بنوں میں عورت، علم اور استاد کی تذلیل
گزشتہ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک شرمناک ویڈیو گردش کر رہی ہے۔ اس ویڈیو میں ملاؤں کا ایک گروہ ایک ڈپٹی کمشنر کے روبرو ایک معلم سے زبردستی سرعام معافی منگوا رہا ہے۔ ملاؤں کے بیچ سہما ہوا استاد، اس بات کو حرف آخر تسلیم کر رہا ہے کہ عورت مرد کے مقابلے میں کم عقل ہے۔ اور وہ ان تمام افکار و خیالات اور جدید سائنسی تحقیق کو باطل سمجھتا ہے جو شریعت کی رو سے درست نہیں ہیں۔ جیسے ڈارون کا نظریہ ارتقاء وغیرہ۔
استاد کو یہ ذلت آمیز سزا کیوں دی گئی؟ بنوں کے ایک کالج میں بیالوجی کے معلم پروفیسر ڈاکٹر شیر علی نے گزشتہ دنوں بنوں میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا تھا جس کا موضوع : ’اسلام اور آئین میں عورت کے حقوق‘ تھا۔ جس پر وہاں کی مذہبی پیشوائیت پریشان ہو گئی۔ کیونکہ نافذ العمل اسلامی ذہنیت عورت کو انسان ہی تسلیم نہیں کرتی۔ چہ جائیکہ اس کے حقوق کی بات کی جائے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ پاکستانی عدالتوں میں عورت کی آدھی گواہی تسلیم کی جاتی ہے گویا ایک مکمل گواہی دینے کے لیے دو عورتوں کا ہونا ضروری ہے۔
جبکہ اسی عدالت میں ایک کتے کی پوری گواہی تسلیم کی جاتی ہے۔ کیونکہ سنفنگ ڈاگ (سونگھ کر بارود وغیرہ کی نشاندہی کرنے والا کتے) کی واقعاتی گواہی circumstantial evidence کے طور پر پوری مکمل گواہی تسلیم کی جاتی ہے۔ مختصراً یہ کہ پاکستان کی مذہبی ذہنیت آج بھی عورت کو، جس کی آبادی ملک میں 51 فی صد ہے، کمتر کمزور اور کم عقل سمجھتی ہے۔ شاید ان لوگوں کا شجرہ نسب ان عربوں سے ملتا ہو جو عورت کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیتے تھے۔
بنوں کا واقعہ ایک شرمناک کربناک اور انسانیت کی تذلیل کا قبیح مظہر تھا جس پر ہر ذی شعور انسان کا تڑپنا بنتا ہے۔ عورت استاد، علم اور انسانیت کی توہین کرنے میں بنوں کا ڈپٹی کمشنر بھی برابر کا شریک تھا کیونکہ اس کے دفتر میں پروفیسر شیر علی سے معافی نامے پر دستخط لیے گئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ :
کیا پاکستان میں افسر شاہی بھی ملاؤں کی طرح جاہل، شدت پسند اور قدامت پسند ہے؟
کیا پاکستان کا فیڈرل سروس کمیشن جو سرکاری افسر پیدا کر رہا ہے وہ بھی رٹا لگانے والے طوطے اور شاہ دولے کے چوہے ہیں؟
کیا ہم آج بھی دور جاہلیت میں زندہ ہیں؟
کیا پاکستان میں سائنسی تعلیم، جدید تحقیق اور علوم حاصل کرنے پر پابندی لگا دینی چاہیے؟ کیا حکومت پاکستان مذہبی پیشوائیت کے آگے بے بس ہے یا الیکشن میں ووٹ کم ہو جانے سے ڈرتی ہے؟
یورپ میں نشاۃ ثانیہ کی تکمیل سے قبل مذہبی پیشوائیت کا سکہ چلتا تھا جس کو تاریخ نے سیاہ دور (یا ڈارک ایج ) کے نام سے یاد رکھا ہوا ہے۔ 1859 ء میں چارلس ڈارون نے جب نظریہ ارتقا پر اپنی کتاب : ”Origin of Species“ چھپوائی تو اس وقت کی عیسائی مذہبی پیشوائیت بھی تڑپ اٹھی تھی۔ ڈارون بذات خود قدرے شرمیلے تھے وہ بطور سائنسدان اپنے کام سے کام رکھتے اور کسی مناظرے میں حصہ نہیں لیتے تھے اور نہ ہی مذہبی پیشوائیت سے الجھنا چاہتے تھے۔
اسی لیے اپنی کتاب جو انہوں نے 1844ء میں مکمل کر لی تھی، پندرہ سال تاخیر سے 1859ء میں چھپوائی۔ اس کتاب کے چھپنے کے بعد یورپ میں دو فکری گروہ بن گئے : پہلا ارتقائی گروہ تھا جس کا ماننا تھا کہ زمین پر زندگی ارتقائی عمل سے وجود میں آئی اور اسی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ جب کہ دوسرا مذہبی گروہ تھا۔ جس کا ماننا تھا کہ زندگی خالق کائنات نے پیدا کی ہے اور اسی کے حکم سے آگے بڑھ رہی ہے۔ دونوں گروہوں کے درمیان گرما گرم مباحث ہونے لگے۔
ان مناظروں میں ڈارون کا دفاع ان کے پیروکار کرتے جبکہ ان کے مخالفین مذہبی اور سائنسی دلیلوں سے ان کے نظریے کو رد کرتے۔ ایک واقعہ قابل ذکر ہے، جس میں ارتقا کے حامیوں کی نمائندگی پروفیسر ہکسلے کر رہے تھے جبکہ مذہبی گروہ کی نمائندگی عیسائی پادری، آکسفورڈ کے ”بشپ سیموئل ولبر فورس“ کر رہے تھے۔ جب بحث و تکرار کا درجہ حرارت بلند ہوا تو عیسائی پادری نے کہا:
”میں پروفیسر ہکسلے سے بندر کی اولاد ہونے کے حوالے سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ میرا سوال سن کر وہ مجھے چیر پھاڑ دیں گے۔ مگر میں پھر بھی پوچھوں گا کہ کیا ان کی بندر کی نسل ماں کی طرف سے آئی ہے یا ان کے باپ کی طرف سے؟“ اس سوال پر، پروفیسر ہکسلے غصہ کرنے کی بجائے مسکرائے اور نہایت تحمل سے جواب دیا :
” مجھے اس بات پر کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ میں بندر کی اولاد ہوں۔ ہاں مجھے شرم ضرور محسوس ہوتی اگر میرا جنم کسی ایسے شخص کے ہاں ہوا ہوتا جو تہذیب اور فصاحت کی آڑ میں جھوٹ اور تعصب کا کاروبار کرتا ہے۔“
پروفیسر شیر علی سمیت کوئی بھی معلم یہ نہیں کہتا کہ ڈارون کے نظریہ ارتقا پر ایمان لاؤ۔ سائنس اور مذہب دو علیحٰدہ علیحٰدہ میدان ہیں۔ مذہب کی عمارت منجمد، غیر متزلزل اور صدیوں پرانے اندھے اعتقادات پر کھڑی ہے۔ جبکہ سائنس تحقیق، جستجو اور کھوج لگانے کی ترغیب دیتی ہے اور سوال کرنے کو لازمی سمجھتی ہے۔ مذہب کی عینک پہن کر سائنسی علوم کی توجیہ نہیں کی جا سکتی اور نہ سائنس کو مذہبی اعتقادات سے الجھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں کو آپس میں گڈ مڈ نہیں کیا جا سکتا۔ جب بھی ایسا کیا جائے گا، وہیں پر تنازع کھڑا ہو جائے گا۔
مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارے پہلی جماعت سے لے کر ہائی اسکول کے نصاب میں ہر مضمون میں مذہب اور سائنس کو بالمقابل لا کر سائنسی تحقیق کو غلط ثابت کیا گیا ہے۔ پاکستانی نصاب کی بارہویں جماعت کی بیالوجی کی کتاب کے باب نمبر 4، صفحہ نمبر 287۔ 288 پر نظریہ ارتقاء کے حوالے سے چند سطور کا ترجمہ پیش خدمت ہے :
” زندہ خلیات کی پیدائش سے متعلق حقائق: انیسویں صدی میں چارلس ڈارون کا پیش کردہ نظریہ ارتقا تاریخ کا سب سے ناقابل یقین اور غیر منطقی دعویٰ ہے۔ ہر ذی شعور انسان جو ذرا سی بھی عقل رکھتا ہے سمجھ سکتا ہے کہ تمام زندہ مخلوقات کسی حادثے کی پیداوار نہیں ہیں۔ ہر ذہین، غیر متعصب انسان جو ذرا سا بھی شعور رکھتا ہے یہ جانتا ہے کہ تمام زندہ اشیا اللہ نے اپنی بے مثال طاقت سے پیدا کی ہیں۔“
پاکستان کے با شعور درد انسانیت رکھنے والے علم دوست افراد سے التماس ہے کہ بنوں واقعہ کی شدید مذمت کرنے کے لیے احتجاج کریں۔ انسانی حقوق، سول سوسائٹی اور حقوق نسواں کی علمبردار تنظیمیں اس واقعے پر احتجاج کریں۔ ایسے مواقع پر نہ جانے ہمارے لبرل، سیکولر اور انسان دوست افراد کو سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے؟
اگر ملک پاکستان نے جہالت کے اندھیروں سے نکل کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں قدم رکھنا ہے تو سائنسی علوم کو خالص سائنس کے طور پر نصاب میں شامل کرنا ہو گا۔ مذہبی پیشوائیت کا زور کم کرنے کے لیے بھی سائنسی علوم کی ترویج لازم ہے۔


