تین خاندان اور پی ٹی آئی پر قبضے کی جنگ


جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے اُس وقت نواز شریف پاکستان واپس آچکے ہوں گے۔ وہ اپنے لاہور جلسے میں یقینی طور پر اپنے مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی کا اعلان بھی کرچکے ہوں گے۔ اُن کی سیاسی حکمت عملی جہاں مسلم لیگ نون کا مُستقبل طے کرے گی وہاں ہی پاکستان اور پی ٹی آئی کا مُستقبل بھی نواز شریف کی سیاسی حکمتِ عملی پر منحصر ہے۔ اگر نواز شریف انتقام کی سیاست کرتے ہیں اور عمران خان کے خلاف اُسی انداز سے سرگرم ہوتے ہیں جیسے کبھی عمران خان نے اُن کے خلاف محاذ گرم کیا تھا تو پی ٹی آئی کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں اضافہ ہو گا، دوسری صورت یہ ہے کہ وہ عام معافی کا اعلان کریں گے اور پی ٹی آئی کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اُس کے ساتھ بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہر دو صورتوں میں یہ بات بہت اہم ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

آپ یہ دیکھیں کہ نو مئی کے بعد پی ٹی آئی کے تمام الیکٹیبلز سیاست دان ایک ایک کر کے پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ آخری دم تک عمران خان کا ساتھ نہ چھوڑنے اور اپنے اصلی نسلی ہونے کے دعوے کرنے والے شیخ رشید بھی پریس کانفرنس کر کے عمران خان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں مگر بار بار پارٹیاں بدلنے والے، اسٹیبلیشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے اور مُشکل وقت میں کسی بھی رہنما کا ساتھ نہ دینے والے تین بڑے خاندان خلاف توقع اس وقت عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور تاحال ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی صورت عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے مگر مجھے یقین ہے کہ مستقبل کا منظر نامہ مُختلف ہو گا اور ان تین میں سے کوئی ایک خاندان ہی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہو گا، دو پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ میرے اس یقین کی وجہ ان تین خاندانوں کا ماضی کا ریکارڈ اور پی ٹی آئی کی موجودہ صورت حال ہے۔

پی ٹی آئی بائیس سالوں میں جس قدر مقبول ہوئی اُس میں عمران خان کی کرکٹ سے حاصل شہرت، کینسر ہسپتال بنانے کی نیک نامی اور سمارٹ ہونے کی وجوہات کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ ہی کے پے رول پر موجود اُن صحافیوں کی محنت کا بھی نتیجہ ہے جو پاکستان میں ایک تیسری سیاسی قوت کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ اب یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ اُس زمانے کی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان پراجیکٹ کو کامیاب کرنے کے لیے عدلیہ کا بھی سہارا لیا اور سپریم کورٹ کے تین چیف جسٹس صاحبان کے علاوہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے کئی ججوں کو استعمال کیا۔ ان سب قوتوں کی وجہ سے پی ٹی آئی نہ صرف تیسری قوت بن گئی بلکہ نو مئی سے پہلے تو وہ دوسری دونوں پارٹیوں سے زیادہ مقبول بھی تھی۔ نو مئی کے بعد اگرچہ اُس کی مقبولیت میں کمی آئی ہے مگر آپ ابھی بھی پی ٹی آئی کو سیاسی منظرنامہ سے مائنس نہیں کر سکتے اور اس بات کا امکان ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں بھی اتنی قوت حاصل کر لے کہ یا تو کسی مخلوط حکومت کا حصہ بن جائے یا پھر ایک مضبوط اپوزیشن بنے۔ ان حالات میں اسٹیبلشمنٹ بھی نہیں چاہے گی کہ پی ٹی آئی کی قیادت ایسے ہاتھوں میں جائے جو اسٹیبلشمنٹ کے مخالف ہو۔

عمران خان کی نا اہلی اور اگلے انتخابات میں بطور امیدوار اُن کی موجودگی کا کوئی امکان نہیں۔ اگلے چند ایام میں شاید اُنہیں ایک بار پھر پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ سے ہٹا دیا جائے۔ ایسے میں تین خاندان پی ٹی آئی کی قیادت پر قبضے کے خواہشمند ہیں اور تینوں کو ہی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ پی ٹی آئی کے ورکرز کا رُخ دیکھ کر ذمہ داران یہ فیصلہ کریں گے کہ قیادت کس کو دینی ہے۔

میرے آبائی ضلع سے تعلق رکھنے والا ترین خاندان پاکستانی سیاست میں کسی تعارف کا مُحتاج نہیں۔ سابق صدر ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب خان اور اُن کے پوتوں عمر ایوب خان، یوسف ایوب خان اور اب اکبر ایوب خان نے ہمیشہ اقتدار کی سیاست کی۔ یہ برسوں سے اقتدار میں آنے والی پارٹی کی کشتی میں سوار ہو جاتے ہیں اور ڈوبتے جہاز کو چھوڑ دیتے ہیں۔ گوہر ایوب خان کو نواز شریف نے وفاقی وزیر بھی بنایا اور سپیکر قومی اسمبلی بھی لیکن جب نواز شریف پر بُرا وقت آیا تو گوہر ایوب خان نے نواز شریف کو چھوڑنے او ر پرویز مشرف کی بنائی گئی مسلم لیگ ق میں جانے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔ گوہر ایوب خان کی نواز شریف سے دوران اقتدار محبت کا یہ عالم تھا کہ موصوف نے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی تھی کہ ضلع ہری پور کا نام نواز شریف رکھا جائے مگر جب اقتدار کی دیوی نواز شریف سے روٹھی تو گوہر ایوب خان نے بھی راہیں جدا کر لیں۔

میں بطور صحافی ہری پور کرٹس گراؤنڈ میں ہونے والے اُس تاریخی جلسے میں موجود تھا جس میں گوہر ایوب خان نے مسلم لیگ ق کی قیادت اور جنرل مشرف کو بُلوایا تھا اور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”نواز شریف یہ کہتا ہے کہ مُشکل وقت میں، میں نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے حالانکہ نواز شریف خود ہی بھاگ گیا ہے، اگر وہ مُلک میں موجود ہوتا تو میں اُس کی حمایت جاری رکھتا“ ۔ اسی گوہر ایوب خان نے جب نواز شریف کو اقتدار میں آتا دیکھا تو ایک بار پھر معافی تلافی کر کے نون لیگ میں شامل ہو گئے اور اپنے بیٹے عمر ایوب خان کو مسلم لیگ نون ہی کے ٹکٹ پر ایم این اے بنوایا اور پھر اپنے تعلقات استعمال کر کے عمر ایوب کو وفاقی وزیر بھی بنوا لیا۔

نواز شریف پر دوبارہ بُرا وقت آیا تو گوہر ایوب، عمر ایوب، یوسف ایوب، اکبر ایوب پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔ عمر ایوب وفاقی وزیر بنے، یوسف ایوب صوبائی وزیر بنے، بعد میں جعلی ڈگری کی وجہ سے تاحیات نا اہل ہوئے تو اپنے بھائی اکبر ایوب کو ایم پی اے بنوایا اور پھر صوبائی وزیر بنوا لیا۔ اکبر ایوب بس نام کے ہی وزیر تھے۔ اقتدار میں نہ ہونے اور عدالت سے نا اہل قرار دیے جانے کے باوجود یوسف ایوب ہی ہر ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کرتے تھے، سرکاری اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے اور خود کو بابائے بلدیات کہلاتے تھے۔

کیسے مُمکن ہے کہ یہ خاندان عمران خان کو اقتدار سے بیدخل ہوتا دیکھ رہے ہوں اور اُنہیں یقین بھی ہو کہ اب عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا کبھی بھی نہیں بن سکتا، عمران خان کا ساتھ نہ چھوڑیں، اس کی وجہ صرف پی ٹی آئی کی قیادت پر قبضے کا خواب ہے۔

کُچھ ایسا ہی حال گجرات کے چوہدری پرویز الہٰی کا بھی ہے۔ وہ بھی فخریہ خود کو اسٹیبلشمنٹ کا بندہ کہتے ہیں۔ کئی ماہ سے جیل میں بھی ہیں لیکن عمران خان یا دوسرے لفظوں میں پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ اُنہوں نے اپنے خاندان کو چھوڑا، خاندانی سیاسی پارٹی چھوڑی اور عمران خان کے ساتھ شامل ہوئے تو اب جب عمران خان کے بعد پی ٹی آئی میں قیادت کا فقدان ہے تو وہ اس سنہری موقع کو ہاتھ سے کیسے جانے دیں۔

مُلتان کے شاہ محمود قریشی پہلے مسلم لیگ نون میں رہے۔ پھر پی پی پی میں چلے گئے، وزیر خارجہ بھی رہے مگر جب پی ٹی آئی کو عروج میں آتے دیکھا تو پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔ خواب وزارتِ اعلیٰ کا دیکھ رہے تھے مگر وزیر خارجہ بن گئے۔ اسٹیبلشمنٹ سے اُن کی قُربت اور پارٹیاں بدلنے کا سابقہ ریکارڈ متقاضی تھا کہ وہ پی ٹی آئی بھی چھوڑ دیں گے مگر وہ اب تک ڈٹے ہوئے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عمران خان اگلے انتخابات میں کسی صورت موجود نہیں ہوں گے اور وہ پی ٹی آئی کی قیادت سنبھال کر کے ایوان اقتدار میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

اس وقت تینوں خاندانوں کے درمیان مقابلہ سخت ہے۔ جو جتنا برداشت کر سکا اور اسٹیبلشمنٹ کو اپنی وفاداری کا یقین دلا سکا، وہ یہ مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

 

Facebook Comments HS