ایک پراسرار کائنات: آئن سٹائن کی سب سے خوش کن سوچ


سنہ 1907 میں، سوئٹزرلینڈ کے شہر برن میں پیٹنٹ آفس کے اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے، جہاں انہیں حال ہی میں ٹیکنیکل اسسٹنٹ، تھرڈ کلاس سے ٹیکنیکل اسسٹنٹ، سیکنڈ کلاس میں ترقی دی گئی تھی، آئن سٹائن کے ذہن میں ایک خیال آیا جس کو انہوں نے ”میری زندگی کی سب سے خوش کن سوچ“ قرار دیا۔

آئن سٹائن نے تصور کیا کہ اپنے گھر کی چھت سے گرنے والا شخص اپنے آپ کو اسی طرح بے وزن محسوس کرے گا، جس طرح ایسا شخص جو کشش ثقل سے آزاد زمین سے بہت دور خلا میں تیر رہا ہو۔ بقول ان کے ”اگر کوئی شخص آزادانہ طور پر گرتا ہے تو اسے اپنا وزن محسوس نہیں ہوتا“ ۔

یہ سادہ سوچ آئن سٹائن کو اضافیت کے عمومی نظریے کی تشکیل کی طرف لے گئی۔ یہ نظریہ زمان و مکاں کے بارے میں ہماری سمجھ میں انقلاب لا نے کا سبب بنا۔ اس نے کائنات، اس کے آغاز اور ارتقاء اور ممکنہ طور پر اختتام کو سمجھنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

ایسا کیسے ممکن ہوا؟

جس طرح آئن سٹائن کی اس دریافت نے کہ چاہے روشنی کا منبع ساکن ہو یا مستقل رفتار کے ساتھ حرکت کر رہا ہو، روشنی ایک ہی رفتار سے حرکت کرتی ہے، جگہ اور وقت سے وابستہ ہمارے تصورات کو پاش پاش کر دیا تھا۔ اسی طرح آئن سٹائن کے دریافت کردہ مساوات کے ایک اصول (equivalence principle) نے جگہ اور وقت کی ایسی نوعیت سے روشناس کروایا، جس نے کائنات کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر کو ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیا۔

اس انقلابی نظریہ کا مرکز یہ تھا کہ زمین جیسے سیارے یا ستاروں کے گرد جگہ اور وقت کی نوعیت کسی مادی شے سے خالی فضا کی نسبت بہت مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر زمین کے نزدیک جگہ اور وقت خمیدہ (curved) ہوتے ہیں۔

زمین کے نزدیک سیدھی لکیر سیدھی نہیں ہوتی، جب کہ زمین سے دور خلا میں کھینچی گئی لکیر سیدھی ہو گی۔ ایسا اس لئے ہے کہ زمین کے نزدیک جگہ خمیدہ ہے۔ اور زمین سے دور خلا میں یہ خمیدگی دور ہو جاتی ہے۔

اس اہم مشاہدے کا اہم نتیجہ یہ ہے کہ مادی اشیا، جیسے زمین، سیاروں اور ستاروں کے نزدیک وقت کی رفتار ان اجسام سے دور کی نسبت زیادہ آہستہ ہوتی ہے۔ اس کی ایک ڈرامائی مثال یہ ہے کہ زمین پر چلتے شخص کی پتلون کی جیب میں موجود گھڑی قمیض کی جیب میں موجود گھڑی کی نسبت آہستہ چل رہی ہوتی ہے۔ زمین پر یہ فرق بہت معمولی ہے اور اعلی تحقیق کی لیبارٹریز کے علاوہ اس فرق کو دیکھنا تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن یہ فرق بھاری ستاروں کے قرب میں بہت نمایاں ہو جاتا ہے۔

زمان و مکاں کی اس انقلابی سوچ کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے نیوٹن سے وابستہ کشش ثقل کے قانون کو تبدیل کر دیا۔

وہ کون سا اصول تھا جس نے اس انقلاب کی بنیاد رکھی؟
اور اس اصول کو کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟
یہ اس مضمون کا موضوع ہے۔

مساوات کے اصول (equivalence principle) کو سمجھنے کے لیے، آئیے آئن سٹائن کی سب سے خوش کن سوچ کی طرف واپس جاتے ہیں اور تصور کرتے ہیں کہ ایک شخص کسی عمارت کی سب سے اونچی منزل سے زمین پر گر رہا ہے۔ یہ تصور یقیناً خوش آئند نہیں ہے مگر آئن سٹائن کے نظریے کو سمجھنے میں مدد گار ضرور ہے۔ نیوٹن کے قانون کشش ثقل کے مطابق زمین ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ یہ ایک قوت ہے جو گرنے کی رفتار کو بتدریج تقریباً دس میٹر فی سیکنڈ کے اعتبار سے تیز کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جس رفتار سے انسان گر رہا ہے اس میں ہر سیکنڈ میں دس میٹر فی سیکنڈ اضافہ ہوتا ہے۔ اس منظر نامے میں ہم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اس وقت کیا ہو گا جب یہ شخص زمین سے ٹکرائے گا۔

آئیے پہلے گرنے والے شخص کے نقطہ نظر سے صورتحال پر غور کریں۔ وہ صرف ایک قوت یعنی کشش ثقل کے عمل کے تحت گر رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ، وہ اپنے آپ کو بے وزن محسوس کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر وہ وزن کرنے والی مشین پر کھڑا ہے تو اس کا وزن صفر ہو گا کیونکہ وزن کرنے والی مشین بھی کشش ثقل کے تحت گر رہی ہے اور اس طرح اس وزن کرنے والی مشین پر کوئی طاقت نہیں لگائی جا رہی۔ اسی طرح، اگر گرنے کے دوران، وہ شخص کسی شے، مثلاً گیند کو چھوڑتا ہے، تو گرنے والا شخص اور گیند دونوں کشش ثقل کی وجہ سے ایک ہی سرعت کے ساتھ حرکت کریں گی، اور ایک دوسرے کے حوالے سے ساکت رہیں گے۔ گرنے والا شخص گیند اور دوسری اشیا کو خلا میں معلق دیکھے گا۔

اب ذرا مختلف صورت حال پر غور کریں۔

تصور کریں کہ وہ شخص ایک ڈبے کے اندر ہے جو آزادانہ طور پر زمین پر گر رہا ہے۔ یہ شخص کیا مشاہدہ کرے گا؟ ایک بار پھر، یہ شخص اپنے آپ کو بے وزن محسوس کرے گا۔ اگر وہ شخص ایک بند مگر آزادانہ طور پر گرتے ہوئے ڈبے کے اندر ایک وزن کرنے والی مشین پر کھڑا ہو تو اس کا وزن صفر ریکارڈ ہو گا۔ اس کے علاوہ، وہ ڈبے کے اندر اپنے اردگرد موجود تمام اشیاء کو جامد اور ساکن دیکھے گا۔

بے وزنی کا یہ احساس زمین سے بہت دور خلا میں ایک خلاباز کے احساس سے ملتا جلتا ہے۔ خلاباز بھی اپنے اردگرد موجود اشیاء کو ساکت اور جامد دیکھتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے زمین پر گرنے والے ڈبے کے اندر موجود شخص۔

اس طرح، ڈبے کے اندر ایک شخص جو باہر دیکھنے سے قاصر ہے وہ دو ممکنہ صورت حال میں فرق نہیں کر سکے گا:
جب ڈبہ زمین پر گر رہا ہو،
اور جب ڈبہ ساکت ہو اور زمین سے بہت دور خلا میں تیر رہا ہو۔
اس کے بعد آئیے دوبارہ ایک بند ڈبے میں موجود اسی شخص پر غور کریں۔ ہم پھر دو صورتوں پر غور کرتے ہیں۔

پہلی صورت یہ ہے کہ ڈبہ زمین پر ساکن ہے۔ تصور کریں کہ ڈبے میں ایک وزن کرنے والی مشین ہے۔ جب یہ شخص اس مشین پر قدم رکھتا ہے تو اسے اپنا وزن 80 کلو گرام معلوم ہوتا ہے۔ وزن بنیادی طور پر وہ قوت ہے جو وہ شخص وزن کرنے والی مشین پر استعمال کرتا ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اس ڈبے کو زمین سے بہت دور خلا میں لے جایا گیا ہے جہاں کشش ثقل کی کوئی طاقت نہیں ہے۔ اس صورت میں وزن کرنے والی مشین صفر وزن ریکارڈ کرتی ہے جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے۔ تاہم، فرض کریں کہ ڈبہ ہر سیکنڈ دس میٹر فی سیکنڈ رفتار کے اضافے کے ساتھ اوپر کی طرف حرکت کر رہا ہے۔ یہ وہی اسراع ہے جس کے تحت ہر چیز زمین پر گرتی ہے۔ ایسے ڈبے میں تولنے والی مشین پر کھڑا شخص نیوٹن کے قانون حرکت کے مطابق کشش ثقل کے مساوی قوت کے ساتھ مشین کو نیچے دھکیلے گا، اور اس شخص کا وزن دوبارہ 80 کلو گرام ریکارڈ ہو گا۔

اس صورت میں ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ زمین پر موجود ڈبے اور خلا میں ہر سیکنڈ 10 میٹر فی سیکنڈ سے بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ اوپر کی طرف حرکت کرنے والے ڈبے میں وزن کرنے والی مشین پر کشش ثقل اور نیوٹن سے وابستہ قوت کے درمیان فرق کرنا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ دونوں صورتوں میں وزن کرنے والی مشین ایک ہی وزن یعنی 80 کلو گرام ریکارڈ کرے گی۔ ڈبے کے اندر موجود شخص کے لیے دونوں صورتیں، زمین پر ساکن ہونا یا بیرونی خلا میں اوپر کی طرف سرعت سے سفر کرنا، ایک جیسا ہی ہے۔ اس کے لیے یہ معلوم کرنے کا واحد طریقہ کہ وہ زمین پر ہے یا خلا میں ہے، کسی طرح ڈبے سے باہر دیکھنا ہے۔

اس سادہ دلیل کی بنیاد پر ، آئن سٹائن نے مساوات کا ایک اصول وضع کیا جسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے : طبیعات کے تمام قوانین ان دو اشخاص کے لئے یکساں ہوں گے جن میں سے ایک زمین پر کشش ثقل کی موجودگی میں قیام پذیر ہے جہاں ہر چیز ایک خاص سرعت سے فرش پر گرتی ہے، اور دوسرے شخص کے لئے جو خلا میں اسی سرعت کے ساتھ حرکت کر رہا ہے جو کشش ثقل سے وابستہ سرعت کے مساوی ہو۔

اس اصول کو ایک اور انداز میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے۔

ایک شخص جو ایک بند ڈبے میں موجود ہے اور باہر دیکھنے سے قاصر ہے، کوئی ایسا تجربہ نہیں کر سکتا جس کے ذریعے وہ یہ معلوم کر سکے کہ آیا وہ زمین پر موجود ہے جہاں کشش ثقل موجود ہے یا خلا میں کشش ثقل کے برابر سرعت، یعنی دس کلومیٹر فی سیکنڈ فی سیکنڈ، سے حرکت کر رہا ہے۔

عمومی نظریہ اضافیت اور آئن سٹائن کے نظریہ ثقل کی بنیاد اسی سادہ اصول پر رکھی گئی تھی۔

بظاہر تو یہ اصول بہت سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آنے والا ہے، لیکن اس کے نتائج انتہائی ہوشربا اور ناقابل یقین ہیں۔ اس مساوات کے اصول کی بنیاد پر ہم دیکھیں گے کہ

· زمین کے گرد جگہ خمیدہ ہے۔
· زمین پر موجود گھڑی خلا میں موجود گھڑی کی نسبت آہستہ چلتی ہے۔
· روشنی جس کا وزن صفر ہے، جب سورج کے پاس سے گزرتی ہے تو سورج کی کشش محسوس کرتی ہے۔
· جب نیلے رنگ کی روشنی ایک وزنی سیارے پر اوپر کی طرف جاتی ہے تو اس کا رنگ سرخی مائل ہونے لگتا ہے۔
لیکن یہ تو ابتدا ہے۔ اس نظریے کی بنیاد پر یہ نتائج اخذ کیے گئے کہ
· کائنات ساکن نہیں ہے بلکہ پھیل رہی ہے۔
· کائنات کی ابتدا ایک نقطے سے ہوئی۔

· کائنات میں ایسے اجسام ہیں جو ایک نقطے سے بھی چھوٹے ہیں مگر جن کا وزن لاکھوں ستاروں کے وزن کے برابر ہے۔

یہ اور ان جیسے دیگر مشاہدات جو زمان و مکاں کی نوعیت کے بارے میں ناقابل یقین محسوس ہوتے ہیں، میرے اگلے مضامین کا موضوع ہوں گے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy