قائداعظم ثانی اور قائد عوام
چار سالہ جبری جلاوطنی، والدہ کا انتقال، بیوی کا انتقال، گھر کے باہر دن رات نعرے بازی، وطن کی مٹی سے دور، اہل خانہ سے دور، اپنی قوم سے دور، جس کو 11 سالہ ٹوٹل دور حکومت میں جدید ترین سہولیات مہیا کیں، اپنی پارٹی سے دور جو کئی باوردی اور بغیر وردی کے ڈکٹیٹروں کے ظلم و جبر برداشت کرتی رہی، اپنے ووٹروں اور سپورٹروں سے دور رہے پھر جب وطن کی مٹی پر واپس قدم رکھے تو سجدہ شکر ادا کرنے کے لیے شاہی قلعے کا انتخاب ہوا، بھائی اور بھتیجوں کے ساتھ شاہی قلعے میں نماز مغرب ادا کی۔
جلسہ گاہ میں پہنچے تو اپنے جذبات کو کنٹرول نہ رکھ سکے۔ فرط جذبات میں بھائی، بیٹی اور بھتیجے کو گلے سے لگایا۔ بیٹی سے گلے ملتے ہوئے دل پسیج گیا آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ بیٹی بھی باپ کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بھول گئی کہ میں ہزاروں کے مجمع میں کھڑی ہوں۔ جب تقریر کرنے کے لیے قوم کے سامنے کھڑے ہوئے تو کافی دیر تک فرط حیرت میں ڈوبے رہے کہ یہ قوم آج بھی مجھ سے اتنا ہی پیار کرتی ہے جتنا 1985 میں کرتی تھی۔ تقریر کا آغاز جذبات میں ڈوبے ہوئے الفاظ سے کیا۔
تقریر کا ایک ایک لفظ لگ رہا تھا کہ قومی سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں اپنے ساتھ اپنے خاندان کے ساتھ اور پارٹی کے ساتھ گزشتہ چھ سالوں میں ہونے والے ظلم و جبر کو بیاں نہ کر پائے بلکہ ہر لفظ میں ملک قوم کی ترجمانی کرتے نظر آئے ایسے لگ رہا تھا جیسے عوام کے درمیان ایک قائد اعظم ثانی کھڑا ہے، ایک قائد عوام کھڑا ہے جس کو فکر صرف اپنے ملک اور اپنی قوم کی ہے، اپنے خاندان سے ہوئی نا انصافیوں اور زیادتیوں کو اٹھا کر ایک سائیڈ پر رکھ دیا انسان ہے مٹی کا پتلا نہیں تھا جو اس قدر زیادتیوں کو بھول جاتا لیکن وہ بھول گیا۔
اس نے اپنے مخالف کسی جج کسی جرنیل اور کسی سیاستدان کا نام لینا بھی گوارا نہ کیا۔ بار بار اپنی تقریر کے دوران وہ اپنے ساتھ زیادتیاں کرنے والوں کا ذکر کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن اس کا ضمیر گوارا نہیں کر رہا تھا۔ وہ تاریخی مقام پر کھڑا اپنے دل سے نہیں اپنی ضمیر کی آواز کو بلند کر رہا تھا۔ چار سال کی جبری جلا وطنی نے اس کو بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ اس کے اندر سے انتقام، نفرت اور تعصب کا جن نکل گیا ہے۔ اب اس کی سوچ قائد عوام کی سوچ بن چکی ہے۔
اس کو فکر ہے تو ملک کی ڈوبتی معیشت کی ہے اس کو فکر ہے تو غریب کے بند ہوئے چولہے کی ہے، عام آدمی کے بجلی کے بلوں کی فکر ہے اس کو روٹی کی فکر ہے اس کو بچوں کے سکولوں کی فیس نہ ادا کرنے والے والدین کی ہے اس کو فکر مہنگی ادویات خریدنے والے بزرگ والدین کی ہیں۔ اس کو دوست ممالک سے بھیک مانگنے پر ایسے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی جیسے پچھلے پانچ سال عمران یا اس کے بھائی نے اربوں ڈالر کے قرضے نہیں لیے بلکہ اس کے ملک نے لیے ہیں وہ ذہنی طور پر اب نفرت کا خانہ ہمیشہ کے لیے بند کر چکا ہے۔
اس کے جسم میں اب وہ روح دوڑ رہی ہے جو درد قوم رکھنے والی ہے وہ اب سب کو ملک کے لیے قوم کے لیے متحدہ رکھنا چاہتا ہے کیونکہ اس نے اب محسوس کیا ہے کہ ہم سے تو ہمارا چھوٹا بھائی مغربی پاکستان بہت آگے نکل چکا ہے اب ہمیں بھی ایک ایک ارب ڈالر کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ ہم ایٹمی قوت ہیں جو اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور اس کے پاس اپنا ملک چلانے کے لیے ہی پیسے نہیں ہیں یہ کتنے شرم کی بات ہے ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ملک ہم سے کہیں آگے نہیں نکل چکے ہیں لیکن ہم آج بھی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے ہیں۔
ہماری آپس کی لڑائی کی وجہ سے بوجھ صرف قوم اٹھا رہے ہیں۔ قوم کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔ اگر اس بار اس کو قوم نے موقع دیا تو وہ قوم کے لیے واقع ہی کچھ کر کے دکھائے گا۔ یہ واحد لیڈر ہے جو دعوے، نعرے اور خیالی پلاؤ کی سیاست نہیں کرتا بلکہ حقیقت میں ملک اور قوم کی خدمت کرتا ہے یہ اس نے بار بار ثابت کیا ہے۔ اس کے جیسا ڈلیور کسی اور حکمران نے نہیں کیا یہ اس کے مخالفین بھی مانتے ہیں۔ اب وہ کسی کو اپنا مخالف بھی نہیں سمجھتا کیونکہ اس کی سوچ اب سب کو ساتھ لے کر چلنے والی بن چکی ہے۔
پاکستان کو آج ایک ایسے ہی قائد عوام کی ضرورت ہے جو قومی سوچ رکھتا ہو۔ میں میں کی دکان نہ چلاتا ہو کیونکہ اس میں میں کے چکر میں ہی پاکستان کو اور قوم کو ان چکروں میں الجھا دیا ہے خدارا اب قوم کو چکروں سے نجات دلاؤ قوم کی امیدیں اب تم سے وابستہ ہیں مینار پاکستان کے جلسے نے ثابت کر دیا ہے یہ قوم مہنگائی کے باوجود تمہارے جلسے میں پہنچی کیونکہ اسے امید تھی تم ان کا مستقبل سنوارنے آئے ہو امید ہے تم قوم کی امیدوں پر پورا اترو گے ان کو مایوس نہیں کرو گے یہ قوم اب تھک چکی ہے ترقی خوشحالی اس ملک کا بھی حق ہے قوم کو لگتا ہے تم ہی ان کو یہ حق دو گے۔


