پیپلز پارٹی کا وقار۔ سردار سلیم پارٹ 2۔


(گزشتہ سے پیوستہ) ۔

سردار سلیم کا کہنا ہے کہ جب فوجی آمر اقتدار کی دس سال کی تکمیل کا جشن منا رہا تھا مگر اس کے وزیر خارجہ (ذوالفقار علی بھٹو) نے حکومت سے الگ ہو کر اس کے دس سالہ دور اقتدار کو چیلنج کیا ملک کے کو نے کونے میں ایک سال کے اندر پارٹی کی تنظیم سازی کر لی پارٹی کے بنیادی مقاصد نمبر ایک اسلام ہمارا دین نمبر دو جمہوریت ہماری سیاست نمبر تین سوشلزم ہماری معیشت نمبر چار عوام طاقت کا سرچشمہ کے نعرے پر لوگوں کو اکٹھا کیا ایوب خان تین ماہ میں ہی عوامی ریلے کا مقابلہ نہ کر سکا اور اقتدار سے الگ ہو گیا مگر اپنے بنائے ہوئے دستور کے مطابق اقتدار قومی اسمبلی کے سپیکر کے حوالے نہیں کیا۔ یحیٰی خان نے انتخابات تو کرا دیے لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا موقف تھا کہ اگر عوامی لیگ اپنی اکثریت کی بنیاد پر چھ نکات کی بنیاد پر دستور منظور کروا لیتی تو پاکستان از خود ہی پانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کو تاریخ کی سب سے بڑی شکست اٹھانا پڑی 39 ہزار کے قریب فوجیوں نے جنرل نیازی کی قیادت میں ہتھیار ڈال دیے اور بھارتی قید میں چلے گئے جنہیں ذوالفقار علی بھٹو نے شملہ معاہدہ کے ذریعے رہا کرایا۔

سردار سلیم نے بتایا 20 ستمبر 1996 ء کو احسان بھٹی نے درد بھری آواز میں بتایا کہ ”میر مرتضیٰ بھٹو کو پولیس نے سڑک پر گولی مار دی ہے۔ زخمی حالت میں سڑک پر پڑے ہوئے ہیں۔ پولیس ہسپتال لے جا رہی ہے اور نہ ہی ہم کو لے جانے دے رہی ہے۔ خون تیزی سے بہہ رہا ہے۔ فون بند کر کے میں نے وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ کو فون کیا جو کسی اے ڈی سی نے اٹھایا تو میں نے اس سے اپنا تعارف کرانے کے بعد کہا کہ“ وزیراعظم صاحبہ سے بات کراؤ وجہ بھی بتائی ”لیکن اس نے جواب دیا کے کسی نے تمہارے ساتھ مذاق کیا ہے جس کسی مخالف نے غلط اطلاع دی ہے۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو سب پہلے وزیراعظم ہاؤس کو خبر دی جاتی اس کو بتایا کہ فون کرنے والے کی آواز میں پہچانتا ہوں، وہ ہمارا مخالف ہے اور نہ ہی اس قسم کا بے ہودہ مذاق کر سکتا ہے۔ مگر وہ کسی بھی صورت میں بات کرانے کے لئے تیار نہیں ہوا مجبوراً دوبارہ احسان بھٹی کو فون کیا اور صورت حال بتائی دوسری یا تیسری بار فون کرنے کے بعد پتہ چلا کہ پولیس والے اب میر مرتضیٰ بھٹو کو ایمبولینس پر شاید ہسپتال لے جا رہے ہیں۔ احسان بھٹی نے کہا کہ ہم بھی اپنی گاڑی میں ان کے پیچھے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد میرا احسان بھٹی سے رابطہ ختم ہو گیا پھر خبروں سے اطلاع ملی کہ میر صاحب جاں بحق ہو گئے ہیں۔

دوسرے دن اسلام آباد سے کچھ وزراء ایک سپیشل فلائیٹ کے ذریعے جنازے میں شرکت کے لئے جا رہے تھے۔ مجھے اور نذر کیانی کو بھی جگہ مل گئی اس طرح ہم لوگ سکھر ائرپورٹ پر پہنچ گئے جہاں سے سید خورشید شاہ گاڑیوں کے قافلے میں نوڈیرو ہاؤس میں لے گئے نوڈیرو میں محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ بھی موجود تھیں مگر کسی سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں اور میر صاحب کی میت لاڑکانہ المرتضیٰ میں تھی اور مرتضیٰ بھٹو کے ساتھیوں نے محترمہ بینظیر بھٹو آصف زرداری اور ان کے ساتھیوں کو جنازے میں شرکت کرنے سے منع کر دیا تھا۔

تدفین گڑھی خدا بخش میں ہونی تھی۔ تدفین کے وقت سے پہلے میں نے سید خورشید شاہ سے درخواست کی کہ مجھے کوئی گاڑی مل جائے میں تدفین میں شرکت کے لئے جانا چاہتا ہوں مجھے میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھیوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس طرح میں اور نذر کیانی تدفین میں شرکت کے لئے گڑھی خدا بخش پہنچ گئے عین اس وقت میت لحد میں اتاری جا رہی تھی۔ میں نے ایک ساتھی ہٹا کر معیت کو پاؤں کی طرف سے پکڑ کر لحد میں اتارا۔

اس کے بعد منظم طریقے سے یہ بات پھیلائی گئی کے مرتضیٰ بھٹو کو آصف علی زرداری نے قتل کروایا ہے۔ اس گمراہ کن پراپیگنڈے کا مقصد اصل قاتلوں پر پردہ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے میر صاحب کی فیملی اور ساتھیوں کے علاوہ بھی بہت سارے لوگ آصف علی زرداری کو پسند نہیں کرتے اور آج تک اس بات کو سچ تسلیم کرتے ہیں کہ قتل زرداری کے منصوبے کے تحت کیا گیا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جن کو زرداری سے اختلاف ہے۔ مگر میں اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ اس قتل میں آصف علی زرداری ملوث ہے۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایک پولیس افسر نے مرتضیٰ بھٹو کو گولی ماری اور اسی رات اس پولیس والے کو رات کے اندھیرے میں قتل کر دیا گیا۔ کوئی بھی پولیس والا آصف علی زرداری کے کہنے پر کسی عام آدمی کو بھی قتل نہیں کر سکتا چہ جائے کہ وہ وزیراعظم کے بھائی کو قتل کرنے کا حکم دے تو پولیس والے اس پر عمل درآمد کر دیں۔

زرداری کے پاس جو اختیار اور طاقت ہے۔ وہ وزیراعظم کے خاوند ہونے کی وجہ سے تھی تو وہ کس اختیار کے بل بوتے پر وزیراعظم کے بھائی کو قتل کرنے کا حکم دے سکتا تھا۔ کس کو نہیں پتہ کہ پاکستان میں یہ اختیار کس کے پاس ہے۔ وہ جب چاہیں جس کو چاہیں قتل کروا دیں لاپتہ کروا دیں۔ مرتضیٰ بھٹو کو قتل کرنے کا منصوبہ اس وقت بنایا گیا جب اس کا محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ سے راضی نامہ ہو گیا۔

میں نے بھی بہن بھائی کے درمیان راضی نامے کی کوشش کی تھی اور کافی حد تک کامیاب بھی ہو گیا تھا۔ مگر آخری وقت میں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ میری اطلاع کے مطابق ڈاکٹر ظفر نیازی جو ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی دوست تھے۔ دونوں بہن بھائی کو راضی کرنے میں کامیاب ہوئے تو وہ قوتیں جو ان کے اختلاف میں خوش تھیں، نے میر مرتضیٰ بھٹو کو راستے سے ہٹا کر الزام آصف علی زرداری کے سر تھوپ دیا۔ اس طرح دونوں خاندانوں میں اختلافات کے نہ ختم ہونے والے بیج بو دیے

بہت سارے ساتھیوں کو میری اس بات سے اختلاف ہو گا۔ بہت سارے ساتھیوں کے علاوہ احسان بھٹی جس کو میں چھوٹے بھائی کے برابر سمجھتا ہوں کو بھی اتفاق نہیں مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت میں آصف علی زرداری کا کوئی عمل دخل نہیں تھا اور میں یہ بات اس لئے نہیں کہتا کہ مجھے آصف علی زرداری کے ساتھ کوئی ہمدردی ہے۔ مجھے جاننے والا ہر شخص جانتا ہے کہ مجھے زرداری سے کوئی ہمدردی نہیں۔ میں ان سے زندگی میں تین بار ملا ہوں جب انہیں راولپنڈی احتساب عدالت میں پیش کیا جاتا تھا اور مجھ سے قاضی سلطان محمود نے چلنے پر اصرار کیا تھا۔ میں قاضی صاحب کو انکار نہیں کر سکتا تھا۔

اس وقت مجھے زرداری سے کوئی اختلاف نہیں تھا بلکہ میرے خیال میں اگر احتساب عدالت کے سامنے جایا جائے تو کم ازکم تین چار ہزار کارکنوں کے ساتھ ہوں ورنہ وہاں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ دوسری بار محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد تعزیت کے لئے نو ڈیرو گیا میرا اختلاف اس بات پر شروع ہوا کہ حکومت ہونے کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو سزا نہیں دلائی گئی بلکہ پانچ سال تک اقتدار کو بچانے کے لئے معاف کر دیا گیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا مقدمہ لا وارثوں کی طرح چلتا رہا۔ مرتضیٰ بھٹو اور بعد میں محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت میں آصف علی زرداری ملوث نہیں۔ میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت کے لئے ایک منصوبہ بندی کی گئی پولیس کی ایک بڑی تعداد نے میر صاحب کا راستہ روک کر جھوٹا پولیس مقابلہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ اتنا بڑا مقابلہ ایک ایسے شخص کے کہنے پر نہیں کیا جا سکتا جس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں تھی۔

وہ صرف وزیراعظم کا شوہر تھا اور اس کے کہنے پر وزیراعظم کے بھائی، جس سے وہ شدید پیار کرتی ہے، کو پولیس جھوٹے مقابلے میں شہید کر دے، ممکن نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی مرضی شامل تھی۔ میں کسی صورت میں ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ذاتی طور پر ایسے بہت سارے واقعات کا گواہ ہوں جب محترمہ بے نظیر بھٹو میر مرتضیٰ کے ذکر پر (جب وہ جیل میں تھا) زار قطار رو پڑتی تھیں۔ اس کے علاوہ جب مرتضیٰ بھٹو کی میت ہسپتال میں پہنچی اور محترمہ بینظیر صاحبہ وہاں ننگے پاؤں ایک پیر میں جوتا تھا اور دوسرا بغیر جوتے کے تھا،پہنچیں۔ موقع پر موجود احسان بھٹی سے میں نے دریافت کیا کہ تمہارا کیا خیال ہے۔ وہ رونے کی دکھاوے کی کوشش کر رہی تھیں تو اس کا کہنا تھا کہ ہمیں ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی جان ہی نہ نکل جائے۔ میر مرتضیٰ بھٹو جرائم پیشہ انسان نہیں تھا جس کے قتل کا منصوبہ کراچی پولیس کا ڈی آئی جی اور زرداری مل کر بنا سکتے تھے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا بیٹا اور وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کا بھائی تھا۔

اس واقعے کے چالیس دن کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر دی گئی۔ کیا پولیس افسر شعیب سڈل کی سطح کے افسر کو نہیں پتہ تھا کہ یہ حکومت تو جانے والی ہے تو پھر کس طرح وہ آصف علی زرداری کے کہنے پر اتنا بڑا قدم اٹھا سکتا تھا۔ میں کبھی فاطمہ بھٹو سے ملا نہیں جب میں دمشق سے آیا تھا۔ وہ پانچ چھ سال کی تھی۔ مگر اس کی لکھی ہوئی دو تین کتابیں پڑھ چکا ہوں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کافی ذہین خاتون ہیں۔ کس طرح ایجنسی کی پھیلائی خبر پریقین کر سکتی ہے کہ میر سائیں کا قتل ایک خاندانی جھگڑا ہے۔ مرتضیٰ بھٹو کی شہادت ہو یا محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت، یہ سب ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد کا سلسلہ ہے۔ پہلے شاہ نواز بھٹو پھر مرتضیٰ بھٹو اور آخر میں محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔ ان شہادتوں کا مقصد ذوالفقار علی بھٹو کے پورے خاندان کو نشانّ عبرت بنانا تھا۔ (ختم شد) ۔

 

Facebook Comments HS