آپ کا جسم آپ کی مرضی، مگر۔ ۔ ۔
جب سے عمر عزیز نے پچاس کا ہندسہ پار کیا ہے، مجھے لگتا ہے میں کسی قدر خبطی سا ہو گیا ہوں۔ پہلے جن معاملات کو دیکھ کر یونہی کڑھتا اور دل میں برا بھلا کہتا گزر جایا کرتا تھا، اب ان پر لوگوں کو ٹوکنے روکنے لگا ہوں۔ گویا بزعم خود سماج سدھار کا خبط۔ جب کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہوں تو بعد میں کبھی ڈر بھی لگتا ہے کہ کسی روز سر راہ خمیازہ ہی نہ بھگتنا پڑ جائے۔
تفصیل اس تمہیدی اجمال کی یوں ہے کہ اگلے روز میں حسب معمول امامہ کو سکول سے لینے گیا۔ گیٹ سے تھوڑا پیچھے گاڑی روکی تو ایک تیس بتیس برس کے صاحب موٹرسائیکل روکے، کان سے لگا فون سن رہے تھے۔ یہ ایک بڑے سکول کی گرلز برانچ ہے۔ بچیاں آ جا رہی تھیں۔ گاڑی سے اتر کے گیٹ تک جاتے، امامہ کا نام اناؤنس کرواتے، اس کے باہر آنے پر اسے لے کر گاڑی تک پہنچنے میں مجھے پانچ منٹ تو لگ ہی گئے ہوں گے۔ واپس آیا تو ان صاحب کا فون جاری تھا، فرق یہ پڑا کہ پہلے وہ موٹر سائیکل کو جانگھوں میں دبائے بایاں پیر زمین پر رکھے بات کر رہے تھے۔ اب موٹر سائیکل چھوٹے سٹینڈ پر لگا تھا اور وہ ٹہل ٹہل کر گفتگو کر رہے تھے۔ تاہم فون پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ ایک عمل ایسا تھا جو وہ مسلسل کیے جا رہے تھے۔
انہوں نے شلوار قیمض زیب تن کی ہوئی تھی۔ وہ موٹرسائیکل پر بیٹھ کے بات کر رہے تھے یا ٹہلتے ہوئے، ان کا بایاں ہاتھ قمیص کے دامن کے نیچے سے ہوتا ہوا، جانگھوں کے بیچ غائب ہو رہا تھا۔ میں نے گاڑی کھڑی کی تب بھی اور واپس آیا تب بھی یہ عمل مسلسل جاری تھا۔
امامہ کو گاڑی میں بٹھا کے میں ان صاحب کے پاس چلا گیا۔
”بھائی صاحب! یہاں جانگھوں کے بیچ کون سی ایسی نادر و نایاب شے ہے جس کو آپ مسلسل سہلائے چلے جا رہے ہیں“
وہ ہونقوں کی طرح میرا منہ دیکھنے لگے، انہیں شاید سمجھ نہ آئی کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنی بات جاری رکھی۔
”یہاں جتنے داڑھیوں والے، مونچھوں والے یا کلین شیوڈ لوگ گھوم رہے ہیں، سب کے پاس یہ سوغات موجود ہے مگر آپ کے سوا کوئی بھی اسے برسر رہ گزر ایسا پروٹوکول نہیں دے رہا“
ان کی گفتگو بند ہو گئی تھی، فون کان سے لگا تھا، نہ وہ فون پر کوئی جواب دے رہے تھے نہ مجھے۔ سوالیہ نظروں سے ہکا بکا مجھے دیکھے جا رہے تھے۔
تب میں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ”چھوڑ دیں اس غریب کو“
انہوں نے ٹھٹھک کے ہاتھ باہر نکال لیا۔ پھر میں نے آسان لفظوں میں انہیں کہا ”راستہ ہے، بچیاں اور خواتین آ جا رہی ہیں، آپ پچھلے پانچ منٹ سے بات کر رہے ہیں مگر بایاں ہاتھ آپ کا مسلسل ایسے عمل میں مصروف ہے جو شارع عام پر کسی طور بھی زیبا نہیں۔ خارش کی تحریک اگر ہوتی ہے تو دو چار سیکنڈ میں نمٹائی جا سکتی ہے، آپ نے تو حد کر دی یار“
ان صاحب نے نہ میری بات کا کوئی جواب دیا، نہ کوئی وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی معذرت کا کوئی حرف زبان پر لائے۔ بس یہ مہربانی فرمائی کہ اس حرکت سے باز آ گئے۔
عین ممکن ہے ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ لگانے اور اسے ماننے والے میری اس حرکت پر گرفت کرنے کا سوچیں کہ وہ صاحب جو کچھ بھی کر رہے تھے، اپنے جسم کے ساتھ کر رہے تھے، تم کون ہوتے ہو روکنے والے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے میں خود ”میرا جسم میری مرضی“ کا ماننے والا ہوں لیکن اپنے جسم کے ساتھ بھی اپنی مرضی تب کی جا سکتی ہے جب آپ خلوت میں ہوں۔ جلوت میں اور پبلک کے درمیان اپ کو دوسروں کی جمالیات اور پسند ناپسند کا احترام کرنا چاہیے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر آپ کو خود سوزی کرنی ہے تو وہ بھی اپنی چاردیواری میں کیجئے، سڑک پر کی جانے والی خود سوزی سے نہ صرف آپ کے بدن کے جلنے کی سڑاند سے دوسروں کی حس شامہ (سونگھنے کی حس) پر ناگوار اثرات پڑتے ہیں بلکہ یہ کریہ منظر بصارتوں کو بھی آلودہ کرتا ہے۔
آخر میں ایک سوال ہے جو شہر میں گھومتے ہوئے میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی ڈاکٹر عالیہ نکہت اکثر پوچھا کرتی ہیں۔ جب سڑک کنارے کسی دیوار سے ماتھا جوڑے کوئی صاحب اپنا مثانہ خالی کر رہے ہوتے ہیں یا فٹ پاتھ پر ٹہلتے ہوئے اپنی جانگھوں کے درمیان خارش کرتے نظر آتے ہیں تو وہ کبھی پوچھا کرتی ہیں کہ بازاروں، گلیوں، چوراہوں اور دیگر عوامی مقامات پر کبھی کوئی خاتون ایسا کچھ کرتی کیوں نظر نہیں آتی؟ آخر کو وہ بھی انسان ہے، اس کے بھی خارش ہوتی ہے، مثانہ بھی ہے اس کا مگر اتنی عمر گزر گئی، کبھی برسر راہ کسی عورت کو نہ پوشیدہ مقامات کھجاتے دیکھا نہ مثانے کے بوجھ سے فراغت پاتے!
اس سوال کا جواب میرے پاس تو کبھی نہیں ہوا، آپ کے پاس ہے تو ضرور بتائیے گا۔


