پاِئیدار ترقی کے اہداف اور پاکستان
ہم اکثر و بیشتر دنیا کہ ہر موضوع پر بات کرنا اور سننا پسند کرتے ہیں اور ان موضوعات میں یقیناً کچھ ہمارے مفاد کے قریب اور کچھ دور ہوا کرتے ہیں مگر اقوام عالم نے کچھ اہداف مشترکہ طور پر پوری دنیا یا یوں کہیں اقوام عالم کے لئے بنائے ہیں اور تمام ہی جدید دنیا کے ممالک نے اسے اپنایا ہے اور اس پر بڑی شد و مد سے کام بھی جاری ہے۔ ہمارے ملک نے بھی سے اپنایا تو ضرور ہے مگر اپنی سوتیلی اولاد کی طرح کیونکہ یوں تو پائیدار ترقی کے اہداف سے ہر باشعور پاکستانی آگاہ ہے۔ اس حوالے آئے دن ہم کچھ نہ کچھ سنتے بھی رہتے ہیں کوئی سیمینار کوئی تقریب میں بھی شرکت کرتے رہتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ عملی اقدامات صرف چند ہی جگہوں پر خال خال ہی نظر آئے حالانکہ پاکستان میں اقوام متحدہ حکومت پاکستان کی مدد کے لئے پر عزم ہے کیونکہ وہ ترقی کی ضروریات اور عالمی وعدوں کی پاسداری کرنا چاہتا ہے۔
اقوام عالم کے مشترکہ اہداف اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق اسی کی کوششوں کے مرہون منت ہیں۔ اب انسانی حقوق کی بحالی پر زیادہ کوششیں ہو رہی ہیں جن میں صنفی مساوات، صنفی شمولیت کی صلاحیت کو بڑھانا، اور پھر پائیدار ماحولیاتی نظام مرکز کی سی حیثیت رکھتا ہے 2020 کی دہائی کے اختتام ہم صرف نیا عزم اور توجہ کی یقین دہانی کے علاوہ کوئی خاطر خواہ کام نہ کر سکے ہیں اب امید کرتے ہیں کہ ان اہداف پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی اور شعور و آ گہی کے لئے کوششیں ہر سطح پر کی جائیں گی۔
جن امور پر فوری توجہ اور آگہی کی ضرورت ہے ان میں گڈ گورنس، اقتصادی ترقی اور مہذب طریقہ کار ہے اس سلسلے میں پاکستانی عوام کو اپنے حقوق کے بارے میں علم میں اضافہ ہو گا اور زیادہ جوابدہ، شفاف اور موثر طرز حکومت بہترین میکنزم اور حکومت تک رسائی آسان ہو سکے گی۔
پھر ایک اور اہم مسئلہ کہ جس کی وجہ سے ہمارا ملک ہر سطح پر نقصان اٹھا تا چلا آ رہا ہے وہ ہے صحت اور مناسب و متوازن غذا کی فراہمی جو کہ بنیادی سہولیات زندگی ہوا کرتی ہیں۔ ہماری جنتا غربت کی وجہ سے ان سے بھی کسی نہ کسی سطح پر محروم ہی ہے خاص طور پر نو عمر بچوں، حاملہ خواتین، معمر افراد میں خوراک کی کمی کی شکایات عام ہیں اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ عالمی صحت کی کوریج، بشمول جنسی اور تولیدی صحت اور خدمات تک رسائی حاصل ہو اور اس پروگرام سے پا کستانیوں کو بھِی فائدہ ہو سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان چونکہ زرعی ملک ہے اس لیے اس کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لئے بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں بھی کسی ٹھوس لائحہ عمل کی اشد ضرورت ہے۔ صرف شعور و آگہی کو ہی فروغ دیا جائے تو کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ مختلف اسکیمیں لانے سے، کمیٹیاں بنا دینے سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
پھر بات وہیں آجاتی ہے کہ ان سب اقدامات کی بنیاد تعلیم کا شعور و آگہی پھیلانے کی جدوجہد کو تیز کیا جائے نہ صرف رسمی تعلیم بلکہ معیاری پیشہ ورانہ تعلیم کی طرف بھی تیزی سے آنے کی ضرورت ہے۔ جدید معیاری پیشہ ورانہ تعلیم کے حصول میں صنفی پا بندیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے مواقعوں کی تمام اصناف تک رسائی کو ممکن بنانا ہو گا۔ اس کے علاوہ اجتماعی، انفرادی، سماجی، ثقافتی سطح پر اپنی خواتین اور خاص طور پر بچیوں کے لئے تمام راستے وا کرنا ہوں گے خانگی، سیاسی، ملکی، معاشی اور معاشرتی معاملات میں اپنی خواتین کی رائے کو اہمیت دینا ہوگی۔
پھر یہ بھی بہت اہم ہے کہ بڑھتی و بدلتی ہوئی دنیا میں اپنے ماحول کو آلودگی سے بچانا اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں تک پہنچانا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے۔ اس کو ضروری سمجھ کر کام کرنا ہو گا ورنہ 2022 کے سیلاب کی تباہ کاریاں آج بھی دیہاتوں میں نظر آ رہی ہیں جس کے لئے بھی ہمیں اقوام عالم کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
پھر آبی حیات اور سمندری آلودگی کو بھی ہم اسی ورثے میں شامل سمجھتے ہیں کہ جس کو ہمیں اپنی اگلی نسلوں تک پہنچانا ضروری ہے ان تمام اہداف کو حاصل کرنے کے لئے نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ اجتماعی اور انفرادی ہر سطح پر کام کرنے اور اس کا شعور پھیلانے کی ضرورت ہے۔


