جموں و کشمیر میں آزادی کی تحریکیں


آج کے پر آشوب دور میں کتاب لکھنا، اسے چھپوانا اور پھر اسے تقسیم کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ کتاب کی تیاری اور چھپائی کے سارے اخراجات مصنف کو ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر افراد کتاب خریدنا نہیں چاہتے۔ ہاں! اگر مفت میں ہاتھ آ جائے تو پڑھنے کی بجائے الماری میں سجا دیتے ہیں، جو کچھ عرصہ بعد ردی کی نذر ہو کر فٹ پاتھ پر بکنے کے لئے آجاتی ہے۔ بڑی اچھی اچھی کتابیں میں نے فٹ پاتھ پر بکتے دیکھی ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ ہے۔

میں مبارک باد دیتا ہوں پروفیسر ڈاکٹر راجہ عبدالرحمن کو جنھوں نے ایک حساس موضوع پر قلم اٹھا کر آزادی کشمیر کے لئے چلنے والی مختلف تحریکوں سے اپنی نئی نسل کو روشناس کرانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ”جموں و کشمیر میں آزادی کی تحریکیں“ 775 صفحات پر مشتمل تصنیف ہے جسے لاہور کے ادارے ادبستان نے شائع کیا ہے۔ بہت ہی قیمتی کاغذ کے صفحات پر پروفیسر صاحب کی اپنی، والدین، اہل خانہ اور عزیز و اقارب کی درجنوں رنگین تصاویر اس کتاب کا حصہ ہیں۔ کتاب کا خوبصورت سرورق سبز رنگ کی زمین پر ریاست آزاد جموں و کشمیر کے جھنڈے کی تصویر کے ساتھ کشمیری حریت پسندوں کی تصاویر سے مزین ہے۔ پروفیسر صاحب نے کتاب کا انتساب اپنے مرحوم والدین کے نام کیا ہے۔ میرے استاد محترم ممتاز ماہر تعلیم اور مورخ جناب نذیر احمد تشنہ نے اس کتاب کا دیباچہ لکھا ہے۔

کتاب کے پہلے باب میں پروفیسر صاحب نے ریاست جموں و کشمیر کی جغرافیائی حدود اور ابتدائی سیاسی صورت حال کا بغور جائزہ پیش کیا ہے۔ مختلف علاقوں کی تاریخ و جغرافیہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے ان بستیوں کے رسم و رواج اور وہاں بسنے والے تحریک آزادی میں کسی بھی طرح کا کردار ادا کرنے والے افراد کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ پروفیسر صاحب کی توجہ کا زیادہ تر مرکز صوبہ جموں اور خصوصاً بھمبر رہا۔ صوبہ کشمیر کا زیادہ تر علاقہ پہاڑی اور دشوار گزار ہے۔ کتاب میں اس صوبہ کے بارے میں کم معلومات پاکر کشمیر کے بارے میں جاننے کی قاری کی تشنگی برقرار رہتی ہے۔ ریاست میں ڈوگرہ راج قائم ہوتے ہی مہاراجہ نے ریاست کی عوام سے بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کرنا شروع کر دیا تھا جس کو بڑی وضاحت سے اس باب میں بیان کیا گیا ہے۔

بدقسمتی سے صوبہ جموں خصوصاً میرپور اور بھمبر کے بارے میں بہت کم لکھا ہے۔ صوبہ کشمیر والے سمجھتے ہیں کہ مہاراجہ کشمیر کے ظلم و استبداد کے خلاف ساری تحریکیں انھوں نے شروع کی تھیں۔ ریاست کی خریدو فروخت سے پہلے صوبہ جموں کی پرانی ریاستوں بھمبر اور کھڑی کھڑیالی سے سکھوں کے خلاف چلنے والی تحریکوں کو یکسر نظر انداز کر جاتا رہا ہے۔ پروفیسر صاحب کی تحقیق کے مطابق 1846 ء سے پہلے سکھوں کے خلاف چلنے والی پہلی تحریک کا آغاز بھمبر اور اس کے نواحی علاقوں سے ہوا تھا۔ بعد ازاں کشمیر میں ڈوگرہ راج قائم ہوتے ساتھ ہی اس کے خلاف تحریک شروع ہو گئی تھی۔ انگریزوں نے مہاراجہ گلاب سنگھ کی حکومت کے خلاف چلنے والی تحریکوں کو کچلنے میں مہاراجہ کا ساتھ دیا جس وجہ سے وقت طور پر یہ تحریک دب گئی تھی۔

یہ کتاب آپ کو بتاتی ہے کہ کس طرح مہاراجہ گلاب سنگھ اور اس کے جان نشینوں نے ریاست کے عوام خصوصاً ًمسلمانوں کو سیاسی، سماجی، معاشرتی، اقتصادی اور مذہبی طور پر انتہائی پسماندہ رکھا تا کہ وہ ان کے خلاف بول نہ سکیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مہاراجہ کے درباری، ملازمین اور ریاستی جاگیر دار ریاست کے وفادار تھے انھیں عوام سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پروفیسر صاحب نے اس کتاب میں ریاست کے چند سرکاری افراد کی مسلمانوں سے ہمدردی کے بارے میں لکھا ہے۔

اس سلسلے میں میری تحقیق ان سے تھوڑی سی مختلف ہے۔ 1939 میں چھپنے والی ایک کتاب Princely state of Jammu & Kashmir میں اس کی کچھ تفصیل دی گئی ہے۔ مہاراجہ کا ساتھ دینے پر انھیں پینشن سے نوازا گیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے قدیم ریاست بھمبر کی تاریخ انتہائی مفصل لیکن اس کی پڑوسی ریاست کھڑی کھڑیالی کی تاریخ انتہائی مختصر بیان کی ہے۔ 1730 کے لگ بھگ کھڑی کھڑیالی میں راجہ کمال خان سموال کی جاگیر کا والی تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کا بیٹا بندو خان اور بعد میں ان کے پوتے راجہ سرخرو خان سموال جاگیر کے والی بنے۔ راجہ سرخرو خان نے سموال کی تاریخی مسجد تعمیر کروائی تھی۔

آج ہمارے کچھ لوگ سکھوں کے بڑے حامی نظر آتے ہیں لیکن انھیں شاید یہ علم نہیں ہے کہ سکھوں نے اورنگ زیب عالمگیر کے بعد برصغیر میں مسلمانوں کا زوال شروع ہوتے ہی مسلمانوں کا کتنا قتل عام کیا تھا۔ بندہ بیراگی نے سکھ جتھوں کے ساتھ مل کر کتنی مسلمان بستیوں کو اجاڑ دیا تھا۔ گجرات کے پروفیسر عزیز احمد چوہدری نے اپنی کتاب ”پنجاب۔ مغلوں کے عہد زوال میں“ میں اس کی صحیح عکاسی کی ہے۔ سکھا شاہی میں جموں و کشمیر اور اس کے نواحی علاقوں میں عوام و خواص پر رنجیت سنگھ اور گلاب سنگھ نے ظلم، لوٹ کھسوٹ، قتل و غارت گری اور مذہبی استعمال کا جو بازار گرم کیے رکھا، یہ کتاب آپ کو اس سے روشناس کراتی ہے۔ اس کے علاوہ سکھوں کے خلاف سید احمد شہید کی چلائی ہوئی تحریک اور اس کے محرکات پر پروفیسر صاحب نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

ریاست جموں وکشمیر کے مہاراجہ کے خلاف چلنے والی تحریکوں کا محرک میرے اپنے خیال میں اسلامی سے زیادہ معاشی تھا۔ معاشی طور پر پسے ہوئے عوام اپنے اوپر عائد بے جا ٹیکسوں اور مالیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ ریاست میں مسلمانوں کو پسماندہ اور انگریزی تعلیم سے دور رکھنے میں مدرسوں اور مولویوں نے اہم کردار ادا کیا جنھوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے سے روکا۔ مسلمان تعلیمی لحاظ سے ہندووں سے پیچھے رو گئے۔ ریاست میں زیادہ تر سکول ہندو آبادی میں تھے۔ کھڑی میں سکھ چین پور میں پرائمری، سموال میں مڈل سکول اور ڈڈیال کے گاؤں ہل میں مڈل سکول تھے جو تینوں ہندو آبادی کے گاؤں تھے۔

ہماری بد قسمتی ہے کہ مہاراجہ کے خلاف تحریک میں حصہ لینے والوں پر سرکاری سطح پر بہت کم لکھا گیا۔ آزاد کشمیر میں سرکاری سطح پر چھپنے والی جسٹس یوسف صراف کی تحریر کردہ کتاب Kashmiris fight for freedom میں سرسری طور پران تحریکوں کا ذکر ہوا ہے۔ جب کہ 1846 ء میں بھمبر اور 1932 میں عدم ادائیگی مالیہ کی تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والوں کا ذکر بھی سرسری انداز میں کیا گیا ہے ۔ پروفیسر عبدالرحمن صاحب نے ان تحریکوں اور اس میں اہم کردار ادا کرنے والوں پر تفصیل سے لکھ کو حق ادا کر دیا ہے۔

1947 ء کی آزادی کی تحریک میں حصہ لینے والوں کا ذکر انھوں نے مستند تاریخی حوالوں سے کیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ 1947 ء میں میرپور اور بھمبر کو مہاراجہ کے تسلط سے آزاد کروانے میں زیادہ کردار یہاں کے مقامی فوجی اور عام دیہاتی افراد نے ادا کیا تھا۔ آپ کو 1947 ء کی آزادی کے واقعات بڑے تسلسل اور تاریخی لحاظ سے درست اس کتاب میں ملیں گے جن کو اکٹھا کرنے میں پروفیسر صاحب نے بہت محنت کی ہے۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر بھی پروفیسر صاحب کی تحقیق بہت اہمیت کی حامل ہے۔ آزادی کے بعد 1947 ء سے لے کر 2022 ء تک مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کے محرک اور ان کے پیچھے کام کرنے والے کشمیریوں کے بارے میں بڑی تفصیل سے انھوں نے لکھا ہے۔

کشمیری نژاد تارکین وطن بھی اپنے وطن کی آزادی اور ہندوستان کی طرف سے کشمیری مسلمانوں پر روا رکھنے والے مظالم اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں بہت کام کر رہے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے ان کو کوششوں کو بھی سراہا ہے۔ کتاب کے آخر میں دیے گئے مضامین میں اگر آزادی کی تحریکوں میں شامل کچھ اور افراد کو بھی شامل کر لیا جاتا تو زیادہ اچھا ہوتا۔ پروفیسر صاحب نے اپنی درجنوں تصاویر کتاب میں شامل کی ہیں۔ میرے خیال میں یہ کتاب ایک تاریخی دستاویز ہے اور اس مناسبت سے اگر اس میں تاریخی شخصیات کی تصاویر شامل کی جاتیں تو زیادہ اچھا ہوتا کیونکہ ذاتی اور خاندانی تصاویر عموماً خود نوشت یا ذاتی یادداشتوں کی کتاب میں شامل کی جاتی ہیں۔ آزادی کی تحریکوں کے بارے میں لکھتے ہوئے ترتیب وار ہر تحریک کے علیحدہ علیحدہ باب بنا لیے جائیں تو قاری کے لئے بہت آ سانی ہو جاتی ہے۔

یہ کتاب مرتب کرنے میں پروفیسر ڈاکٹر راجہ عبدالرحمن کی تحقیق انتہائی اہمیت کی حامل اور ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ انھوں نے بڑی عرق ریزی سے تحقیق کے بعد حوالہ جات دیے ہیں، سیکڑوں کتابوں کا ذکر کیا ہے، درجنوں افراد کا انٹرویو کر کے، سرکاری ریکارڈ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس میں درج معلومات کو سادہ زبان میں مرتب کیا ہے۔ عدم ادائیگی مالیہ کی تحریک میں سزا پانے والے کھڑی کے صبح صادق شاہ کے مقدمہ کی مثل جیسے انھوں نے سیشن کورٹ کے ریکارڈ سے ڈھونڈی، یہ ایک انتہائی مشکل اور بڑے دل گردے کا کام ہے۔

یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ ہماری نئی نسل کتابوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں اپنی ریاست کی آزادی کے لیے اپنے بزرگوں کی دی گئی قربانیوں کو اپنی نئی نسل تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ (یہ مضمون راجہ عبدالرحمن کی کتاب جموں وکشمیر میں آزادی کی تحریکیں کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا)

Facebook Comments HS