سٹیٹس اور خودی (قسط 2 )


اس نے تھیلے میں سے سلوٹوں بھرا ایلومینیم کا ایک مختصر سا برتن نکالا، جس کا دھلا ہوا ہونا اس کی صفائی کے مذاق پر دلالت کرتا تھا۔ محترمہ نے کشکول سے دال اس میں محفوظ کرنے کے بعد ، تھیلے کے اندر جھانک کر خوراک کے ’محفوظ ذخائر‘ کا جائزہ لیا تو اسے یاسیت کا سامنا رہا۔ اس نازنین کے مکھڑے پر موجود ’جھاہیوں‘ میں معتد بہ اضافہ ہو گیا۔ البتہ جب اس نے دیکھا کہ اس کے توشہ خانے میں اخبار کا ٹکڑا پھٹ چکا ہے، جو اس کے لئے سفری دست پناہ کی حیثیت رکھتا تھا تو اس نے کمال بے نیازی سے گول مول گچھو مچھوکر کے پھینک دیا جو راہ چلتے بابو کے چمکتے کالے بوٹ سے جا ٹکرایا۔ اس کا یہ عمل کسی امیر زادی سے کم نہ تھا جو ایسی چیزوں سے گلو خلاصی کرا لیتی ہیں جو ان کے معیار زندگی سے لگا نہ کھاتی ہوں۔

ابھی ماضی قریب کی بات ہے جن دنوں ہلکی پھلکی دھات ایلومینیم عام ہوئی تھی اور اسے برتن سازی کے لیے استعمال کیا جانے لگا تھا تو گھر گرہستی کرنے والی بیگمات نے پیتل اور کانسی کے برتنوں کو ایلومینیم کے برتنوں سے تبدیل کروا لیا تھا، جن کو سلور کے برتن بولاجاتا ہے۔ تبدیلی اس لیے ضروری ٹھہری کہ اب ان کا آؤٹ فٹ (پہناوا ) پیتل اور کانسی کے برتنوں کو قلعی کرنے والے حقیر کے سامنے آ کر قلعی کروانے میں مزاحم تھا۔

وہ ایسے ’نیچ ذات‘ سے محو گفتگو ہو کر اپنی معاشرتی حیثیت کو گرہن کیوں کر لگنے دیں۔ برینڈ زیب تن کرنے سے پہلے تک ان قدیم پیتل اور کانسی کے برتنوں سے ان کا یارانہ رہا تھا۔ سلور کے برتن نئے نئے تو اپنی چمک سے اپنے دیدار کو رام کر لیتے تھے لیکن جلد ہی اپنا حسن کھو دیتے تھے، ان پر چھایئاں پڑ جاتی تھیں اور ضعیف دکھنے لگتے تھے۔ بھلا ہو مغرب کا کہ جس نے مبرا بہ داغ سٹیل (سٹین لیس سٹیل) سے برتن بنانے کا ہنر سیکھا اور ہمیں بھی سکھایا تو دمکتی حسین نظر والیوں نے سلور کے برتنوں کو چمکتے دمکتے سٹین لیس سٹیل کے برتنوں سے بدلوا لیا۔

اس کے بعد کراکری کا زمانہ آیا۔ تام چینی اور برنجی ظروف چھائے۔ مگر ان کی زندگی مختصر ہونے کے سبب سے زیادہ تر بہت ہی خاص مہمانوں کے انتظار میں طاقوں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ پھر جلد ہی اعلی ٰ پائے کے پائیدار اور وزن میں بھی ہلکے، نرخ میں بھی ارزاں پلاسٹک کے دیدہ زیب برتن مارکیٹ میں آئے تو سٹین لیس سٹیل ٹائیں ٹائیں فش ہوا۔ چیزوں کے بدلنے میں ہم جلد باز ہیں کہ دقیانوسی نہ دکھیں لیکن خیالات کو سائنسی بنیادوں سے ہم آہنگ کرنے میں چیونٹی کی چال چلتے ہیں۔ پھر یہ سوال تو پیدا ہوتا رہے گا کہ ”کیسے پہنچوں میں اپنی منزل تک؟“

جب اس نے محسوس کیا کہ اس کا نان شبینہ تقریباً تمام ہونے کو ہے، جو ذخیرہ کر رکھا تھا تو اس نے ایک نرالی چال چلی۔ مجھے یہ خیال اس لیے آیا کہ جہاں دوسرے معاملات میں اس کے اور ہمارے حالات میں مماثلت تھی، وہاں یہ حالت بھی منطبق ہونے والی تھی کیونکہ ہم بھی ایک چالاکی کرنے والے تھے۔ اس کی چال اگر کوئی تھی اور ہماری چالاکی جو طشت از بام ہونے کو تھی، میں ایک فرق ضرور تھا۔ وہ تھا سٹیٹس اور خودی کا ۔ اس نے اپنی پوٹلی (تجوری ) سے چونی نکال کر ہوٹل کے مالک کو پیش کی تاکہ وہ اس زر مبادلہ میں آدھی امداد شامل کر کے ایک اور روٹی عنایت کردے کیونکہ ایک وقت کی دو تو ہونی ہی چاہیں۔

اس بوڑھے مالک کے ذہن میں نہ جانے عاقبت کا خیال آیا یا رحم اس پر غالب ہوا۔ اس نے چونی لوٹاتے ہوئے، ایک اور روٹی بلا معاوضہ تھما دی۔ مزید امداد بر وقت مل جانے اور زر مبادلہ بچ جانے کی خوشی میں اس نے سخاوت کرنے والے کو لجاتی ہوئی آواز میں جھولیاں بھر کے دعائیں دیں۔ ”االلہ، نبی تمھیں تا قیامت دائم آباد رکھیں، جگ تمھارا محتاج ہو، تمھیں جنت کی ٹھنڈی ہوا نصیب ہو، تمھیں حج اور روضہ رسول کی زیارت نصیب ہو۔ سدا ہسدہ وسدہ رہو، تیرے کاروبار میں اور بھی اضافہ ہو۔“ غرض اتنی دعائیں دیں کہ بوڑھا مالک تقریباً شرمندہ ہو گیا۔ ہم سا کوئی ’مہذب‘ ہوتا تو اس کار خیر پر اللہ کے بندے کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے رب کا شکر بجا لاتا یا اسے اپنی ہوشیاری سے تعبیر کر کے مطمئن ہوتا۔ کہاں اس ’غیر مہذب‘ نے بندے کا شکریہ خود ادا کیا اور احسان کے بدلے، اس اللہ کی رحمت کے حوالے کر دیا۔ اس طرح اس نے اپنے آپ کو اعلٰی مقام پر فائز کروا لیا۔

میرزا اسد اللہ خان مالی امداد کرنے پر ہر بار اپنے مربی و تلمند نواب خلد آشیاں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جو اباً لکھ بھیجتے :

تم سلامت رہو ہزار برس ہر برس کے دن ہوں پچاس ہزار

ہمارے پاس بھی ایک ’ڈبہ‘ تھا، ایلومنیم (عرف عام میں سلور) کا بنا ہوا۔ یہ ڈبہ ’ٹفن‘ جیسے دیسی برتن کا ایک حصہ تھا۔ اسے ہم نے دنیا داروں کی نظر بد سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک رومال میں (دستر خوان میں نہیں ) ڈھانپ رکھا تھا۔ شاید اس لیے کہ ایسا ڈبہ دیکھ کر لوگ ہمیں کم تر سٹیٹس کا ہی نہ جان لیں جس کے حصول کے لیے ہم نے دن رات ’پڑھائی‘ کی۔ ہوٹل کے قریب پہنچ کراس پرسے رومال ہٹا کر اعتماد سے کھڑے ہو گئے۔ یہاں کے عوامی ہوٹلوں کے منتظمین کی ’خو‘ یہ ہے کہ بغیر سالن خریدے ر وٹی فروخت نہیں کرتے اور ہماری ’وضع‘ یہ کہ ہوٹل کی ترکاری نہیں کھاتے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو ’حرام‘ مغز نے تیار کیا ہو۔

ہم نے قانونی بے قانونی کرتے ہوئے، ایک پلیٹ مکس سبزی والی ترکاری اور بارہ چپاتیوں کا آرڈر دے دیا۔ کاؤنٹر پر بیٹھے مچھندر نے شرمندہ کر دیا یہ کہہ کر ”پروفیسر صاحب اتنے سالن کا کیا کریں گے! رات کے لیے بھی بچانا تو نہیں ہے!“ لوگوں کا کیا ہے؟ باتیں بنانا؟ کوئی سدھ بدھ نہ دینا! ہم نے اس کی بات پر صرف نظر کیا کیونکہ ہمیں پیسوں کی بچت ہونا تھی اور زیادہ مرغن سالن کھانے سے بھی۔ سالن ٹفن میں ڈالوا کر تندور میں سے پک کر نکالی جانے والی روٹیوں کا انتظار کرنے لگے۔

جب روٹیاں رومال پر تہہ در تہہ جمانے کے بعد ہمارے حوالے کی گئیں تو ہمارے ایک بزرگ ساتھی نے انہیں گننا شروع کر دیا۔ میں نے ٹوکا بھی یہ کہہ کر کہ میری والدہ کہا کرتی ہیں، ”روٹیاں گننا بے برکتی کا باعث ہوتا ہے۔“ لیکن اس خدا ترس نے سنی ان سنی کر دی۔ ”روٹیاں تعداد میں کوئی زیادہ تو تھی نہیں۔“ پھر بھی ہوٹل کا بوڑھا مالک جو مونچھوں والے شخص کو چبوترے سے اتار کر اب مچان سنبھال چکا تھا، میری بات سن کر ہماری طرف متوجہ ہوا اور تندور پر بیٹھے شخص کو اشارہ کیا۔

اس نے ایک اور روٹی ہمارے والی ڈھیری پر رکھ دی۔ پھر میری طرف متوجہ ہوا ”آپ بے برکتی والی بات صحیح کہہ رہے ہیں لیکن آپ چنگیر پر نہیں بیٹھے ہوئے، ہوٹل میں آئے ہیں، جہاں ترکاری بکتی ہے تو روٹی بھی بکتی ہے۔ اگر روٹیاں ختم ہو جائیں اور سالن بچ رہے، باسی ہو جائے گا۔ اپنا خسارہ پورا کرنے کے لیے کل پکائے جانے والے تازہ سالن میں ملانا پڑے گا۔ اسے ذائقہ دار (چٹخارے دار) بنانے کے لیے طرح طرح کے مرچ مصالحے ڈالنا پڑیں گے۔“ وہ چہرے پر ناآسودگی کے آثار کے ساتھ، لہجے میں بناؤٹی مٹھاس اور اپنائیت لاتے ہوئے بولا ”ایک روٹی آج میری طرف سے لے جاؤ۔ شاید آپ کا چوتھا ساتھی گھر میں بیٹھا آپ کا انتظار کر رہا ہو۔“ ہمیں بھی ایک روٹی بلا معاوضہ مل گئی۔ کاروبار چلانے کے لئے ’ادھر ادھر کی لا یعنی باتیں‘ سننے کی مزید ہمت نہیں تھی ہم میں۔ اپنا سا منہ لے کر ، مالک کا ’خوش گوار‘ موڈ دیکھتے ہوئے ہوٹل سے باہر نکل آئے مگر بڑھیا کی پیروی میں مالک کا شکریہ ادا نہ کر سکے۔ محض جزاک اللہ کہنے پر اتفاق کیا اور خود کو ’تازہ تہذیب‘ کے معزز افراد کہلوانے کا موقع رائیگاں نہ جانے دیا۔

۔
17۔ مئی 1986 (پنڈی گھیب)

Facebook Comments HS