کتاب اور پزے کا تقابل کب سے شروع ہوا


شاید تبھی سے جب سے پزا ایجاد ہوا، لیکن تب کی تاریخ ہم اس لیے بیان کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ تب ہم غریب تھے اور صرف کتاب ہی خریدنے کی سکت رکھتے تھے اور سموسے، بیسن والے نان، فروٹ چاٹ اور دہی بھلے کی اتنی طاقت اور اوقات نہ تھی کہ کتاب کے لیے مختص رقم میں کوئی خاص کمی بیشی لا سکیں۔

لیکن تب بھی پزا موجود تھا اور ان لوگوں کے پاس موجود تھا جن کے لیے نہ کتاب اہم تھی نہ پزا۔ مسئلہ تب ہوا جب پزا عام ہونا شروع ہوا اور کتاب خاص۔ خاص سے مراد، صرف خاص خاص مواقع کے لیے، (جن میں امتحان کی چاند رات سر فہرست ہیں )

تب سے کتاب دوستوں کو اعتراض ہونا شروع ہوا کہ کیوں بھئی کیوں؟ کیوں پزے کو کتاب پر یہ فوقیت ہے ہے کہ اسے ہزار روپے میں بھی سستا تصور کیا جائے اور کتاب پانچ سو کی بھی مہنگی ہو (یہ اعداد و شمار پٹرول مہنگا ہونے سے پہلے کے ہیں )۔ تو ذرا ایک نظر اس پر ڈالیں کہ ایسا کیا ہے پزے میں جو کتاب میں نہیں۔

اگر احباب کا نکتہ یہ ہے کہ کتاب تہذیب ہے تو پزا بھوک ہے، اور یاد رہے کہ بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے۔ کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے صفحوں سے شیشے صاف کیے جا سکتے ہیں، ان سے آگ جلائی جا سکتی ہے، تو یہ کام پزے کے خالی ڈبے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

کتاب پڑھتے ہوئے سوشل میڈیا پر تصویر لگانے سے آپ پڑھاکو اور بیزار جب کے پزا کھاتے ہوئے تصویر لگانے سے آپ کول اور چل لگتے ہیں۔
کتاب کو خرید کر اسے رکھنے کے مسائل درپیش ہیں، پزا اس قسم کے مسائل سے خریدار کو بے نیاز رکھتا ہے۔
کتاب کی طرف خود کو متوجہ رکھنا پڑتا ہے، پزا آپ کو خود متوجہ کر لیتا ہے۔
خراب پزے سے محض پیٹ خراب ہونے کا خدشہ ہے، خراب کتاب سے دماغ خراب ہونے کا جو لازمی طور پر زیادہ خطرناک ہے۔

کتاب ڈپریشن دیتی ہے، پزا ڈپریشن دور کرتا ہے۔
اچھی کتاب سوچنے پہ مجبور کرتی ہے، اچھا پزا، اچھی بری سب سوچوں کو دماغ سے دور کرتا ہے۔

لیکن لوگ اس سے ہر گز نہ سمجھیں کہ یہ تقابل یک طرفہ ہے۔ کتاب کی بھی کچھ خصوصیات ہیں

گتے سے شیشے صاف کرنے میں شیشے میں وہ صفائی ہر گز نہیں آ سکے گی جو کتاب کے ورق کا خاصہ ہے۔
اور پزے کے ڈبے کے گتے سے جہاز بنانا بھی ناممکن ہے۔
کتاب کو لالچی دوست کے اچانک ٹپک پڑنے پر تکیے کے نیچے چھپایا جا سکتا ہے، پزے کو چھپانا انتہائی دشوار ہے۔
کتاب پڑھنے کے بعد کسی کو گفٹ کی جا سکتی ہے۔
پزا کھانے کے بعد ۔ ۔ ۔ اچھا چھوڑیں۔
کتاب، آپ کے علم میں اضافہ کرتی ہے، پزا محض فیٹ میں اضافہ کرتا ہے۔
کتاب ضرورت ہے، پزا آسائش ہے۔
کتاب انعام ہے، پزا آزمائش ہے۔
کتاب حقیقت ہے، پزا نمائش ہے۔
کتاب لازم ہے، پزا گنجائش ہے۔

اور جب سے رائٹر کی اسٹائلش تصویروں والے ٹائٹل والی کتابوں کا رواج ہوا ہے، اب تو کتاب بذات خود ٹرینڈنگ ہیں، پہلے ویڈیوز اور پوسٹس وائرل ہوتی تھیں، آج کل دنوں میں کتابیں وائرل ہو جاتی ہیں۔ اور بہرحال یہ اہمیت ابھی تک پزے کو حاصل نہیں کہ اس پر شیف اپنی تصویر چپکا کر اسے وائرل کر سکے۔

اس لئے ہمارا فیصلہ یہی ہے کہ کتاب پزے سے افضل ہے۔ لیکن آخری فیصلہ پھر بھی عوام کا ہے۔

Facebook Comments HS