غزہ میں غارت گری
غزہ میں غارتگری کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے ظلم و ستم کی اک نئی داستان ہے جو سرعام تحریر کی جا رہی ہے۔ دنیا کی بے حسی بھی عیاں ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی ادارہ برائے مہاجرین کی ڈائریکٹر جولیٹ ٹوما نے پریس بریفنگ کے دوران حیرت انگیز اور خوفناک انکشافات کیے ان کے بقول سرزمین غزہ پہ جس انداز سے جس پیمانے کی تباہی کی داستان رقم ہو رہی ہے اس کا کسی کو اندازہ تک نہ تھا ان کے بقول ان کے تمام اندازے غلط ثابت ہو گئے اور اندازے اور خدشات دھرے کے دھرے رہ گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس اب امدادی سامان خورد و نوش اور ادویات کی شدید کمیابی ہے۔ اب تک غزہ کے 6500 افراد جن میں 344 بچے تھے اپنی شہادتیں پیش کرچکے ہیں، 17000 افراد زخم خوردہ ہیں، لاکھوں افراد بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے بے خانماں ہیں۔ ہر طرف ظلم و ستم کے ستائے کسمپرسی کے عالم میں کسی آسرے اور چھت کے منتظر ہیں۔ اگرچہ سامان خورد و نوش اور ادویات لانے کے لئے ایک راہداری کھولی گئی مگر یہ کچھ بھی نہیں جو ضرورت سے انتہائی کم ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس کے بقول یہ امداد دریا کے سامنے ایک قطرے سے بڑھ کر نہیں ہے۔ یہاں تو 500 ٹرک روزانہ سامان خورد و نوش اور 100 ٹرک ایندھن لے کے آئیں تو ہی کام چل سکتا ہے مگر اب تک صرف 54 ٹرک آئے ہیں جو کچھ بھی نہیں۔ اسپتالوں میں ایندھن کی کمی کی وجہ سے جینریٹر بند ہو گے ہیں جس سے اسپتالوں کا کام بھی بند ہو گیا ہے۔ شدید بیمار بچے اور بوڑھے مریضان مرنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہاں تین لاکھ بچے زیر تعلیم تھے جو اب سکول نہیں جا سکتے۔
جولیٹ ٹوما نے مزید بتایا کہ اقوام۔ متحدہ کے یہاں پہلے 13000 ملازمین تھے جن میں اکثریت اساتذہ کی تھی اب ان میں سے اب تک کم از کم 35 ملازمین شہید ہوچکے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے بیورو چیف کا گھر بھی تباہ کر دیا گیا ہے جس میں ان کے اہل خانہ شہید ہوئے ہیں۔ جولیٹ ٹوما نے ان پابندیوں کو ہٹانے اور امن بحال کرنے کے لئے جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اسرائیلی سابقہ وزیراعظم یہود اولمارٹ اکثر نیتن یاہو کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہتے کہ ہم نے ایک وحشی کو وزیراعظم بنا دیا ہوا ہے جو کسی بڑی تباہی و بربادی کا باعث بنے گا اور وہی ہوا بھی۔
ان کے خیال میں فلسطینی حکومت کے سربراہ محمود عباس سے مسلسل رابطہ بات چیت ہی مستقل اسرائیلی سلامتی کا ضامن ہے۔ نتین یاہو نے اس کے بجائے حماس کو پھلنے پھولنے کا موقع دے کر اسے القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کی مانند کام کرنے کی کھلی چھٹی دی جس کا نتیجہ 7 اکتوبر کو نکلا مگر ایک خوشگوار پہلو بھی ہے کہ اسرائیل کے اندر سے عقل و شعور پہ مبنی آوازیں اٹھنا شروع ہوگی ہیں کہ آخر فلسطینیوں کی بھی کی زندگی ہے جس کی قدر کرنا لازم ہے ہر مسلے کا حل توپ و تفنگ سے نہیں بات چیت کے پرامن طریقہ سے حل ڈھونڈنا لازم ہے۔
عالمی برادری بھی اس مسئلے کا ایک پرامن حل چاہتی ہے۔ اسرائیلی حکومت کے علاوہ سب ان خدشات پہ فکرمند ہیں کہ کہیں اس جنگ کا دائرہ کار پورے خطے کو جنگ میں نہ دھکیل دے۔ ان کو اس جنگ کے بعد زیادہ خطرات محسوس ہو رہے ہیں کہ اگر دونوں جانب کی ڈری سہمی ہوئی آبادیوں میں نہ جانے کب تک دشمنی کی آگ بھڑکتی رہے گی اور آئندہ کا نقشہ کیسا ہو گا۔


