کامیاب خاندانی مثلث: ضروریات۔ آگاہی۔ تربیت
طبیعی ضروریات کا ایک بہت بڑا حصہ انسان اور حیوان میں مشترکہ ہے۔ ہاں انہیں پورا کرنے کا جو سلیقہ اور جتنی عقل انسان کے پاس ہے وہ جانوروں کے پاس نہیں ہے۔ انسان ہو یا حیوان سبھی کو سردی گرمی سے بچنے کے لیے «سائبان» درکار ہے، تاہم انسان پتھر کے زمانے سے اب تک اپنا سر چھپانے کی جگہ بنانے میں کافی ارتقاء یافتہ اشکال تجربہ کر چکا ہے۔ وہ عظیم محلات، پکے مکانات اور خوبصورت عمارتیں بنانے میں ماہر ہو چکا ہے۔
اسی طرح غذائی ضروریات پوری کرنے میں بھی انسان بنیادی طور پر سبزی جات اور گوشت دونوں سے استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حیوانات کے مقابلے میں جو بعض صرف گوشت جبکہ بعض صرف سبزی خور ہیں، لیکن انسان کے معدے میں دونوں موٹریں کارفرما ہیں اور وہ دونوں کو آسانی سے ہضم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ غذائی ضروریات پوری کرنے کے مختلف ترکیبی عناصر و اجزاء کو ملا کر انہیں نئی شکل میں ڈھال کر استعمال کرتا ہے۔
اسی طرح رہن سہن کے طریقے، آپس کے اجتماعی روابط، نظم و قانون، زندگی جینے کے علوم، فنون اور ہنر جن سے معاشرے کی باقی ضروریات پوری ہوتی ہیں، کسی بھی معاشرے کی ترقی اور تمدن یافتگی کی علامت ہیں۔
یہ آگہی انسان کے تاریخی تجربات اور اجتماعی عقل کا نتیجہ ہے۔ کچھ معاشرے اس ارتقائی سفر میں شریک ہو کر اپنے لیے بہتر زندگی کا راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں، جبکہ کچھ اس سفر میں بوجوہ شامل نہیں ہو سکتے۔ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ہماری دانست میں ان سب کے پیچھے بنیادی محرک آگاہی اور شعور ہے جو تاریخی، تجرباتی اور اجتماعی خصلت رکھتا ہے۔
خاندان بھی اسی قسم کے مراحل سے گزر کر ارتقاء یافتہ ہوتے ہیں۔
بعض خاندان صرف طبیعی (نیچرل) ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ وہ صرف ابتدائی طور پر بچوں کی غذا اور مختصر لباس کا بندوبست کرتے ہیں۔ ایک جھونپڑی میں زندگی گزارتے ہیں۔ آگے پیچھے کی فکر نہیں ہوتی۔ مقصد کا تعین نہیں کیا جاتا۔ مستقبل کی پروگرامنگ شامل نہیں ہوتی۔ ان میں محبت، پیار کا عنصر تو جزئی طور پر شامل ہوتا ہے، لیکن آگاہی اور تربیت کی کمی رہ جاتی ہے۔
جبکہ بعض خاندان آگاہی کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں۔ وہ مجموعی طور پر گزشتہ تجربات سے آئندہ کو سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے خاندان کے افراد میں پیوند اور ناتا تعلق صرف ضرورت کی بنیاد پر نہیں بلکہ آگاہی کی بنیاد پر برقرار ہوتا ہے۔ ان میں ایک سربراہ کی مدیریت و تدبیر شامل ہوتی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک پہلو ہے۔ آگاہی آپ کو زندگی کی بہت سی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گی، لیکن اچھا انسان بننے کے لیے کافی نہیں ہے۔
تیسرا رکن تربیت ہے۔ تربیت انسان کی شخصیت کو موزوں طریقے سے پروان چڑھانے کا نام ہے۔ جس طرح درخت کو موزوں بنانے کے لیے اس کی اضافی شاخیں کاٹنی پڑتی ہیں۔ تربیت درحقیقت خواہشات کو محدود کر کے ارادی طاقت کو اخلاقیات کے دائرے میں رکھتی ہے۔ علم و آگہی جہاں انسان کی نگاہ کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے، وہیں تربیت انسان کو نظم، احترام، آداب و اخلاق سکھاتی ہے۔ خاندانی نظام صرف ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ ہی نہیں، بلکہ انسان کی توانائیوں کے پروان چڑھانے کی سیڑھی بھی ہے۔
جسے ہم تعلیم و تربیت کہتے ہیں وہ درحقیقت انسان کے وجود میں پوشیدہ صلاحیتوں کا نکھار ہے۔ نظام تعلیم انسان کو نئی چیزیں سیکھنے کا موقع دیتا ہے اور نظام تربیت اخلاقی اقدار کے سائے میں سیکھے ہوئے علم کو جامہ عمل پہنانے پر آمادہ کرتا ہے۔ ضروریات، آگاہی اور تربیت سے تشکیل یافتہ مثلث اگر کسی خاندان میں فراہم ہو جائے تو اس خاندان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ فائدہ مند افراد معاشرے کے حوالے کر سکے۔


