چین امریکہ تعلقات۔ باہمی ہم آہنگی کی پٹری پر
یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ دنیا کے مسائل کے حل کے لیے دنیا میں موجود بڑی معاشی طاقتوں کی ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے۔ دنیا بھر کی بین الاقوامی، علاقائی اور خطے کی تنظیمیں اسی مقصد کے لیے اکٹھی ہوتی ہیں تا کہ اپنے خطوں، علاقوں، اور دنیا کو درپیش مسائل کو بات چیت اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے حل کر سکیں۔ لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ اس مقصد کے حصول میں اس وقت ناکامی ہوتی ہے جب بڑی طاقتیں اپنے ذاتی مفادات اور دھڑے بازی کی سیاست میں مشترکہ مقاصد کو پس پشت ڈال دیتی ہیں اور انسانیت کی بہتری کا خواب، خواب ہی رہ جاتا ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ حالیہ دور میں دنیا کی دو بڑی معیشتیں یعنی امریکہ اور چین اگر عالمی امور میں ہم آہنگی بر قرار رکھیں تو بڑے عالمی مسائل پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔
چین امریکہ تعلقات حالیہ ماضی میں اونچ نیچ کا شکار رہے ہیں۔ اس اونچ نیچ کی وجہ عالمی مسائل میں مختلف نکتہ نظر اور علاقائی سیاست سمیت اندرونی و بیرونی سلامتی کے خدشات ہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے دونوں جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مسائل کو بات چیت اور مستقل روابط کے ذریعے حل کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یوکرین روس، فلسطین اسرائیل تنازعات ہوں، چین کی سلامتی کے خدشات ہوں یا پھر عالمی معیشت کی پیچیدگیاں، دونوں ممالک کے تعلقات اس نہج پر نہیں آئے کہ گفتگو کا سلسلہ منقطع ہو جائے۔
دونوں ممالک کے درمیان موجودہ گفتگو کے ماحول کا ٹھوس آغاز گزشتہ سال اس وقت ہوا جب چین کے صدر شی جن پھنگ اور امریکی صدر جو بائیڈن کی بالی میں دو بدو ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات کئی دنوں تک عالمی منظر نامے پر زیر بحث رہی۔ ملاقات کے موقع پر شی جن پھنگ نے کہا کہ وہ ہمیشہ کی طرح چین امریکہ تعلقات میں اسٹریٹجک امور اور اہم عالمی اور علاقائی امور پر صدر بائیڈن کے ساتھ کھل کر تبادلہ خیال کرنے کے خواہاں ہیں اور دونوں ممالک اور دنیا کے فائدے کے لئے چین اور امریکہ کے تعلقات کو صحت مند اور مستحکم ترقی کی راہ پر واپس لانے کے لئے صدر بائیڈن کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ چین کے صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین اور امریکہ مختلف تاریخی ثقافت، سماجی نظام اور ترقیاتی راستے کے حامل دو بڑے ملک ہیں۔ ان کے درمیان فرق اور اختلافات ضرور موجود ہیں لیکن انھیں باہمی تعلقات میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ دو بڑی طاقتوں کی حیثیت سے امریکہ اور چین کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعمیری تعلقات برقرار رکھیں۔
دونوں سربراہان مملکت نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں فریقوں کی سفارتی ٹیموں کو اسٹریٹجک روابط برقرار رکھنے چاہئیں۔ یہ ملاقات اس لیے بھی اہم رہی کہ اس میں بڑے عالمی مسائل کی گرہ کھلنے کے انتظار میں دیگر مسائل کو نظر انداز نہیں کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کی مالیاتی ٹیمیں میکرو اکنامک پالیسیوں، اقتصادی اور تجارتی امور پر بات چیت اور ہم آہنگی کو آگے بڑھائیں گی۔ ساتھ ہی کاپ 27 کی کامیابی کو فروغ دینے کے لئے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا اور فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان صحت عامہ، زراعت اور غذائی تحفظ کے حوالے سے بات چیت اور تعاون پر اتفاق کیا اور طے کیا کہ چین اور امریکہ کے مشترکہ ورکنگ گروپ کو زیادہ مخصوص مسائل کے حل کو فروغ دینے کے لئے بہتر طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اس ملاقات کے اختتام پر امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ ملاقات میں پائے جانے والے اتفاق رائے پر عملدرآمد کے لے لیے جلد ہی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن چین کا دورہ کریں گے۔ سال 2022 میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد جون 2023 میں امریکی وزیر خارجہ اینتھونی بلنکن نے چین کا دورہ کیا اور اس دوران ان کی ملاقات چین کے صدر شی جن پھنگ سے بھی ہوئی۔ اس دورے میں بھی دو طرفہ امور کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مشاورت گروپ کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں اور دونوں ممالک کے صدور کے درمیان بالی میں ہونے والے اتفاق رائے کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔
جون 2023 میں ہونے والے اس دورے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر کئی سرگرمیوں کا آغاز ہوا لیکن ساتھ ہی مختلف بین الاقوامی اور خارجی معاملات میں کئی بار دونوں ممالک نے اپنے اصولی موقف کو بھی بار ہا دہرایا۔ اس دوران کئی امریکی صنعت کاروں اور ملٹائی نیشنلز کے سربراہوں نے چین کا دورہ کیا اور چینی مارکیٹ میں پہلے سے اپنی موجود گی کو نئے مواقعوں کی صورت میں جانچا۔ امریکہ چین تعلقات میں ایک اہم نام سابق امریکی سیکٹری آف سٹیٹ ہنری کیسنجر نے بھی چین کا دورہ کیا اور اس دوران ان کی ملاقات چین کے صدر شی جن پھنگ سے بھی ہوئی۔ ہنری کسنجر کی شہرت چین امریکہ تعلقات میں جمود توڑنے والوں کی ہے اور رواں برس دو طرفہ امور میں پیش رفت کو ان کے نظریات سے ہٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے جون میں کیے گئے چین کے دورے کے بعد چینی وزیر خارجہ وانگ ای 26 سے 28 اکتوبر تک امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔
جولائی میں چین کے نائب وزیر اعظم اور چین۔ امریکہ اقتصادی و تجارتی مذاکرات کے چینی رہنما حہ لی فنگ اور امریکی وزیر خزانہ جینٹ یلین کے درمیان بیجنگ مذاکرات میں طے پانے والے اتفاق رائے کے مطابق، چین۔ امریکہ اقتصادی ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس 24 اکتوبر کو ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا جس کی صدارت دونوں ممالک کے نائب وزرائے خزانہ نے کی۔ فریقین نے دونوں ممالک اور دنیا کی میکرو اکنامک صورتحال و پالیسیز، دوطرفہ اقتصادی تعلقات اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون پر تفصیلی، واضح اور تعمیری بات چیت کی۔ چین نے اپنے خدشات کا اظہار کیا اور طے پایا کہ دونوں ممالک روابط برقرار رکھیں گے
رواں ماہ ہی امریکہ اور چین کے تعلقات کی قومی کمیٹی نے نیویارک میں 2023 کے سالانہ ایوارڈ ڈنر کا انعقاد کیا۔ امریکہ میں چین کے سفیر شے فونگ نے صدر شی جن پھنگ کا تہنیتی خط پڑھا جس میں چین۔ امریکہ تعلقات کو فروغ دینے میں ہنری کسنجر اور امریکہ۔ چین تعلقات کی قومی کمیٹی کی اہم شراکت کی مکمل تصدیق کی گئی اور چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے درست طریقے کے قیام کی ضرورت اور اہمیت کو واضح کیا گیا اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ دو عالمی طاقتوں کی حیثیت سے چین اور امریکہ کے تعلقات کے ساتھ دنیا کا مستقبل جڑا ہے۔
اکتوبر میں ہی امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے چین کا دورہ کیا جس میں ان کی ملاقات چین کے صدر سے بھی ہوئی۔ 2019 میں کیلیفورنیا کے گورنر منتخب ہونے کے بعد نیوسم کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے اور وہ چار سال میں چین کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی گورنر ہیں۔ اپنے حالیہ دورے کے دوران وہ چین کے مختلف صوبوں کا دورہ کریں گے تاکہ چین میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی، جدت طرازی اور عوامی تبادلوں جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
چین اور امریکہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں ہیں، جن کی معیشت دنیا کی کل معیشت کا ایک تہائی سے زیادہ ہے اور دونوں ممالک دنیا کی کل آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی اور دنیا کے دو طرفہ تجارتی حجم کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں۔ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کی حیثیت سے دونوں ممالک کا اس بات کا ادراک کہ تبادلوں کو مضبوط بنایا جائے اور موسمیاتی تبدیلی، نئی توانائی اور دیگر شعبوں میں قریبی تعاون کیا جائے یقیناً دنیا کے لیے بھی ایک اچھی پیش رفت ہے


