آپ کے باغ میں پریاں اور ہماری بیری کے درخت میں جن
ضلع کرم پختونخوا کا بہت خوب صورت علاقہ ہے۔ اس سر سبز وادی کے قدرتی حسن نے اگرچہ سیاحوں کی طرف سے اپنے لئے جنت کا نام کمایا ہے۔ مگر میں اس کو اس لئے جنت کہوں گا، کہ حوروں کے متلاشی اکثر یہاں ملتے ہیں، جو اپنے اپنے قلعہ الموت میں آباد ہیں۔ اونچے درختوں کے نیچے ان کے شانوں پر لٹکتے ہوئے لمبے بال دیکھ کر مجھے عزیز مانیروال کا وہ شعر یاد آتا ہے کہ
” ستاسو باغ کے شاپیرئ
زمونگ بیری کی پیریان ”
یعنی آپ کے باغ میں پریاں اور ہماری بیری کے درخت میں جن آباد ہیں۔
پچھلے سال عید پر دوستوں نے فیصلہ کیا کہ کرم کا ٹور کرتے ہیں۔ وہاں کافی دوست احباب ہیں، ان سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔ گھر سے اجازت لینے کا وقت آیا تو نیلوفر مذاق میں بولی کہ باقی آزادیوں اور خوشیوں کی طرح عید بھی صرف مردوں کے لئے ہوتی ہے۔ وہ جہاں چاہے چکر لگا آتے ہیں، جبکہ عورتیں بے چاری گھر کی چہار دیواروں تک محدود رہتی ہیں۔ عید کے لئے آپ لوگ اپنے پسند کی شاپنگ کرتے ہیں، جبکہ ہماری خریداری بھی آپ اپنی مرضی سے کرتے ہو۔
کاش ہمیں بھی آپ کی طرح مارکیٹ جانے کا اختیار ہوتا اور اپنی من پسند چیزیں ہم بھی خرید سکتیں۔ کاش آپ دوستوں کی بجائے ہم فیملی والے چکر پر لے جا سکتے۔ میں نے کہا، کہ بات تو ٹھیک ہے، مگر ہندوازم کے قدیم رامانیہ ثقافت کے عورت دشمن اقدار قبائلی علاقوں میں آج بھی وہی کے وہی موجود ہیں، اوپر سے امریکہ کے نبراسکا یونیورسٹی میں تیار شدہ جہادی لٹریچر اور اس کے ساتھ بستر بند تحریک نے عورتوں سے وہ تھوڑے بہت حقوق بھی چھین لیے، جو جہادیوں اور دنیا بیزاروں کی آمد سے پہلے قبائلی سماج میں روایتی طور پر موجود تھے۔ چند لمحے سوچنے کے بعد نیلوفر نے منع کرتے ہوئے کہا کہ کرم نہ جائیں، وہاں خطرات زیادہ ہیں۔ میں نے وجہ پوچھی، تو اس نے کہا کہ جب میں چھوٹی تھی، تو بابا کے ریڈیو سے یہ گانا سنتی تھی کہ
و زما جانانہ
کرمے تہ مہ زا پہ گرانہ
خطرے، خطرے دی
یو بہ دے سی اوبہ درانے دی ”
یعنی میری جان کرم نہ جا۔ وہاں دریائے کرم کے پانی میں ڈوبنے کا خطرہ ہے۔
جان چھڑانے کے لئے میں نے بہانہ بنایا کہ وہ کب کی بات تھی، اب ایک تو دریا پر پل بنا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ دریا اب گلوبل وارمنگ کی وجہ سے خشک پڑا ہے۔
شکر ہے کہ نیلو موجودہ حالات سے بے خبر تھی۔ مسجد کی لاؤڈ سپیکر پر مولوی کے روزانہ وعظ اور قریب کے مدرسہ بنات کی باجی کے گاہے گاہے ملاقاتوں نے نیلوفر کو ریڈیو سننے اور ٹی وی دیکھنے سے توبہ تائب کر لیا ہے۔ صرف مولوی ہوتا تو پھر بھی نیلوفر کچھ سوچ کر فیصلہ کرتی، گھر میں موجود بڑے تایا اور تمام چچا زاد بھائی، سارے کے سارے کٹر تبلیغی ہیں، جن کا اسلام عورت سے شروع ہو کر جہنم پر ختم ہوتا ہے، بات بات پر کہتے ہیں کہ نیک عورت کے لئے ریڈیو سننا اور ٹی وی دیکھنا گناہ کبیرہ ہے۔
موبائل استعمال کرنے کا بھی نیلوفر کو شوق ہے، لیکن خاوندان مملکت نے قسم کھائی ہے کہ قبائل پشتونوں کو ہمیشہ کے لئے ایک مخصوص ذہنی حالت میں رکھنا ہے تاکہ وہ بگڑ نہ جائیں۔ جو پہلے راستوں اور سڑکوں پر ناکے لگا کر ذہنی اور جسمانی تکالیف دیتے تھے اور اب موبائل نیٹ ورک کی رینج کم کرنے یا بند کرنے سے اذیتیں دیتی ہیں۔
اللہ کرے، پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین کے ذہن میں یہ بات بھی آ جائے اور اپنے مطالبات میں سڑکوں سے ناکوں کے ہٹانے کے ساتھ ساتھ موبائل نیٹ ورک چلانے کا اضافہ بھی کردے، کیونکہ جو سیاسی و سماجی انقلاب یورپ والے اٹھارہویں صدی میں پرنٹنگ پریس کے ذریعے اپنے ہاں لائے تھے وہی تبدیلی ہم آج سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے پشتون وطن میں لا سکتے ہیں۔
کرم جانے کی وہ اجازت کبھی بھی نہ ملتی اگر نیلوفر کو پتہ ہوتا کہ مذکورہ علاقے کی قسمت میں ہمیشہ کے لئے خطرے ہی خطرے لکھے ہوئے ہیں۔ آج بھی وہاں جان لیوا خطرات موجود ہیں۔ اب دریا کے پانی میں مرنے کی بجائے آگ میں مرجانے کا خطرہ ہے، اور آگ بھی بارود والی۔ پہلے صرف عاشق کو ڈر تھا، اور وہ بھی اپنے رقیب سے، جس وجہ سے وہ اپنے محبوب کی منتیں کرتا کہ کرم نہ جا، کہیں دریائے کرم پار کرتے ہوئے تمہیں دریا بہا کر نہ لے جائے، جبکہ اب بیر کے ہر درخت پر بیٹھے لمبے بالوں والے جن گھات لگائے ہوئے ہوتے ہیں۔
پچھلے ہفتہ پاڑاچنار سے سدہ جانے والی سڑک پر جن کے حملے میں آٹھ بے گناہ لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ اس واقعے میں مارنے اور مرنے والے دونوں ایک باپ کے بیٹے یعنی پشتون تھے، ایک خدا کی مخلوق یعنی انسان تھے اور صدیوں سے اقتدار کی کرسی کے لئے جنگ لڑنے والے ایک عربی مذہب کے دو مخالف فرقوں کے پیروکار یعنی شیعہ اور سنی تھے۔ فائدہ کس کا ہوا؟ ریاست اور مذہبی پیشواؤں کا، اور وہ اس لیے کہ دونوں کی دکانیں اسی ”تقسیم کرو اور راج کرو“ کی پالیسی سے چلتی ہیں۔
ٹی وی دیکھنے سے توبہ نہ بھی کرتی تو نیلوفر، کرم میں رواں دہشتگردی اور فرقہ واریت پر مبنی جنگوں کے سنگین حالات سے بے خبر رہتی۔ کیونکہ پاکستانی میڈیا پر قطعاً پشتون وطن میں وقوع پذیر ہونے والے ان واقعات کی کوریج نہیں ہوتی جن میں طاقتور قوتوں کے ہاتھوں، انسانی حقوق کی پامالی، کرپشن اور ماورائے قانون اقدامات کا ذکر ہو۔
نیلوفر کی بات ایک طرح ٹھیک بھی تھی کہ قبائلی علاقوں میں عید صرف مرد مناتے ہیں۔ مذہبی افراط و تفریط سے پہلے عید کے دن قبائلی عورتیں صرف قبرستان تک جا سکتی تھیں لیکن پھر وہ بھی ناجائز ٹھہرایا گیا۔ اس لیے وانا سے پاڑا چنار تک چاروں اضلاع کے مشہور سیر گاہوں میں، میں نے صرف مرد ہی مرد دیکھے۔ کافی لوگوں کے ساتھ ان کے بوائے فرینڈز بھی تھے۔ اس عمل پر وہ فخر کرتے ہیں مگر اپنی فیملی کو سیر پر لے جانے سے وہ شرم محسوس کرتے ہیں اور اس پر کہتے ہیں کہ پشتون ضمیر و غیرت ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
یہی وجہ ہے کہ اسی خطے میں لوگ غیرت کے نام پر اپنی بیوی، بیٹی یا بہن کو قتل کرنے میں دیر نہیں کرتے، لیکن جب اس ناجائز کام میں اپنا بیٹا یا بھائی دیکھے تو کوئی خاص برا نہیں مناتے۔ نیلوفر ہوتی اور یہ سب دیکھتی تو کہتی کہ چاہیے کہ بوائے فرینڈز رکھنے والے مرد برقعے پہن کر پردہ کرتے تاکہ پتہ نہ چلے کہ اندر کون ہے، لیکن بجائے خود برقعہ پہننے کے انہوں نے ہمیں برقعے پہنائے ہیں اگرچہ وہ نہیں جانتے کہ ہم برقعہ کی اندر سے سب دیکھتے ہیں اور ایک ایک متقی کو جانتی ہیں، جن کو ہماری آخرت کی فکر ہے۔


