آپ کو رضوان سے تکلیف کیا ہے؟


اس قدر غیر ادبی اور ناشائستہ ٹائٹل کے لیے معذرت، لیکن ٹویٹر، انسٹا گرام، فیس بک، تھریڈ سوشل میڈیا تو سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی نہا دھو کر انڈین ٹی وی بنے بیٹھے ہیں۔

غور سے دیکھیے اسے، یہ ہے وہ شخص جو گراؤنڈ میں نماز پڑھتا ہے، کیسری دوپٹہ گلے میں نہیں ڈالتا، پریس کانفرنس میں اللہ کا نام دھڑلے سے لیتا ہے اور لیتا ہی چلا جاتا ہے،

غور سے دیکھئے اس آدمی کو، یہ میچ جیتنے پر غزہ کا نام لیتا ہے، اور ہارنے پہ اللہ کی مرضی کہتا ہے۔
یہ اللہ کو ویرات کوہلی کا بھی اللہ بتاتا ہے،
غور سے دیکھئے اس آدمی کو۔
یہ آدمی آپ کے آس پاس ہی کہیں ہو گا، ایک عام آدمی کے روپ میں۔
جی ہاں بالکل ایک عام پاکستانی اور تھوڑے سے زیادہ مسلمان آدمی کی طرح،

ہر پاکستانی اپنے اردگرد ایک دو رضوانوں کو تو جانتا ہی ہو گا جو پانچ وقت مسجد جاتے ہوں گے، ہر دوسری بات میں اللہ کا نام لیتے ہوں گے، اور سیگریگیٹڈ ورک اسپیس کے حامی ہوں گے۔

مذہب اور سیکولر ازم کی کشمکش شاید رضوان کے آبا و اجداد سے بھی پہلے سے چلی آ رہی ہے۔

ہمارے ہاں چونکہ سیکولر ہونا گالی ہے اس لئے ہمارے ہاں سیکولر حضرات لبرل کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ کہنے والے پھر بھی انہیں سیکولر ہی کہتے ہیں گالی کے طور پر۔

تھوڑی سی ایک آدھی کتاب اگر پڑھ لی جائے تو بہرحال یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ سیکولرازم اور مذہب کے مباحثے کو ایک جنگ کی شکل دینے میں مغربی نظریات کا ہاتھ زیادہ ہے، وگرنہ سیکولرازم محض پبلک سفیر میں مذہب کے اظہار کی نوعیت کا تعین کرتا ہے۔

آ سیکولر ایج میں چھپے ایک آرٹیکل میں سیکولرٹی کی چار اقسام ہیں جس میں ایک قسم کو ہم سب جانتے ہیں۔

سیکولرٹی ون کے مطابق مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور اسے پرائیویٹ سفئیر تک محدود ہو جانا چاہیے۔ اس سیکولرٹی نے ہی سیکولرازم کو مذہب کا دشمن بنا کر متعارف کروایا ہے۔

اسی مضمون کے مطابق سیکولرٹی کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ پبلک سفئیر میں فرد کے مذہب کے اظہار کو محفوظ بنایا جائے خواہ وہ کوئی بھی مذہب ہو۔

خواہ رضوان گراؤنڈ میں نماز پڑھے، کوئی ہندو کھلاڑی بلے پر اوم لکھوا کر لے آئے یا ہاردک پانڈیا امام کو کروائی جانے والی گیند پر کالے جادو کا منتر پڑھے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کو پبلک سفئیر میں مکمل آزادی سے ایکسپریس کر سکے۔

اب ایسے میں ہمارے اور ہمارے پڑوسیوں اور غیر پڑوسیوں کے سیانوں کو دوران میچ استعمال شدہ بلے اور منتر پر تو کوئی اعتراض نہیں، مسئلہ ہے تو میچ کے بعد کی نماز ،ٹویٹ اور باتوں پر۔

اور سیانوں نے خبر بھی لگوائی ہے جا کے تھانے میں
کہ کیپر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں۔
(اکبر پریاگ راجی سے معذرت کے بغیر)
اس کا مطلب مسئلہ مذہب کے پبلک افیئر پر ظہار سے نہیں رضوان سے ہے۔
اب اس کی بھلا کیا وجہ ہو سکتی ہے،
اگر غصہ ٹیم کی کارکردگی پر ہے تو رضوان کی کارکردگی بہتوں سے بہتر ہے،

رضوان نے تو کسی کے آؤٹ ہو جانے کے بعد اس کے منہ کے آگے جا کے اللہ اکبر اللہ اکبر کے نعرے بھی نہیں لگائے،

رضوان نے تو قاسم کے نانکوں کو برا بھلا بھی نہیں کہا۔
اس کے باوجود خبروں پہ خبریں، ٹویٹس پہ ٹویٹس، کالم پہ کالم۔
جیسے ہماری سن سینتالیس سے لے کر اب تک کے مسائل کی جڑ رضوان کی مذہبیت پسندی ہے۔

سیانوں کو دو سال تک کے بچے کی پرائیویٹ اسپیس کی ریسپیکٹ کرنے کا پتہ ہے لیکن اگر رضوان یہ کہتا ہے کہ بی بی سیلفی لینی ہے تو پرے ہو کر کھڑی ہو، تو رضوان میں مسئلہ ہے۔

کوہلی کے مندر میں پوجا کرنے کی ویڈیو سے کسی سیانے کو کوئی مسئلہ نہیں (کسی کملے کو بھی نہیں ہے ) لیکن رضوان کے نماز پڑھنے کی تصویر سے مسئلہ ہے۔

تو سیانوں کے لیے میرے پاس اس سے موزوں اور مناسب سوال کوئی نہیں
کہ آپ کو رضوان سے تکلیف کیا ہے؟

Facebook Comments HS