بلا عنوان


پہلا منظر

دیرینہ دشمنی پہ دو خاندانوں میں برسوں سے دشمنی کی آگ بھڑک رہی ہے۔ ایک خاندان کے نوجوان دوسرے قبیلے کے ایک نوجوان کو قتل کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ رات کے اندھیرے میں قتل کی واردات کامیابی سے مکمل ہو جاتی ہے لیکن دیرینہ دشمنی کی وجہ سے ملزم نامزد ہوتے ہیں اور پھر پولیس کی تحقیقات میں قتل کے حوالے سے سارے حقائق معلوم ہو جاتے ہیں۔ ایک ملزم کو پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے اور دو کو عمر قید۔ اب ان قبائل کے بڑے بوڑھوں کو خیال آتا ہے کہ یہ خونی تصادم اختتام کو پہنچنا ضروری ہے۔ جرگہ بیٹھتا ہے اور فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ قاتل خاندان کی دو نوجوان لڑکیاں بطور ونی مقتول کے خاندان کو دی جائیں۔ دے دی جاتی ہیں

دوسرا منظر

ایک جاگیردار گھرانے کا منظر ہے۔ بہت بڑی شاندار حویلی ہے۔ کام کاج کرنے کے لیے نوکرانیوں کے غول پھر رہے ہیں۔ نہایت اونچے طرے کے ایک بڑے جاگیر دار کی شاندار حویلی پہ ایک نامانوس سی ماتمی فضا کا سایہ ہے۔ ایک نوجوان لڑکی دلہن کے لباس میں سوگوار چہرہ لیے بیٹھی ہے۔ ایک نسبتاً بڑی عمر کی عورت جو کہ اس جوان لڑکی کی ماں ہے آنکھوں میں آنسوؤں کے سمندر خشک کئیے اپنے سرتاج کے حکم پہ خاموش بیٹھی ہے۔ کروڑوں کی جائیداد بچانے کی خاطر اس کے جذبات، احساسات، خواب اور خیال کچل کر اس کی شادی قرآن پاک سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شادی کر دی جاتی ہے

تیسرا منظر

جدید تہذیب یافتہ بستیوں اور شہروں سے بہت دور ایک پسماندہ علاقہ ہے۔ علاقے کی فضا میں خوف اور دہشت کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔ پہلی بار تین لڑکیوں نے بڑوں کی پسند کے رشتے سے انکار کر کے اپنی اپنی پسند بتا دی ہے۔ مرد غصے میں پاگل ہوئے پھر رہے ہیں۔ بڑوں کی بیٹھک میں ایک انتہائی وحشت انگیز اور لرزہ خیز فیصلہ کیا جاتا ہے۔ تینوں لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ کسی ناعاقبت اندیش صحافی کی طرف سے یہ خبر قومی سطح کے میڈیا پہ ایک دو دن شور مچا کر آخر کار تھک ہار کر اپنا وجود کھو دیتی ہے۔ اس علاقے کا ایک بڑا جاگیر دار بر سر عام اعلان کرتا ہے کہ یہ ہماری قابل فخر روایت ہے۔ ان معصوم بچیوں کا لہو مٹی میں مل جاتا ہے

چوتھا منظر

یہ ایک جدید ترقی یافتہ شہر کا ماڈرن گھرانا ہے۔ ایک انتہائی پڑھی لکھی سلجھی ہوئی اور میڈیکل کے شعبے سے وابستہ جوان لڑکی کی لاش ہسپتال کے گیٹ کے ساتھ پڑی ہے۔ اس کے جسم میں اتاری گئی گولیاں اس کے اپنے بھائی کی طرف سے چلائی گئی ہیں کیونکہ اس نے پڑھ لکھ کر اپنے خاندان کے ایک ان پڑھ شخص سے شادی کرنے سے انکار کی جرات کی تھی۔ والد کو فخر تھا کہ اس نے اپنی اکلوتی بیٹی کو تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بننے کا موقع دیا ہے۔ اسے یہ بھی یقین تھا کہ وہ اکلوتی بچی جس کو علم کا شعور ملا ہے وہ اپنے والد کی کوئی بات نہیں ٹالے گی اور اپنے گنوار کزن سے شادی کی حامی بھر لے گی۔ لیکن اس کا انکار نہ والد سے برداشت ہوا نہ ہی بھائی سے۔ اسے مار دیا گیا

پانچواں منظر

ساری مقتول لڑکیاں ایک ساتھ اپنے خون میں غلطاں انصاف کی منتظر ہیں۔ شاید اس کے لئے ابھی دنیا کو مزید تہذیب یافتہ ہونا ہے۔ ہونا بھی ہے کہ شاید کبھی نہیں۔

Facebook Comments HS