سلطان راہی کی موت یا پاکستانی فلم انڈسٹری کی موت؟


کوئی مانے یا نہ مانے، سلطان راہی پاکستان فلم انڈسٹری کے لیے آکسیجن کی سی حیثیت رکھتا تھا۔ اسی لیے جونہی سلطان راہی گوجرانوالا میں اشتہاری ساجو کانے کے ہاتھوں جان سے گیا تو پاکستان فلم انڈسٹری کی گنی چنی سانسیں بھی بند ہو گئیں اور تب سے لے کر اب تک اس کے تن مردہ میں کوئی بھی روح نہ پھونک سکا ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ سارے فلمی مبصرین و ناقدین اس بات پر سو فی صد متفق ہیں کہ سلطان رہی میں اداکارانہ صلاحیتوں کا خاصا فقدان تھا اور اس کے چہرے کے تاثرات بھی اس کے مکالموں کا ساتھ نہ دے رہے ہوتے تھے۔ وہ سینکڑوں فلموں میں بطور ہیرو آیا اور اس کے ساتھ رقص کرنے والی ہیروئنیں انجمن، گوری، صائمہ وغیرہ رقص کرتے کرتے دیوانی ہوجاتی تھیں لیکن مجال ہے کہ سلطان راہی ان کے کسی بھی سٹیپ کا ساتھ دیتا ہوا کبھی نظر آیا ہو۔ وہ آواز بدلنے کی صلاحیت سے بھی عاری تھا جو کہ ایک اچھے اداکار کا خاصا ہوا کرتی ہے۔
اس کی پی آر بھی بالکل نہ تھی لیکن اس کے باوجود وہ سینکڑوں فلموں کا ہیرو بنا اور انتہائی کامیاب کہلایا، وہ باکس آفس کی جان تھا، بلاشبہ اس کی بیسیوں فلموں نے کھڑکی توڑ رش لیا اور اس کے ساتھ بے شمار کم عمر اور خوبصورت ترین اداکاراؤں نے کام کیا اور شہرت سمیٹی، صائمہ، ریما، مدیحہ شاہ، ریشم، صاحبہ، عندلیب، نرما، لاشانہ، روپ ناری، روبی نیازی اور کئی دوسری اداکارائیں سلطان راہی کے ساتھ کام کرنے کے لیے سفارشیں کروایا کرتی تھیں، ترسا کرتی تھیں اور جسے سلطان راہی کی سرپرستی حاصل ہوجاتی تھی اسے آسمان کی بلندیوں کو چھونے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اپنے وقت میں سلطان راہی ایک برانڈ بن چکا تھا، اس کی وجہ سے فلم انڈسٹری میں سرمایہ کرنے والوں نے بہت کمایا اور شہرت بھی پائی، ہاں یہ ضرور ہے کہ سلطان راہی کوئی آرٹ ٹائپ فلم نہ کر سکا کیونکہ یہ اس کے بس کا روگ بھی نہ تھا۔


کیونکہ سب اس بات سے واقف تھے اس لیے اس سے کسی نے ایسا بڑا اور منفرد کام لینے کی کوشش بھی نہ کی اور ہمسایہ ملک میں سلطان راہی کے کئی ساتھی کام کرنے پہنچے لیکن بے شمار فلمیں کرنے کے باوجود بھی سلطان راہی کو کسی نے اپنے ہاں آ کر کام کرنے کی دعوت نہ دی کیونکہ یہ بات سب کے علم میں تھی کہ سلطان راہی بس اوسط درجے کا اداکار تھا، وہ اصل میں اسٹنٹ مین تھا اور قسمت کی دیوی مہربان ہوئی تو ایک روز وہ اداکار بن گیا اور پھر وہ جانے کیسے ہر پنجابی فلم کی ضرورت بنتا ہی چلا گیا اور بلاشبہ اپنی موت تک وہ فلم انڈسٹری کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہا اور اس کے ساتھ بہت سے اداکاروں، اداکاراؤں، ہدایتکاروں، فلمسازوں، کوریو گرافروں، گلوکاروں، موسیقاروں، فلمی شاعروں اور مصنفوں کے ساتھ ساتھ ہنر مندوں اور ایکسٹرا کا بھی رزق وابستہ تھا۔


ان دنوں فلم انڈسٹری جوبن پر تھی اور ملک کے تقریباً سب ہی بڑے اخبارات میں خصوصی فلمی ایڈیشن شائع ہوا کرتے تھے، روزنامہ جنگ میں عاشق چودھری اور روزنامہ پاکستان میں طاہر سرور میر ان رنگین ایڈیشنوں میں رنگ بھرا کرتے تھے۔ فلمی رسائل بھی دھڑادھڑ نکلتے تھے اور ہاتھوں ہاتھ بکا کرتے تھے۔ فلموں پر تبصروں کے لیے اخبارات خصوصی جگہ رکھا کرتے تھے، ملک کے سب اخبارات میں پورے پورے صفحات ہر فلموں کے اشتہارات لگا کرتے تھے، سینماؤں میں رونق ہوا کرتی اور آس پاس کے ہوٹل بھی خوب کمائیاں کیا کرتے تھے، تانگے اور رکشے والے بھی اچھی دیہاڑیاں لگا کر گھروں کو خوش خوش پہنچتے تھے۔
فارغ وقت میں فلم تفریح کا ایک عمدہ اور خوبصورت ذریعہ تھی لیکن ایک سلطان راہی کیا گیا کہ سب ختم ہو گیا اور آج سینما اجڑ چکے اور ان کی جگہ شاپنگ پلازے، شادی ہالز اور پارکنگ اسٹینڈ بن گئے ہیں، فلمی ہنر مند فاقوں سے دوچار ہیں اور فلمی کہانی نویسوں، کوریوگرافروں، ہدایت کاروں، فلمسازوں اور موسیقاروں کے نام تک کسی کو یاد نہ رہے ہیں اور اچھے بھلے گلوکاروں کو بھی دال روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور یہ سب ایک سلطان راہی کی المناک موت کے بعد سے شروع ہوا اور آج تک ہو رہا ہے اور سب جانتے ہیں کہ بڑے بڑے ناموں والے فلم اسٹوڈیوز اب گودام بن چکے ہیں اور فلمی سرگرمیوں کے مرکز رائل پارک کی ویرانی دیکھ کر اب دل خون کے آنسو روتا ہے اور رہے حکمران تو انہیں فنون لطیفہ سے کبھی غرض تھی، نہ ہے اور نہ ہی ہو گی۔

Facebook Comments HS