا تھا۔ وہ اسے دوسرے ناشر کے پاس لے گیا، پھر اس ناول کی اتنی فروخت ہوئی کہ برازیلی ادب کی

Read more

طاہر بن جیلون اور ریت کا دروازہ

ریت کا دروازہ مراکشی ادیب طاہر بن جیلون کا شہرہ آفاق ناول ہے جو انہوں نے فرانسیسی زبان میں تحریر کیا۔ مادری زبان عربی ہونے کے باوجود ان کا زیادہ تر کام فرانسیسی زبان میں ہی ہے۔ وہ یکم دسمبر 1944 کو مراکش میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ جامع محمد الاخمص رباط میں فلسفے کے پروفیسر بھرتی ہوئے۔ اسی دور میں ہی انہوں نے سیاسی جریدے سوفلز کے لیے نظمیں لکھنا شروع کیں۔ اپنے پہلے شعری

Read more

”ماں“ میکسم گورکی کا عظیم کارنامہ

میکسم گورکی، جن کا اصل نام الیکسی میکسمووچ پیشکوف تھا، نامور روسی مصنف، ڈرامہ نگار اور سیاسی کارکن تھے۔ وہ 28 مارچ 1868 کو روس کے شہر نزنی نو گوروڈ میں پیدا ہوئے اور 18 جون 1936 کو ماسکو، سوویت یونین میں ان کا انتقال ہوا۔ گورکی کا بچپن غربت اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے گزرا، جس کا اثر ان کے کام میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ کم عمری میں ہی علم و ادب کی دنیا کی

Read more

دستوئیفسکی کا ناول جرم و سزا

اس شاہکار ناول کے مصنف نامور روسی ادیب فیودور دستوئیفسکی ہیں۔ 1866 میں یہ ناول روس کے مشہور ادبی مجلے میں قسط ور شائع ہوا۔ 1867 میں یہ پہلی بار کتابی شکل میں چھپ کر منظر عام پر آیا۔ اس کے بعد اس کا انگریزی ترجمہ کیا گیا۔ یہ ناول انسانی نفسیات اور اس کی احساسیت کو اخلاقیات کی کسوٹی پر پرکھ کر معاشرت پر اس کے گہرے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ سسپنس، اخلاقی مخمصوں اور نفسیاتی مسائل کی

Read more

روسی انقلاب کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ناول ڈاکٹر ژواگو

  معیاری ادب میں قارئین کو مختلف ادوار اور مقامات تک پہنچانے کی انوکھی صلاحیت ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ کرداروں کی کامیابی اور مصیبتوں کو اس طرح محسوس کر سکتے ہیں جیسے وہ خود ان لمحات کو جی رہے ہوں۔ بروس پاسترناک کا شہرہ آفاق ناول ”ڈاکٹر ژواگو“ ایسے ہی ادب کی بہترین مثال ہے۔ روسی انقلاب کے پس منظر اور اس کے اثرات پر تحریر کیا گیا یہ ناول بہترین کرداروں، ان کے پیچیدہ رشتوں اور

Read more

ناول بنتِ داہر: تاریخ سے ماخوذ مختلف بیانیہ

چند سال قبل ایک میڈیا ہاؤس کی ویب سائٹ پر ”اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے دس بڑے ناول“ کے عنوان سے ایک بلاگ چھپا۔ اردو ادب سے لگاؤ کی وجہ سے انگلی خودبخود ہی دب گئی اور مکمل بلاگ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ اس میں بیان کردہ کئی ناول کا تو پہلے ہی سے مطالعہ کر رکھا تھا اور باقیوں سے بھی تعارف تھا ماسوائے صفدر زیدی کے ”بھاگ بھری“ سے۔ ناول منگوا لیا گیا اور دو نشستوں

Read more

گیارہ منٹ: جنسی نفسیات پر فلسفیانہ فکشن

’گیارہ منٹ‘ معروف برازیلی ادیب پائیلو کوئلہو کا شہرہ آفاق ناول ہے جسے 2003 میں پہلی بار پرتگیزی زبان میں شائع کیا گیا تھا۔ یہ جنسی نفسیات پر تحریر کیا گیا ایسا ناول ہے کہ جس میں محبت، ہوس اور خوابوں کی تکمیل کے پیچھے بھاگتی ایک بیسوا کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ یہ ناول محبت، قربت اور کثیرالجہتی تعلقات کی گنجلک داستان ہے جس میں ماریا کے کردار کے ذریعے قارئین کو ایک ایسے سفر پر لے جایا

Read more

ناول ”جین آئر“ کا تعارف و جائزہ

بین الاقوامی کلاسیکی ادب میں ایسے بے شمار ادیب موجود ہیں جو ابھی تک لوگوں کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک شارلٹ برانٹے بھی ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں اور جن کے قلم نے ایسے متاثر کن کام کو تخلیق کیا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ ابھی تک قارئین کے اعصاب پر چھائی ہوئی ہیں۔ ناول نگار و شاعرہ شارلٹ برانٹے ( 21 اپریل 1816۔ 31 مارچ 1855 ) وکٹورین دورحکومت میں یارک شائر شمالی انگلستان میں پیدا ہوئیں۔ والد کا نام پیٹرک برانٹے تھا جو ایک پادری تھے اور والدہ کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ برانٹے سسٹرز تین بہنیں تھیں تینوں ہی لکھتی تھی اور شارلٹ برانٹے سب سے بڑی تھیں۔

’جین آئر‘ شارلٹ برانٹے کا ایسا شاہکار ناول ہے جس نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ شارلٹ برانٹے کی کہانیاں حقیقت نگاری پر مبنی ہیں جن کے ذریعے انیسویں صدی کے انگلستانی معاشرے کی زبردست عکاسی کی گئی ہے۔ شارلٹ برانٹے کا اسلوب سادہ اور دل چسپ ہے جو متاثرکن احساسات کا اظہاریہ ہے۔ وہ مضبوط کردار تخلیق کرتی ہے اور روزمرہ زندگی میں محبت، انصاف، جنسی تحمل اور دیگر معاشرتی مسائل کو موضوع بناتی ہے۔

Read more

ودرنگ ہائیٹس: نفرت اور انتقام کی داستان

انگریزی کلاسیکی ادب کی نامور ادیبہ ’ایملی جین برانٹے‘ شارلٹ برانٹے کی چھوٹی بہن تھیں۔ برانٹے سسٹرز میں اس کا نمبر دوسرا تھا جب کہ تیسرے نمبر پر این برانٹے تھیں۔ ایملی برانٹے وکٹورین دور حکومت میں یارک شائر شمالی انگلستان میں پیدا ہوئیں۔ ماں کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا جب کہ والد ایک پادری تھے جن کی آمدن سے گھر کا گزارہ بمشکل ہی ہوتا تھا۔ ایملی کا ناول ’ودرنگ ہائیٹس‘ پہلی بار 1847 میں ایلس بیل

Read more

بلونت سنگھ کا ناول: رات چور اور چاند

پنجاب کی دھرتی نے ایسے کئی نامور ادیب اور شعرا پیدا کیے ہیں کہ جنہوں نے ادب کی دنیا میں سخن فہمی کو جلا بخشی۔ انہیں میں سے ایک بلونت سنگھ ہیں جنہوں نے اردو ادب کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ وہ ایک بہترین ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس ہیں۔ انہوں نے اپنے فکشن میں پنجاب کی دیہی زندگی کی ایسی بہترین عکاسی کی ہے کہ جیسے مصور کینوس پر کوئی ایسا شاہکار تخلیق کرے

Read more

اختر رضا سلیمی کے ناول ’جندر‘ پر ایک نظر

شاعر و فکشن نگار اختر رضا سلیمی اپنے معیاری کام کی وجہ سے اردو ادب میں خاصی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور سے ہے اور وہ 2006 سے اکادمی ادبیات پاکستان سے منسلک ہیں۔ ان کے دو ناول ”جاگے ہیں خواب میں“ 2015 اور ”جندر“ 2017 میں منظر عام پر آ کر مقبول ہوئے۔ ان کا تیسرا ناول ”لواخ“ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے

Read more

بھاگ بھری: برصغیر میں ایٹمی تباہی کی منظر نگاری

بھاگ بھری 2018 میں پہلی بار شائع ہوا۔ یہ ناول برصغیر پاک و ہند میں ہونے والی جوہری تباہی پر لکھا گیا فکشن ہے۔ ناول کے مصنف صفدر زیدی ہیں جو دی ہیگ ہالینڈ میں مقیم ہیں۔ صفدر زیدی قدیم اور جدید تاریخ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسی تاریخ سے ماخوذ واقعات اور حالات کو خیالات میں ڈھال کر ایک عمدہ اور منفرد ناول لکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ناول میں بھارت اور مغرب کے بیانیے کو

Read more

علی اکبر ناطق کی خودنوشت: آباد ہوئے، برباد ہوئے

دَورِ حاضر میں علی اکبر ناطق کسی تعارف کے محتاج نہیں اورمستقبل میں بھی اُمید کی جاتی ہے کہ اُن کے ادبی قد میں مزید اضافہ ہو گا۔ ناطق کی شخصیت متاثر کُن ہے اور اُن کے قلم سے نکلا ہوا ادب بھی با ادب ہے۔ جہاں پاکستان و بھارت میں اُن کے معتقدین کی کثیر تعداد ہے، وہیں ناقدین بھی اُن پر حملہ آور ہونے کے لیے ہمہ وقت تیارہیں۔ ایک طرف وہ اُردو کے بعض کلاسیکی شعرا کے

Read more

راہل سانکرتیاین، قرۃ العین حیدر اور اسامہ صدیق

کیا عجب نہیں کہ ہم نے پہلے اسامہ صدیق کے اس ناول کا مطالعہ کر ڈالا جو بعد میں منظر عام پر آیا یعنی ’غروب شہر کا وقت‘ اور بعد میں پہلے ناول ’چاند کو گل کریں تو ہم جانیں۔ ‘ لیکن اچھا ہی ہوا جو اس ترتیب سے ہم نے دونوں ناول ہی نبٹا ڈالے۔ ’غروب شہر کا وقت‘ کو لے کر ہمارے اسامہ صدیق کے بارے میں تاثرات ملے جلے تھے لیکن ’چاند کو گل کریں تو ہم

Read more

’نعمت خانہ‘ ایک سماجی و ثقافتی ناول

پروفیسر خالد جاوید کا شہرہ آفاق ناول ’نعمت خانہ‘ ایک سماجی و ثقافتی ناول ہے جو حقیقت نگاری پر مبنی ہے۔ اس ناول میں متوسط طبقے کے ایک مشترکہ خاندان کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ ناول میں باورچی خانہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اسے نعمت خانہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے اور ناول کے اہم واقعات یہی انجام پاتے ہیں۔ باورچی خانے کا ماحول اس میں موجود برتن و دیگر سامان کہیں تشبیہ، کہیں استعارے

Read more

’غروب شہر کا وقت‘ فکشن، سوانحی ناول، خودنوشت یا مضامین کا مجموعہ؟

پچھلے دنوں اسامہ صدیق کے نئے ناول کی تقریب رونمائی کی تصویری جھلکیاں آنکھوں سے گزریں تو جستجو ہوئی کیوں نہ اس بار ”غروب شہر کا وقت“ منگوا کر مطالع کر لیا جائے۔ ان کے پہلے ناول ”Snuffing out the Moon“ کے اردو ترجمہ ”چاند کو گل کریں تو جانیں“ کو نہ پڑھ پانے پر افسوس ہے حالاں کہ اس ناول نے بھی سوشل میڈیا پر خاصی شہرت پائی تھی۔ خیر! ناول گراں قیمت ہونے کے باوجود منگوا لیا گیا،

Read more