( 7 ) لنگر خانے میں آسمانی حور


بابا جی کے عقیدت مند اور مریدین پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ لوگ دور دراز کے علاقوں سے آتے۔ اور اپنی حاجتیں اور مرادیں پانے کے لیے یہاں نوراتے کاٹتے۔ نوراتوں کے قیام کے دوران یہ مریدین ننگے پاؤں ہی چلتے پھرتے۔ پاؤں میں جوتا پہننے کی ممانعت ہے۔ بابا جی کے لنگر سے کھانا کھاتے۔ اور سارا دن دربار میں حاضری کی حالت میں رہتے۔ عورتیں عام طور پر دربار میں جھاڑو پوچا کرتیں۔ اور مرد بھی حسب استطاعت دربار کی خدمت میں اپنے آپ کو مصروف رکھتے۔

گرمیوں کی گرم اور حبس زدہ راتیں لنگر کے صحن میں بوریا نشینی بلکہ خاک نشینی کی حالت میں گزرتیں۔ کیونکہ کے نوراتیوں کے لیے چارپائی اور بستر کا استعمال عموماً ممنوع خیال کیا جاتا ہے۔ اس لیے سب محمود و ایاز بغیر کسی بھی قسم کی سماجی، نسلی، معاشی یا جنسی تفریق کے ایک ہی صف میں زمین بردوش نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ان خاک نشینوں کی سردیوں کی ٹھنڈی اور طویل راتیں بھی لنگر میں نبی ہوئی چھوٹی چھوٹی کوٹھڑیوں میں قطار اندر قطار لیٹ کر گزرا کرتیں۔

عقیدت و ریاضت کا یہ حال تھا۔ کہ جملہ مریدین اپنے لبوں پر حرف شکایت لائے بغیر نوراتے کی تمام سختیوں اور پابندیوں پر پوری یک سوئی اور ایمان داری سے عمل پیرا ہوتے۔ ویسے تو دیوان صاحب میں کئی چھوٹے موٹے لنگر موجود تھے۔ جہاں نوراتیوں کے قیام و طعام کے انتظامات موجود ہوا کرتے تھے۔ لیکن مرکزی حیثیت نور محمد لانگری کے لنگر کو حاصل تھی۔ پتلی سی دال اور تنور پر لگائی گئی روٹیاں اس لنگر کا واحد اور ہمہ وقت دستیاب طعام تھا۔

اگر کبھی کبھار گوشت مل بھی جاتا۔ تو اس کو بھی اس دال میں ڈال کر دال کا ہی حصہ بنا دیا جاتا۔ جب دال کی دیگ پک کر تیار ہوجاتی۔ تو مریدین اور زائرین لنگر کے تنور پر لگائی جانے والی گرما گرم روٹیاں حسب ضرورت اٹھا لیتے۔ وہاں پر مٹی کے پڑے ہوئے پیالوں میں سے ایک پیالہ اٹھاتے۔ اور دیگ پر بیٹھی ہوئی مائی صاحب کے پاس آ جاتے۔ اور مائی صاحب ان کے پیالے میں چمچہ بھر دال ڈال دیتیں۔ اس لنگر کے حصول اور کھانے میں ضرورت کی بجائے عقیدت اور نیاز مندی کا عنصر زیادہ غالب ہوتا۔ بابے کا لنگر کھانا ان مریدین اور زائرین کے لیے بہت بڑی عزت افزائی اور تکریم و تحریم کا باعث سمجھا جاتا۔

ایک بار میرے کچھ واقف کار پاکپتن سے حاجی شیر جا رہے تھے۔ راستے میں انہوں نے میرے پاس رکنا تھا۔ میں نے ان کے لیے کھانا تیار کروایا۔ جب کھانا ان کے سامنے لایا گیا۔ تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ کہ دربار جا کر بابے کا لنگر ہی کھائیں گے۔ میں نے بہت کوشش کی لیکن بے سود۔ اتنے میں گلی والے دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا۔ تو باہر لالہ جی اپنی گاڑی میں موجود تھے۔ انہوں نے سالن کا ڈونگہ اور روٹیوں کا پیکٹ میرے حوالے کرتے ہوئے کہا۔

کہ بابے کے دربار کے لیے لنگر پکایا تھا۔ میں نے سوچا۔ وہاں بھیجنے سے پہلے آپ کو بھی دیتا چلوں۔ آپ بھی تو بابے کے پڑوسی ہیں۔ یہ ساری بات چیت میرے مہمان بھی سن رہے تھے۔ بہت خوش ہوئے۔ کہ بابے کو ان کی آمد کے متعلق علم ہے۔ اور انہوں نے اپنا لنگر ہمارے لیے یہاں بھیج دیا ہے۔ اور ان کی اس حاضری کو بھی شرف قبولیت بخش دیا گیا ہے۔ بہر حال بابا جی کے لنگر کا حصول اور اسے کھانا زائرین اور مریدین کے نزدیک ایک بہت بڑی سعادت اور عزت افزائی کا باعث خیال کیا جاتا تھا۔

دیگ پر بیٹھی ہوئی دال تقسیم کرنے والی مائی صاحب سترہ اٹھارہ سال کی ایک انتہائی خوبصورت اور سحر انگیز شخصیت کی مالک خاتون تھی۔ اس کے ملکوتی حسن کی بدولت اس کا تعلق زمین کی بجائے آسمان سے زیادہ معلوم ہوتا۔ یوں لگتا کہ وہ محض لنگر کی تقسیم کا فریضہ ادا کر نے کے لیے زمین پر بھیجی جاتی ہیں۔ اور اس فریضے کی ادائیگی کے بعد واپس آسمان پر چلی جاتی ہیں۔ کیونکہ مائی صاحب صرف لنگر کی تقسیم کے دورانیے میں ہی جلوہ افروز ہوتی تھیں۔

اس لیے وہاں پران کے متعلق کئی مافوق الفطرت قسم کی روایات زبان زدعام تھیں۔ ویسے بھی مائی صاحب اپنی ہر کشش شخصیت کی بدولت اپنے ان سادہ لوح مریدین کو جن کی عورتیں کئی کئی روز تک منہ دھونے کے تکلف سے بھی بے نیاز تھیں۔ واقعتاً کوئی آسمانی مخلوق ہی محسوس ہوتی بہر حال یہ بات تو طے تھی کہ نوجوان مائی صاحب کی پر اثر اور سحر انگیز شخصیت زائرین کی سادہ لوحی اور عقیدت مندی کے ساتھ مل کر اس کے گرد آسمانی حسن کا ایک ایسا مقدس نورانی ہالہ کھینچے رکھتی کہ وہ لنگر کے احاطے میں سب کی مرکز نگاہ رہتیں۔

لنگر کی دال مٹی کے پیالے میں وصول کرتے وقت اکثریت کی توجہ دال اور پیالے کی بجائے مائی صاحب پر زیادہ مرکوز رہتی اور مائی صاحب کی ذرا سی بے توجہگی سے دال کا چمچہ پیالے کی بجائے زمین پر جا گرتا۔ ایسے وقت مائی صاحب کبھی غصہ نہیں کرتیں تھیں۔ مسکرا مسکرا کر مرید ین سے حال چال دریافت کرتیں۔ زمین پر گری ہوئی دال کی فوری صفائی کرواتیں اور دال کا ایک چمچہ بھر کر سائل کے پیالے میں دوبارہ ڈال دیتیں۔ دال زمین پر گرنے کا یہ عمل اکثر و بیشتر جاری و ساری رہتا۔

لیکن یہ بھی لنگر کی تقسیم کا شاید حصہ بن چکا تھا۔ لنگر کی تقسیم کا یہ سارا عمل کچھ اس قدر دل فریب اور سحر انگیز تھا کہ زائرین کی اکثریت بار بار اس عمل سے گزر کر لنگر کے حصول کے ساتھ ساتھ مائی صاحب کی زیارت کر کے اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش میں مصروف نظر آتی تھی۔ بہر حال یہ بات تو طے ہے کہ اس لنگر میں مائی صاحب کی شخصیت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی اور اس لنگر خانے کے بقیہ تمام امور اور معاملات مائی صاحب کے گرد طواف کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔

Facebook Comments HS