اب سوشل میڈیا اگلا نشانہ ہے!


سال 1991 ء کا ذکر ہے۔ رات دیر گئے، ہم کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) پر خلیجی جنگ کو براہ راست دیکھا کرتے تھے۔ ٹی وی سکرین پر فضاء میں اڑتے میزائلوں، صحراؤں میں بھاگتے ٹینکوں اور بلا تعطل جنگی مبصروں کو ہم متحیر ہو کر دیکھتے اور سنتے تھے۔ سال 1991 ء میں دنیا الیکٹرانک میڈیا کے ظہور کے دہانے پر کھڑی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ خلیجی جنگ امریکہ نے اپنے فوجی مروائے بغیر، اپنی ائر فورس کے علاوہ سی این این کے سر پر جیتی تھی۔

دنیا نے اکیسویں صدی میں قدم رکھا تو وطن عزیز میں بھی الیکٹرانک میڈیا کے دور کا آغاز ہوا۔ سر شام سجنے والے ٹاک شوز اور ’بال ٹو بال‘ براہ راست نشریات ہماری زندگیوں کا حصہ، تو اس کے نتیجے میں کئی معمولی فہم و فراست کے حامل خواتین و حضرات راتوں رات ’میڈیا سٹارز‘ بن گئے۔ انہی میں سے کچھ تو اس قدر با اثر ہوئے کہ خود کو ’بادشاہ گر‘ سمجھنے لگے۔ اسی دور میں بھارت جیسے ملکوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے حریف ملکوں کے خلاف ’فیک نیوز نیٹ ورکس‘ کے ذریعے ’ففتھ جنریشن جنگ‘ جیسی مہم جوئیوں کا آغاز کیا۔

خود ہمارے ہاں ایک وقت ایسا آیا کہ جنرل مشرف جیسا ایک دور میں مقبول اور اسی قدر طاقتور فوجی حکمران خود اپنے ہی ہاتھوں تخلیق کیے ہوئے ٹی وی چینلوں کے ہاتھوں بے دست و پا ہو کر رہ گیا۔ ’چوتھے صنعتی انقلاب‘ کے نتیجے میں مگر جب رفتہ رفتہ ڈیجیٹل میڈیا عام شہریوں کی انگلیوں کے پوروں میں سمٹنے لگا تو مین سٹریم میڈیا کی چمک دھمک ماند پڑنے لگی۔ نامور صحافی اپنے اپنے یو ٹیوب چینلز کھولنے لگے۔ ٹویٹر ابلاغ کا موثر ذریعہ بن کر سامنے آیا۔

عام آدمی کی بات ’ٹک ٹاک ویڈیوز‘ کے ذریعے لاکھوں انسانوں تک پہنچنے لگی۔ انہی پلیٹ فارمز کی مدد سے متحارب گروہ آج نام نہاد ’بیانیوں‘ کو تخلیق اور انہیں فروغ دیتے ہیں تو دوسری طرف انہی کے ذریعے ان بیانیوں کا توڑ بھی سامنے آتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ کئی ممالک اور گروہ سوشل میڈیا کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے جھوٹے بیانئے پھیلانے کے لئے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم اس سب کے باوجود خواص اور عوام اب ٹی وی چینلوں کو چھوڑ کر نا صرف تفریح بلکہ خبروں کے حصول کے لئے بھی ڈیجیٹل ذرائع پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ سال 1991 ء میں الیکٹرانک میڈیا کے جس دور کا آغاز ہوا تھا، اس کا انجام اب سامنے نظر آ رہا ہے۔ کل تک ’گلوبل ویلج‘ کہلائی جانے والی دنیا آج ایک عام آدمی کی ہتھیلی میں سمٹ چکی ہے۔

سوشل میڈیا سے جڑی خرافات پر بات کرنا ہم جیسے معاشروں میں ایک فیشن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایک منظم مہم کے تحت عوام میں اس کے استعمال سے متعلق خوف بھی پھیلایا جا رہا ہے۔ یقیناً سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ لیکن ایسا تو ہر بار ہوا ہے، جب جب دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوتی ہے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں ٹھک ٹھک کرتی کھڈیوں کی جگہ چھکا چھک چلتی مشینوں نے لی تو ہاتھوں سے کپڑا بننے والوں ہزاروں کاریگر سراپا احتجاج بن گئے۔

نتیجے میں Luddites کی اصطلاح سامنے آئی۔ ریڈیو، ٹی وی اور حتی کے وی سی آر کی آمد پر بھی ہر دور کے ’لڈائٹس‘ نے بربادی کے نوحے لکھے گئے تھے۔ سوشل میڈیا کے باب میں بھی اب یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے شتر بے مہار استعمال کے ساتھ لا تعداد معاشرتی برائیاں جڑی ہیں۔ تاہم اس سب کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا عام آدمی کی آواز اور اس کے ہاتھ میں رائے دہی کا ایک موثر ہتھیار بن کر سامنے آیا ہے۔

مین سٹریم میڈیا کو جہاں خریدا جا سکتا ہے تو وہیں ریاستی ہتھکنڈوں کے ذریعے اس کا گلا بھی گھونٹا جا سکتا ہے۔ چنانچہ گھٹن زدہ معاشروں میں جابر حکمران جہاں مین سٹریم میڈیا کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے نکیل ڈالنے میں کامیاب رہتے ہیں تو وہیں سوشل میڈیا کے باب میں تاحال نسبتاً بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں روسو نے انسان کی آزادی پر لکھنا شروع کیا تو اس کے نظریات سے ’ایک آدمی، ایک بندوق‘ کا تصور پیدا ہوا۔ اسی کے بطن سے انقلاب فرانس پھوٹا۔ اسی انقلاب نے افراتفری اور انتشار کے بعد ’ایک آدمی، ایک ووٹ‘ کا روپ دھارا اور مغربی جمہوریت کے خدو خال ابھرے۔ آج ’ایک آدمی، ایک موبائل فون‘ کی صورت میں جمہوریت ایک نیا جنم لے چکی ہے۔

وہ مغربی نشریاتی ادارے کہ اپنے ہاں کے سرکاری ذرائع ابلاغ و نشریات پر قدغنوں کے سبب، ہم جیسے معاشرے جن پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کیا کرتے تھے، حالیہ ہفتوں کے اندر بری طرح بے نقاب ہوچکے ہیں۔ وہی بی بی سی کہ جس کے مارک ٹلی کی زبان سے نکلے ہر حرف کو ہم پاکستانی مقدس صحیفوں کے الفاظ سمجھتے تھے، وہی سی این این کہ جسے سال 1991 ء کی خلیجی جنگ کے دوران ہم راتوں کو جاگ کر دیکھا کرتے تھے، ان اور ان جیسے درجنوں دوسرے عالمی میڈیا ہاؤسز اور ان کی پشت پر کھڑے وہی نام نہاد آزاد خیال معاشرے کہ انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کا سودا بیچتے بیچتے جنہوں نے کئی ہنستے بستے ممالک تاراج کر دیے، آج سب اوندھے منہ پڑے ہیں۔

کوئی اور نہیں، سوشل میڈیا ان کو بے نقاب کر رہا ہے۔ 7 اکتوبر والے دن دنیا کی سب سے بڑی جیل کہلائے جانے والی پٹی میں جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے والے لاکھوں انسان رد عمل پر کیوں مجبور ہوئے؟ نام نہاد آزاد مغربی میڈیا اس پرتو کوئی بات نہیں کر رہا مگر اسرائیل کے ’سیلف ڈیفنس‘ پر رات دن تاویلیں گڑی جا رہی ہیں۔ غزہ کی پٹی میں انسانیت سوز مظالم کی رپورٹنگ کے لئے تو کوئی موجود نہیں، اسرائیل کے اندر ہلاکتوں پر بین ڈالنے کو سینکڑوں مرد وزن صحافی مگر رات دن مصروف عمل ہیں۔

اسرائیلی بچوں کے سر قلم کیے جانے کی غیر مصدقہ اطلاعات کا ڈھول تو رات دن پیٹا گیا، غزہ کے ہسپتالوں پر بمباری کے نتیجے میں مارے جانے والے سینکڑوں معصوموں کا تذکرہ مغربی ذرائع ابلاغ پر گناہ کے مترادف ہے۔ فلسطینیوں کی بات کرنے والے عالمی شہرت یافتہ صحافیوں کو ان کے ادارے نوکریوں سے برخواست کر رہے ہیں۔ پوری دنیا میں اسرائیلی مظالم کے خلاف مظاہرے کرنے والے کروڑوں عام شہریوں کو بی بی سی جیسا معتبر ادارہ بھی ’حماس کے طرفدار‘ کہنے سے نہیں چوکتا۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نہتے شہریوں پر سفید فاسفورس برسانے، جبکہ اشیائے خود و نوش کی نقل و حمل پر پابندیوں جیسے انسانیت سوز مظالم کا تذکرہ کہیں کھل کر ہو رہا ہے تو وہ مغربی ممالک کا مین سٹریم میڈیا نہیں، عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ دنیابھر میں بڑے پروڈکشن ہاؤسز، ٹی وی چینلز اور اخبارات کو کون کنٹرول کرتا ہے۔ ان طاقتوں کی دسترس سے اب تک اگر کچھ باہر ہے تو وہ سوشل میڈیا ہے۔ اندازہ یہی ہے کہ طاغوتی قوتیں اب ضرور سوشل میڈیا پر غلبہ پانے کے راستے ڈھونڈیں گی۔

Facebook Comments HS