اسے کیا کرنا چاہیے؟ (مکمل کالم)


پردے پر منظر بدل چکا ہے، وہ واپس آ گیا ہے، اب اسے کیا کرنا چاہیے؟

اہل دانش کا خیال ہے کہ تاریخ نے اسے ایک اور موقع دیا ہے کہ وہ بڑا آدمی بنے اور امر ہو جائے، اس کام کے لیے اسے اپنا دل بڑا کرنا ہو گا، اپنے حریف کو معاف کرنا ہو گا، اس کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنا ہو گا تاکہ اسے کھیلنے کے لیے پورا میدان ملے، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا اور اسی ڈگر پر چلے گا جس پر اس کا حریف چلا تھا تو پھر ہم یونہی دائروں میں سفر کرتے رہیں گے اور کبھی آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔ آج وہ دوبارہ آنکھ کا تارا بن گیا ہے کل کو پھر دل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے گا، اس وقت گھڑی کی سوئیاں اسی طرح الٹی گھومیں گی جس طرح آج گھوم رہی ہیں اور یوں کبھی ہم اس گھن چکر سے باہر نہیں نکل پائیں گے، لہذا ملک و قوم کے عظیم تر مفاد میں ضروری ہے کہ وہ نیلسن منڈیلا کی طرح عظمت کا ثبوت دے اور اپنے حریف کے بارے میں دو ٹوک انداز میں کہے کہ اس کے ساتھ بھی ویسے ہی زیادتی ہو رہی ہے جیسی اس کے اپنے ساتھ ہوئی تھی، یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے اور میں اس سلسلے کے خاتمے کا آغاز کرتا ہوں۔ آخر اس پر منڈیلا سے زیادہ ظلم تو نہیں ہوا، منڈیلا نے بھی تو اپنے تمام زخم بھلا کر دشمنوں کو معاف کر دیا تھا، اس اقدام کے بعد ہی تو ملک کے آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہوئی تھی، قومیں اسی طرح تاریخ سے سبق سیکھ کر اپنے لیے راستہ بناتی ہیں۔ سو، اگر وہ چاہتا ہے کہ ملک کی سمت درست ہو، معیشت ترقی کرے، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی قائم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ تاریخ کے اس موقع سے فائدہ اٹھائے اور اپنے حریف کے لیے بھی ویسے ہی انصاف کا مطالبہ کرے جیسے وہ اپنے لیے کرتا رہا ہے، ایک مدبر اور رہنما کے طور پر ویسے بھی یہ اس کا فرض ہے، لیکن اگر اس نے تاریخ سے سبق نہ سیکھا تو پھر ملک کی ترقی کا خواب محض خواب ہی رہے گا۔ اس کے لیے یہ کام مشکل ضرور ہے مگراس کے بغیر کوئی چارہ نہیں، اس کے ارد گرد موجود لوگ کہتے ہیں کہ جب اس کے حریف نے یہ سلسلہ ختم نہیں کیا تھا تو ہم کیوں کریں۔ ہاں، یہ بات درست ہے کہ اس کے حریف نے یہ کام نہیں کیا تھا حالانکہ ہم اسے بھی یہی اصولی مشورہ دیتے تھے، اس نے غلط کیا تھا، مگر اب آپ تو درست کام کریں، اب ہم آپ کو بھی اصولی مشورہ ہی دے رہے ہیں، اگر آپ نے بھی وہی کچھ کیا جو ماضی میں ہوتا آ رہا ہے تو پھر اس ملک کی تقدیر بدلنے کا نعرہ فراموش کر کے ہمیں اس کا ملک کا نام انتقامستان رکھنا ہو گا۔ شیکسپئیر کے مشہور ڈرامے ’دی مرچنٹ آف وینس‘ میں یہودی ساہوکار شائلوک کہتا ہے :

If you prick us do we not bleed? If you tickle us do we not laugh? If you poison us do we not die? And if you wrong us shall we not revenge?

یہ فیصلہ اب اسے کرنا ہے کہ کیا وہ تاریخ میں شائلوک بننا چاہتا ہے یا نیلسن منڈیلا!

اہل دانش سے اختلاف بہت مشکل ہے، ان کی زنبیل دلائل سے بھری ہوئی ہے، ان کی باتوں میں وزن ہے، لیکن یہ وزن ایک ہی پلڑے میں ہے ڈال دیا گیا ہے، جبکہ انصاف کا تقاضا ہے کہ دونوں پلڑوں میں وزن برابر ہو۔ اسے نیلسن منڈیلا کی طرح کردار ادا کرنے کا مشورہ تو دیا جا رہا ہے مگر یہ موازنہ درست نہیں، انگریزی میں اسے  False Equivalenceکہتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے سربراہ ڈی کلارک نے شدید عالمی دباؤ کی وجہ سے یک طرفہ طور پر ایسے اقدامات کیے تھے جن کی بدولت نیلسن منڈیلا کی رہائی ممکن ہوئی تھی، کلارک نے منڈیلا کی پارٹی سے پابندی اٹھائی، ملک سے ہنگامی حالت ختم کی اور مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں سچائی اور مصالحتی کمیشن قائم ہوا جس میں یہ طے پایا کہ جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے دور میں کی گئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا اور ملک میں عام معافی کا اعلان کیا جائے گا، ان اقدامات کے بغیر نسل پرست حکومت سے جان چھڑانا ممکن نہ تھا۔ نیلسن منڈیلا نے ان باتوں پر آمادگی ظاہر کی جس کے بعد ملک میں عام انتخابات ہوئے اور ملک سے نسل پرستی کا خاتمہ ہوا۔ منڈیلا نے کسی دن اچانک اٹھ کر یک طرفہ طور پر نہیں کہا تھا کہ آج سے میں ڈی کلارک اور اس کی حکومت کی جانب سے کی گئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عام معافی کا اعلان کرتا ہوں کیونکہ یہ بے معنی بات ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ انتقامستان میں کون نیلسن منڈیلا ہے اور کون ڈی کلارک؟ یہاں تمام مشورے ’اسے‘ تو دیے جا رہے ہیں مگر کیا اس کے حریف نے بھی کسی قسم کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اس کے خیر سگالی اقدامات کے جواب میں بیٹھ کر کھیل کے اصول طے کرے گا اور وہ دونوں آئندہ کسی تیسرے کو وکٹیں اکھاڑنے کا موقع اور اختیار نہیں دیں گے! اور اگر ہم ایک منٹ کے لیے یہ فرض بھی کر لیں کہ وہ اپنے حریف کے لیے اصولی موقف اپنانے کے لیے تیار ہوجاتا ہے اور نتائج کی پروا نہ کرتے ہوئے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس کے حریف کے ساتھ وہ سلوک نہ کیا جائے جو اس کے ساتھ کیا گیا تھا تو کیا اس کے نتیجے میں وہ دوبارہ پس زنداں نہیں چلا جائے گا؟ جب مخالف فریق کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ ہی نہیں ہے تو فقط ایک فریق کے یک طرف مطالبات کا نتیجہ سوائے اس کی اپنی تباہی کے اور کیا نکلے گا؟ مزید فرض کریں کہ ملک کی خاطر اگر وہ یہ بھگتنے کو تیار بھی ہو جائے تو کیا اس ساری کارروائی کا منطقی انجام اس سے مختلف ہو گا جو ماضی میں ہوا؟ اہل دانش سے بہتر اس کا سوال کا جواب کوئی نہیں جانتا۔ انگریزی میں اس کے لیے appeasement کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، یہ وہی کام تھا جو برطانوی وزیر اعظم چیمبرلین نے 1930 میں کیا تھا۔ باقی تاریخ ہے۔

اصل میں اہل دانش مشورہ تو اصولی دے رہے ہیں لیکن وہ یہ مشورہ غلط بندے کودے رہے ہیں، اس کے پاس وہ سب کچھ کرنے کا اختیار ہی نہیں جس کا اسے مشورہ دیا جا رہا ہے۔ اسی لیے اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ ان تمام مشوروں پر عمل کرنے کے بعد ملک کی سمت درست ہو جائے گی کیونکہ انتقامستان میں کوئی نیلسن منڈیلا نہیں ہے، البتہ یہاں ڈی کلارک ضرور ہے، اہل دانش نے مشورہ دینا ہے تو ڈی کلارک کو دیں، تاریخ میں امر ہونے کا موقع کلارک کے پاس ہے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 481 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments