وہ اک تارا قسط نمبر11
اگست کے تیسرے ہفتے کی وہ صبح بڑی روشن، چمکدار اور کھلی کھلی سی تھی۔ اینا نے سفید نیٹ کے پردے جھٹک کر اکٹھے کیے اور کھڑکی سے باہر جھانکا۔ سمولنسکایا چوک کا تھوڑا سا منظر اس کھڑکی سے نظر آتا تھا۔ سناٹا بکھرا پڑا تھا۔ دو ٹینک آہستہ آہستہ حرکت میں تھے۔
”تو پھر فوج نے بغاوت کر دی ہے۔“
اس نے اپنے آپ سے کہا اور لاؤنج میں آ کر ٹی وی آن کر دیا۔ سکرین پر اہم خبر کی پٹی چل رہی تھی۔
گوربا چوف شدید علیل ہیں۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
وہ بیڈ روم میں گئی۔ ہیثم سو رہا تھا۔ اس نے اس کا بازو ہلایا اس کی نیم وا کھلی آنکھیں دیکھ کر اس نے خبر سنائی۔
وہ خفیف سا ہنسا اور بولا۔
”چلو جارج بش کا انتظار ختم ہوا۔ بیچارہ اپنے بیلی گوربا چوف کو فون پر ڈرا ڈرا کر مار رہا تھا۔“
جب وہ دونوں چائے پیتے اور کھڑکی سے باہر سڑکوں کی ویرانی دیکھتے تھے۔
ہیثم نے کہا۔
”لوگوربا چوف گیا اور یلسن آیا۔“
اس وقت وہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کے پیالے میں ٹھوڑی رکھے باہر دیکھتے ہوئے سوچے چلی جا رہی تھی کہ امریکہ اور یورپ کے گھاگ، خرانٹ، حسابی لیڈر اور دماغ ہمارے ان احمق اور آپا دھاپی میں الجھے لیڈروں کے رویوں پر کس عیاری سے مسکراتے ہوں گے؟ کیسے تمسخر اڑا رہے ہوں گے؟ کیسے اس کے منہ کے بل گرنے کے انتظار میں گھڑیاں گنتے ہوں گے۔
ہیثم نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ ایسا بالعموم نہیں ہوتا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو اس حد تک سمجھ چکے تھے کہ کسی بھی نازک صورت میں ایک دوسرے کے دل و دماغ میں اٹھنے والے سوالات و خدشات کو بغیر بتائے سمجھ لیتے تھے۔ چند لمحوں تک وہ اسے دیکھتا رہا پھر رسان سے بولا۔
”اب امریکہ اور مغرب کے سامنے گھگھیانے، جھکنے اور رینگنے سے ہمیں تو نفرت ہے۔ پر ان لیڈروں کو کون سمجھائے؟ فوج میں اضطراب اور بے چینی ہے۔ یلسن ان کے لئے انتہائی نا پسندیدہ ہے۔ اب تاریخ کے فیصلے کا انتظار کرو۔ یہ فوجی بغاوت کیا گل کھلاتی ہے؟ دیکھو۔“
اور جب ہیثم نہانے کے لئے گیا۔ اس کے ذہن میں الاؤ دہک رہا تھا۔ ملک بڑے خطرناک موڑ پر آ گیا تھا۔ پتہ نہیں اس وقت وہ کیوں بہت کمزور ہو رہی تھی۔ دل سے چاہتی تھی کہ جو کچھ بھی ہو ملک و قوم کے لئے بہتر ہو۔ سچی بات ہے ان ذلیل لیڈروں نے روس کی آن بان اور شان داؤ پر لگا دی تھی۔
پشکن دل کے اندر سے نکل کر ہونٹوں پر آ گیا تھا۔ ہر عہد اور ہر زمانے کا شاعر آنکھیں بھیگ رہی تھیں جب وہ اسے گنگنا رہی تھی۔
اپنی رگ رگ میں زندگی کی آگ باقی ہے
آبرو مندی کا دل میں راگ باقی ہے
تو اے دوست آؤ اور اپنی اس سر زمین کو چمن کر دیں
اپنے بے پایاں جذبوں کو وطن کی نذر کریں
وہ تارا جو ہر اک دل کو خوشی سے گھیر لیتا ہے
وہ تارا زندگی کے افق پر طلوع ہو گا
ہمارا روس جو مدت سے گہری نیند سوتا ہے
یکایک جاگ جائے گا جو اعلان صبح ہو گا
اس بوسیدہ نظام کے ٹوٹے ہوئے ایک ایک ٹکڑے پر
میرا اور تمہارا نام ہی زیب نظر ہو گا
میرا اور تمہارا نام ہی زیب نظر ہو گا
میرا اور تمہارا نام ہی زیب نظر ہو گا
(ظ انصاری)
پتہ نہیں ضبط کیوں جواب دے گیا تھا۔ آنسو اک تواتر سے بہنے لگے تھے۔ ناشتہ بنانے کے لئے کچن میں گئی۔ تو تب بھی ہونٹوں پر پشکن تھا۔
ناشتے کے بعد دونوں کام پر نکل گئے۔ اینا جلدی آ گئی۔ کھانا تیار کرنے کے دوران ہیثم بھی آ گیا تھا۔ وہ کچن میں تھی۔ وہیں اس کے پاس آ کر بولا۔
”اینا ابھی کوئی تبصرہ، کوئی حاشیہ آرائی، کوئی بیان، کچھ مت دینا۔ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اس مختصر سے احمقوں کے فوجی ٹولے نے بغیر کسی پلاننگ کے قدم اٹھا لیا ہے۔ یلسن تو صدارتی عمارت میں موجود اور توڑ جوڑ میں مصروف ہے۔
وہ چپ چاپ میز پر چیزیں رکھنے لگی۔ آج سارا دن اس نے جس صورت حال کا سامنا کیا وہ بے حد مایوس کن تھی۔ اس فوجی بغاوت کی قیادت وزیر دفاع یا زوف اور گیناڈی کر رہے تھے۔ اول درجے کے ان بیوقوفوں کی منصوبہ بندی بودی اور مخالفین کے ساتھ بے رحمی سے نمٹنے کی صلاحیت سے قطعی عاری تھی۔
روٹی اور ضروریات زندگی کے حصول میں الجھے ہوئے لوگوں کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ انہوں نے دونوں دھڑوں پر لعنت بھیجی تھی اور سڑکوں پر نکلنے کو پسند ہی نہیں کیا۔
اگلے چند دن بڑے کربناک تھے۔ جمہوریائیں ایک کے بعد ایک آزادی کا اعلان کرتی جا رہی تھیں۔
جس دن یوکرائن نے اعلان کیا۔ ہیثم کھانے کی میز پر بیٹھا ہی تھا۔ اس نے ڈونگے سے سوپ پیالے میں ڈالا اور سنجیدگی سے بولا۔
”جمہوریہ یوکرائن تو چلو پھر بھی روسی دباؤ کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتی ہے مگر یہ بقیہ جمہوریائیں جن کی معیشتیں ایک دوسری سے جڑی ہوئی ہیں روسی ہتھکنڈے اور جھٹکے برداشت نہیں کر پائیں گی۔ ذرا یلسن کے پاؤں جمنے کی دیر ہے تماشے دیکھنا پھر۔ ابھی چیچنیا کی طرف سے بھی اعلان متوقع ہے۔
فوجی بغاوت ناکام، گورباچوف کا بوریا بستر گول اور یلسن بیورو کریسی کے اس دھڑے کے مونڈھوں پر سوار جو کھلم کھلا سرما یہ داری کی بحالی کے لئے سرگرم تھا اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو گیا تھا۔
اور اس دن اینا نے کہا۔
”ہیثم تم ٹھیک کہتے تھے۔“
جس دن ٹی وی پر ایک اعلان دونوں نے ایک تسلسل کے ساتھ دیکھا اور سنا۔ ایک ٹیلیفون نمبر کہ ہر خاص و عام کی اطلاع کے لئے کہ فوجی بغاوت کا ساتھ دینے والے آپ کے ہمسائے یا واقف کاروں میں اگر کوئی ہے تو مطلع کریں۔
ہیثم نے اونچی آواز میں ہنستے ہوئے کہا۔
اینا ہم تو ہمیشہ سے حکومت کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ اب تیار ہو جاؤ۔ یا تمہیں پھانسی لگائیں گے یا مجھے۔
”پتہ نہیں کیسے چلے جا رہے ہیں اب تک۔“
مراجعت کے اس سفر کو جو اس کے حسابوں بڑے روشن دنوں سے شروع ہو کر دھند بھرے دنوں تک پھیلا ہوا تھا۔ اس نے اسے مضطرب اور بے قرار کر رکھا تھا۔
کریملن پر سوویت یونین کا جھنڈا اتار کر صرف روس کا جھنڈا لہرانے کے عمل کو دیکھنا لوگوں کے لئے مسرت او ر انبساط سے بھرا ہوا تھا۔ ریڈ سکوائر میں خلقت امنڈی پڑی تھی۔ لوگ دو انگلیاں لہراتے ہوئے وکٹری کا نشان بناتے تھے۔
فوجی بغاوت کی ناکامی پر مسرت و شاد مانی کا اظہار تھا۔ ہتھوڑا اور درانتی سرخ جھنڈے سے یوں کاٹ پھینکی گئی تھی جیسے وہ کسی تحریک کا سمبل نہیں کوئی اچھوت شے تھی۔ ہاں البتہ لینن گراڈ سے پیٹرزبرگ کی واپسی پسندیدہ تھی کہ جس نے تاریخ بنائی، اسے اس سے محروم کر دینا بھی زیادتی تھی۔
ہر گزرتے دن ایک نیا شوشہ جنم لیتا۔ ایک نیا روح فرسا منظر سامنے آتا۔ لتھوینیا کے کیپٹل سٹی ولینینس میں اس کے محبوب لیڈر لینن کے مجسمے کو ہٹائے جانے کا منظر کتنا دل خراش تھا۔ پر یہ بھی کتنا بڑا المیہ تھا کہ جنگ عظیم دوم کے جرنیل اپنے تمغوں کو سینوں پر سجائے ریڈ سکوائر میں کھڑے روٹی اور روبل کے طلب گار تھے۔
زار شاہی دور کی طرف واپسی کرتے ہوئے ستر اسی سالہ وقت کو منہا کرنے کی حماقتیں زور و شور سے جاری تھیں۔ زار شاہی کا زمانہ بہترین، آرتھوڈوکس چرچ ہمارا ایمان اور سٹیٹ ایگل امتیازی نشان بحال۔ بڑے ظالمانہ دن تھے۔

