ہم میچ نہیں، کھیل کا ڈھنگ ہارے ہیں

خدا ہے کہ نہیں، ہے تو کس طرح کا ہے، دنیا کا اس پہ اتفاق ہو جانا امر محال ہے۔ یہ اتفاق بہر حال اب کر ہی لینا چاہیے کہ خدا یا کوئی غیبی قوت کھیل کے میدان میں مداخلت نہیں کرتی۔ کھیل کے میدان میں کوئی پری۔ پول رگنگ نہیں ہوتی، نتائج بدلنے کے لئے کوئی آر ٹی ایس نہیں بٹھایا جا سکتا، معمول کے اتفاقات کو آپ قسمت کا نام دینے پر مصر ہوں تو ہرج نہیں۔ کرکٹ میں بھی ایسے اتفاقات ہو جاتے ہیں مگر تسلسل سے جیتتا وہی ہے جو بہتر اہلیت، نظم و ضبط، تیاری اور اہلیت رکھتا ہو گا۔
نانا پاٹیکر کا ان کی ایک ہندی فلم سے اخذ ایک معروف جملہ میری صنفی حساسیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ متبادل کے طور پر یہاں ’ایک مچھلی سارے جل کو گندا کرتی ہے‘ ٹھیک رہے گا۔ چند برس قبل ہمارے ایک ضرورت سے کہیں زیادہ معروف سیٹھ ملا نے بالی ووڈ کے سپر سٹار عامر خان کے ساتھ ایک ملاقات اور فوٹو سیشن کا اہتمام کیا۔ خان نے بعد میں انکشاف کیا کہ گھاگ پاکستانی ملا ان کی شہرت اور مذہب کی آمیزش سے اپنے کاروباری عزائم کو دوام دینا چاہ رہا تھا۔ دیکھا جائے تو اس قبیل کے ملاؤں، وعظوں، پادریوں، سنتوں، سوامیوں، پنڈتوں کے وجود سے دنیا کا کوئی کونا شاید ہی خالی بچا ہو۔ فرق اور بڑا فرق مگر یہ ہے کہ ریاستی امور ان کے دائرہ اثر سے محفوظ رکھے جاتے ہیں اور مختلف شعبوں کی اہم شخصیات انہیں سند قبولیت بخشنے سے عام طور پر گریزاں رہتی ہیں۔
ہم جن سیٹھ یا جاگیردار ملا کا ذکر رہے ہیں، ماضی میں حکومتی سربراہوں نے ان کو پارلیمنٹ تک رسائی دے دی۔ نتیجہ یہ ہے کہ معیشت ہو یا خارجہ پالیسی، ہر سیاست دان طارق بن زیاد اور رابعہ بصری کے حوالوں کے بغیر بات مکمل نہیں ہو سکتی۔ ملک کا یہ اہم ادارہ برباد کرنے کے بعد مولانا نے شوبز کی کمیونٹی پر دھاوا بول دیا۔ اچھے بھلے دکھنے اور بولنے والے لوگ خلیل الرحمان قمر ہو کر رہ گئے۔ فنون لطیفہ معاشرے کو آگے لے جانے کی بجائے رجعت پسندی، تنگ نظری، عدم برداشت، مذہبی ریاکاری، عورت دشمن روایات فروغ دینے لگے اور یہ سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا۔
کرکٹ کے میدانوں میں یہ جدید ریاست مدینہ کے معمار عمران خان کا دور عروج تھا اور مرد مومن ضیاء الحق سے ان کی قربتیں کافی زیادہ ہو چلی تھیں لیکن تب بھی ہماری قومی کرکٹ ٹیم کھیل کے میدان کے اندر اور باہر دنیا کی باقی ٹیموں کی طرح ہی برتاؤ کرتی دکھائی دیتی تھی۔ قومی نا مرادی شاید ہمارا مقدر بن چکی تھی کہ سیاست اور فنون لطیفہ کو نگل جانے والا عفریت اب بضد ہوا کہ اس نے کرکٹ ٹیم کو بھی ’مسلمان‘ کرنا ہے۔ کچھ نے دنیا اور کچھ نے عاقبت سنوارنے کے چکر میں سیٹھ ملا جو فنکاروں کے ساتھ وافر وقت گزارنے کے بعد ان سے کہیں بڑے فنکار بن چکے تھے، کو کرکٹ ٹیم تک رسائی دے دی۔ آج افغانستان کے ہاتھوں عالمی کپ کے میچ میں پچھاڑے جانے پر نوح کناں قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری کرکٹ اور ہمارے تمام کھیلوں کو اسی دن شکست فاش ہو چکی تھی جس دن قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ کو چھٹی دے کر کھلاڑیوں کو میدان میں سیٹھ ملا سے لیکچر لینے کی ہدایت ’اوپر‘ سے کی گئی تھی۔
بات اور کسی چیز کا اطلاق ذاتی زندگی تک رہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔ ہاں البتہ دیانتداری سے ہر شخص کو یہ جائزہ لینے اور اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہونی چاہیے کہ مجھ پر وسائل کس توقع میں خرچ کیے جا رہے ہیں؟ قومی وسائل کے استعمال کے بعد میرے وقت کا بہترین مصرف کیا ہے؟ یہ سادا سے سوال ہی آپ کو بتا دیں گے کہ اگر قومی وسائل آپ پر بطور کرکٹر کئے جا رہے ہیں نا کہ کسی مسجد کی امامت سنبھالنے یا کسی خاص مذہب یا فرقے کی تبلیغ کرنے کے لئے۔ آج کی دنیا میں کوئی بھی کام کامل توجہ چاہتا ہے، فکرو بدن کا ارتکاز مانگتا ہے اور یہ ارتکاز اور اہم ہو جاتا ہے جب کروڑوں لوگ آپ سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہوں۔
سیٹھ ملا کے حملے کا پہلا شکار ٹیم کے اندر پایا جانے والا تنوع تھا۔ ایک مسیح کھلاڑی کو مسلمان کر لیا گیا، اکا دکا ہندو کھلاڑی نظر انداز ہو گئے اور انتظامیہ سے لے کر کھلاڑیوں تک، ایک ایسی یک رنگی سامنے آئی کہ جیسے یہ ٹیم کسی قوم کی نہیں، ایک مذہبی گروہ کی نمائندہ ہو۔ کھیل اور عقیدے کو باہم گڈ مڈ کرنے سے کئی مسائل اور ابہام جنم لیتے ہیں جو کسی بھی ٹیم یا کھلاڑی کی یکسوئی اور کارکردگی کے لئے مہلک ہو سکتے ہیں۔
ان سوالات کو ہی لے لیجیے کہ کیا آپ میچ اپنی اہلیت سے جیتنا چاہتے ہیں یا غیبی مدد کے طفیل؟ اگر مخالف ٹیم کے خلاف آپ کو غیبی مدد حاصل ہو جاتی ہے تو پھر آپ یا آپ کی کارکردگی کیونکر قابل ستائش ٹھہر سکتی ہے اور کیا یہ مخالف ٹیم کے ساتھ زیادتی نہ ہو گی؟ کیا یہ میچ دو ٹیموں کے درمیاں ہونا تھا یا خداؤں کے درمیان؟ کیا میچ ہارنے کا مطلب یہ لیا جائے کہ خدا آپ سے ناراض تھا یا مخالف ٹیم غیبی مدد پر حاوی ہو گی؟ اور ایسا کیوں ہے کہ روس اور چین کے کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں میں سینکڑوں تمغے جیت جاتے ہیں اور آپ ایک آدھ جیت کر بھی اسے کسی غیر مرئی طاقت کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں؟
اور پھر یہ سوال بھی اہم ہے کہ ہار جیت کا فیصلہ غیبی یا خدائی مدد سے ہی ہونا ہے اور خدائی فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا تو ہار جانے پر یہ چیخ و پکار چہ معنی دارد؟ افغانستان سے چنئی میں شکست فاش پر کروڑوں شائقین سخت صدمے سے دوچار ہوئے۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے۔ لوگ اسے زیادہ خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں جب انہیں اپنی ٹیم مقابلہ کرتی دکھائی دے۔
افغانستان سے بری طرح ہارے مگر جنوبی افریقہ سے اچھا مقابلہ کیا۔ یہ میچ کوئی بھی ٹیم جیت سکتی تھی مگر نتیجہ غیبی طاقت نے آپ کے حق میں نہ کیا۔ آپ جیت جاتے تو بھی ایک اتفاق ہوتا جیسے کہ کڑے مقابلے کے بعد جنوبی افریقہ کا جیت جانا کھیل کا ایک معمول کہا جا سکتا ہے۔ آپ کا کام اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے، بہترین حکمت عملی اختیار کرنا ہے اور محنت کرنا ہے نا کہ غیبی مدد سے کھیل کا رخ بدلے جانے کا انتظار۔
تبلیغ دین کسی اور کے لئے رہنے دیں، آپ اپنی تمامتر توجہ اسی کام پر مرکوز کریں جس کے لئے آپ کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔ ٹیم کا انتخاب صرف اہلیت کی بنیاد پر کیا جائے نا کہ کوچ، سلیکٹر اور کپتان کے ہم مذہب یا ہم فرقہ ہونے کی بنیاد پر۔ سیکھنا چاہئیں تو کامیاب دنیا کے اطوار آپ کے سامنے ہیں۔ ملا کی کھلاڑیوں تک رسائی اسی طرح روکنی ہو گی جس طرح جواری مافیا کی روکی جاتی ہے۔ وگرنہ رونے چیخنے سے کچھ حاصل نہیں ہونا، اصل میچ تو ہم تب ہی ہار گئے تھے جب کوچ کو چھٹی دے کر ملا کو میدان میں اتارا گیا تھا

