ہم کیا چاہتے ہیں؟


ایک ایسا سوال، جس پر شاید ہر کوئی ایک طویل مضمون ضبط تحریر میں لا سکتا ہے۔ مختلف لوگوں کی خواہشات مختلف ہو سکتی ہیں، مگر ایک بات جو یقیناً سب میں مشترک ہو گی، وہ اس فہرست خواہشات کا طویل ہونا ہے۔ اس جہان مختصر و فانی میں ہر کوئی ان گنت حسرتیں اور ناآسودہ خواہشات اپنے سینے میں پالے ہوئے ہے، جن میں سے کچھ تو انسان کی زندگی میں پوری ہو جاتی ہیں، مگر کچھ خواہشات پورا ہونے کی حسرت سینے سے لگائے انسان اس دنیا سے ہی کوچ کر جاتا ہے۔

عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ خواہشات کی فہرست جتنی طویل ہو، انسانی محرومیوں کی تعداد بھی اسی تناسب سے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ نکتہ مگر بہت کم لوگوں کی سمجھ میں آتا ہے، اور اگر سمجھ میں آ جائے تب بھی انسان انوکھا لاڈلا بنتے ہوئے چاند سے کھیلنے کی تمنا میں پاگل ہوتا ہی رہتا ہے۔ غالب نے اپنی روایتی مشکل پسندی کے برعکس انتہائی سادہ الفاظ میں انسانی نفسیات کے اس گنجلگ پہلو کو اپنے ایک شعر میں یوں بیان کیا ہے۔

ہزاروں خواہشیں ایسی، کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے

ہم بذات خود، کافی حد تک قناعت پسند واقع ہوئے ہیں، لہذا زندگی میں خواہشات کی لمبی چوڑی فہرست کبھی مرتب نہیں کی۔ مگر ایسا بھی نہیں کہ خواہشیں کی ہی نہ ہوں۔ بہت سی خواہشیں تھیں، کچھ پوری ہو گئیں، کچھ شاید کبھی پوری نہ ہوں اور اس جسد خاکی کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہو جائیں۔ یہ اور بات ہے کہ یہ ان خواہشات سے دست برداری کا ارادہ پھر بھی نہیں، کہ کیا پتہ کبھی کوئی معجزہ ہو ہی جائے۔ زندگی میں بہت انہونیاں دیکھ رکھی ہیں، سو یہ بھی آس ہے کہ شاید انہونیاں اب بھی ہوتی ہوں۔ کیا خبر، کیا پتہ! میرا ایک شعر اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے۔

امید ہے نہ کوئی انتظار باقی ہے
ہمارے دل میں مگر تیرا پیار باقی ہے

ویسے ہم جو مل جائے اسے غنیمت سمجھتے ہیں اور ناممکن الحصول کی تلاش میں مارے مارے پھرنے والوں میں سے نہیں۔ شاید یہ ایک خامی ہے۔ ظالمانہ حد تک حقیقت پسند ہونا۔ ہاں اگر رعایتی نمبر دینا چاہیں تو طبیعت کا استغنی بھی کہ سکتے ہیں، قناعت پسندوں میں گردان سکتے ہیں۔ یہ آپ کے حسن نظر یا حسن ظن پر چھوڑتے ہیں۔

البتہ ایک خواہش ایسی ہے جو ہر سال اکتوبر کے مہینے میں بڑی شدت سے دل میں سر اٹھاتی ہے اپنی منہ زوری کے سیل بلا خیز میں ہمیں بہا لے جاتی ہے، اور وہ ہے، خزاں رت میں شمال دیوی کے درشن کرنا۔ ستمبر کے آخر یا اکتوبر کی شروعات سے ہی ایک ٹیس جگر میں اٹھتی ہے، اک درد سا دل میں ہوتا ہے۔ دل مچل مچل جاتا ہے پسلیوں میں اس زور سے دھڑکنا بلکہ دھڑدھڑانا شروع کر دیتا ہے گویا پسلیاں توڑ کر باہر نکل پڑے گا۔ شمال دیوی کے چرنوں میں سیس نوانے کی خواہش شدید سے شدید تر ہوتی چلی جاتی ہے۔

راکا پوشی کا نگر ہمارے خوابوں کا نگر بن جاتا ہے تو جنت گل کن کا دیدار ہماری جان آرزو۔ نظریں گل گلمت کے نظارے کو ترستی ہیں، تو روح نلتر کی ست رنگی جھیل کنارے جا بیٹھنے کو بے تاب ہونے لگتی ہے۔ کبھی غذر کی وادی کے نظارے نظروں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں، تو کبھی ہنزہ میں راکاپوشی کا حسن خوابیدہ ہماری چشم تصور کو محصور کرنے لگتا ہے۔ کبھی عشق من یعنی اشکومن کی وسیع و عریض وادی پردہ ذہن پر اپنے نقش ثبت کرنے لگتی ہے تو کبھی ہنزہ میں التت کے شاہی باغ میں چھائی خزاں کی بہار کے رنگ ہمیں ادھر کا رخ کرنے پر مجبور کرنے لگتے ہیں۔ کبھی وادی پھنڈر میں پھنڈر جھیل کے کنارے چہل قدمی کی تمنا دل کو بے چین کر دیتی ہے تو کبھی دیوسائی کی شیو سر جھیل کے آئینوں میں ہمالیائی بھورے ریچھ کے سنگ اپنا عکس دیکھنے کی خواہش دل میں گھر کرنے لگتی ہے۔

عجیب اور نہ سمجھ میں آنے والی بات یہ ہے کہ بار ہا ان علاقوں میں جانے کے باوجود، ہر سال اس کسک، تڑپ، جنون، اور دیوانگی کی کیفیت کم ہوتی ہی نہیں، نیت شوق بھرتی ہی نہیں۔ شمال دیوی کا عشق ماند پڑتا ہی نہیں بلکہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ شد و مد کے ساتھ ابھرنے لگتا ہے۔ اور ہم صحبت برہم کے خالق عبدالحلیم شرر کی طرح پکار اٹھتے ہیں۔ کئی بار دیکھا ہے مگر بار بار دیکھنے کی ہوس ہے۔

آخری بار خزاں میں دیوی جی کے درشن 2020 میں کیے تھے۔ اب کے برس ارادہ تو ہے مگر میری دو ٹکیاں دی نوکری، میری ان مول خزاں اور شمال دیوی کے درمیان ابھی تک حائل ہے۔ دیدار یار ہو گا کہ نہیں۔ ابھی تک کچھ پتہ نہیں۔

Facebook Comments HS

مظفر حسین بخاری

ایم ایچ بخاری ڈیویلپمنٹ پروفیشنل ہیں اور ایک ملٹی لیٹرل ترقیاتی ادارے سے منسلک ہیں۔ کوہ نوردی اور تصویر کشی ان کا جنون ہے۔ مظہر کے تخلص سے شعر کہتے ہیں۔

muzzafar-hussain-bukhari has 32 posts and counting.See all posts by muzzafar-hussain-bukhari