ملا اور دنیاوی معاملات پر اظہار رائے
افغانستان کی موجودہ حکومت کے ایک ذمہ دار فرد نے حال ہی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علم پاکستان سے افغانستان منتقل ہو چکا ہے۔ ان کی یہ بات صحیح ہے لیکن علم سے ان کا مطلب مذہبی علم ہے۔ ان کے نزدیک عصری تعلیم ایک پیشہ اور فن ہے، اور وہ اسے سیکھنا مباح سمجھتے ہیں لیکن ان کے علم میں اضافے کے لئے عرض کروں کہ عصری تعلیم صرف جائز نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے۔
دین کے اندر مسائل کی تحقیق کرنا علم نہیں ہے۔ دین کا اصل متن قرآن ہے اور قرآن انسانی علم سے مختلف ہے، یعنی قرآن بذات خود علم نہیں بلکہ یہ خدا کا کلام ہے اور وحی ہے۔ ملا صرف دینی متن کا حافظ ہے، عالم نہیں ہے۔ دین کے اندر سیکھنا علم نہیں ہے بلکہ دین کو سیکھنا علم ہے۔ مثلاً شاعری اور نثر ادب ہیں، ادب بذات خود علم نہیں، لیکن ادب کے بارے میں جاننا علم ہے، یعنی یہ ادبی علم ہے۔
مذہب انسانی معاشرے کے لیے آیا ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ ملا معاشرے کی بھلائی کے لیے مذہب کی تشریح و توضیح نہیں کر سکتے۔ موجودہ دنیا میں عالم وہ ہوتا ہے جو عمرانیات، تاریخ، فلسفہ، ادب، سیاسیات اور انسانی علوم کی دیگر شاخوں کا گہرا مطالعہ رکھتا ہو اور مذہب سے ایسے مسائل نکالتا ہو جو موجودہ معاشرے کے لئے مفید ہوں۔ جیسا کہ امام ابو حنیفہ جو اپنے زمانے کے عالم ہیں اور مذہب کی اس طرح تشریح کرتے ہیں کہ اس سے اس وقت کے لوگوں کے مسائل حل ہوں۔
تاہم، امام ابو حنیفہ کے اکثر فقہی مسائل موجودہ معاشرے میں لاگو نہیں ہوتے اور اب علوم میں ان پر غور نہیں کیا جاتا مثلاً قدوری میں مذکور ہے کہ اگر کوئی چوہا کنویں میں گر جائے تو وہ کنواں چالیس بالٹی پانی نکالنے سے صاف ہوتا ہے اور پھر وہ پانی وضو اور کھانے پینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ جب کوئی چڑیا گرتی ہے تو کنویں کو صاف کرنے کے لئے تیس بالٹی پانی نکالنا ہو گا۔
اب مجھے اس مسئلے کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ترقی یافتہ معاشروں میں کنویں نہیں ہوتے ہیں، پانی گھروں تک پائپ لائنوں میں جاتا ہے۔ چوہے، کچوے وغیرہ وہاں نہیں رہتے لیکن ایسے علاقے ضرور ہیں جہاں لوگ روزانہ کنویں میں گرائے جاتے ہیں مگر۔ اس لئے مجھے یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے کہ چوہا، چڑیا یا چھپکلی کنویں میں کیسے گرتی ہے؟ اچانک گر جائے تو کیا حساب ہو گا، آہستہ سے گر جائے تو کیا حساب ہو گا۔ مجھے اس میں بھی دلچسپی نہیں ہے کہ چوہا مرضی سے گر جائے تو کتنی ڈولچیاں نکالنا ہوں گی۔ اور اگر کوئی زبردستی ڈال دے تو ڈولچیوں کی ترتیب اور حساب کیا ہو گا۔ زیادہ تر سابقہ مسائل علم نہیں ہیں اور ملا انہیں سیکھتے ہیں اور پھر علم کے نام پر ہم تک اور لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔
اس وقت ہمیں موجودہ عصر کی فقہاء کی ضرورت ہے، جو علم کے مختلف شاخوں کا گہرا مطالعہ کریں اور متعلقہ مسائل کو دین کے ساتھ جوڑ دیں اور غیر متعلقہ مسائل دین سے نکال دیں۔ ایک ملا کبھی عالم نہیں ہوتا، ہمارے ہاں ”عالم“ کا نام سنتے ہی لوگوں کے ذہنوں میں ایک عالم دین آتا ہے۔ جبکہ کوئی دینی عالم نہیں ہے، کیونکہ دین علم ہے ہی نہیں، اس کا بنیادی متن خدا کا کلام ہے۔ میری رائے میں دین کو علم کہنا غلط ہے۔
عصر حاضر کے تناظر میں قرآن کے متن سے کوئی نیا اقتباس نکال کر اس کی تشریح کسی ایسے شخص کو کرنی چاہیے جس نے مذہبی علوم کے ساتھ ساتھ فقہ، سیاسیات اور سماجیات کا بھی گہرا مطالعہ کیا ہو۔ ملا کو دنیاوی مسائل پر اظہار خیال کا حق نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ملا عصری دنیا کی زندگی سے ہٹ کر زندگی چاہتا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ پوری دنیا کی قیادت اس کے حوالے کر دی جائے تاکہ پوری انسانیت کے ساتھ اسلام کو بھی اندھیروں کے گڑھے میں گرا دیا جائے۔


