شاہد مسعود: گہر کیا ہے صدف کی داستاں ہے


کچھ روز ہوتے ہیں کہ شاہد مسعود کے بارے میں ایک پوسٹ پر میں نے لکھا تھا کہ شاہد مسعود ایک چھٹا ہوا بد معاش ہے جس نے اپنی ساری زندگی شرافت اور خاموشی میں بسر کر دی۔ میرے تبصرے پر وہ اب تک چپ ہے۔ میرا پہلا خیال یہ تھا کہ ممکن ہے کہ وہ مجھے خود سے زیادہ چھٹا ہوا بدمعاش سمجھتا ہو اور اس نے جوابی حملے کی بجائے خاموشی کی بکل مارنے کو ترجیح دی ہو۔ لیکن پھر خیال آیا کہ شاہد نے ڈرنا تو سیکھا ہی نہیں۔ پنجابی محاورے کے مطابق اوہ ڈرن والے دن جمیا ای نہیں سی۔ (وہ خوف کے دن پیدا ہی نہیں ہوا۔ ) شاہد کی بے خوفی سے متعلق میرے اس خیال دگر (second thought) نے اب مجھے اس خوف میں مبتلا کر رکھا ہے کہ جانے کس وقت شاہد مسعود یہ جوابی حملہ کرنے کا فیصلہ کر لے۔ میرا خوف اس حقیقت کے ساتھ بندھا ہوا ہے کہ شاہد مسعود اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کے لئے وقت کا انتخاب خود کرتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے اس نے ایک عمر گزارنے کے بعد اپنی کتاب شائع کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ یہ شعری مجموعہ وہ آج سے تیس برس پہلے بھی شائع کر سکتا تھا

اس دل زدہ کی داستان تو آپ نے سن رکھی ہو گی جو شادی کے بعد شکوہ کناں تھا کہ ہم مردوں کی بھی کیا قسمت ہے۔ آدمی کو کسی لڑکی کے چہرہ پر ایک تل پسند آ جاتا ہے اور شادی اسے پوری لڑکی سے کرنی پڑتی ہے۔ اردو غزل کے قارئین کا المیہ بھی اس سے کچھ ملتا جلتا ہے، ایک اچھے شعر کی تلاش میں غزلے، دو غزلے اور سہ غزلے تک برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ شاہد مسعود کی شاعری کا اس مجموعے میں کوئی غزل شامل نہیں۔ یہ مجموعہ، سراسر منتخب اوردل میں اتر کر قبول عام کا درجہ پانے کا اثر رکھنے والے، فرد فرد شعروں پر مشتمل ہے۔ اس طرح اس نے اردو شاعری کے قارئین کو ایک بڑی صعوبت سے بچا لیا ہے۔

اس مجموعے میں شامل شاہد مسعود کا ہر شعر قاری کو اپنی طرف کھینچ کر، کچھ دیر کے لئے، اسے کسی اور دنیا میں لے جاتا ہے۔ حیرت اور انبساط کی دنیا جسے ناقدین کی طرف سے اردو غزل کے عمدہ اور زندہ رہ جانے والے اشعار کی اقلیم قرار دیا گیا ہے۔ میں نے شاہد کی زندگی کی طرح اس کی شاعری کے سفر کو بھی قریب سے دیکھا ہے۔ اس نے پچھلے دنوں اپنی زندگی کی روداد رقم کرنے کا آغاز کیا تھا۔ اب اس کی شاعری کی کتاب کو دیکھتا ہوں تو مجھے یہ شاعری اسی روداد کی توسیع معلوم ہوتی ہے۔ یعنی بقول غالب

جو واں نہ کھنچ سکے، وہ یہاں آ کے دم ہوئے

ویسے شاہد مسعود نے یہ بات خود بھی ایک شعر میں کہہ رکھی ہے۔ دوسرا مصرع تو ایسا کہ اس پہ کئی غزلیں قربان کی جا سکتی ہیں

ادب سارا ہے شاہد خود گزشتی
گہر کیا ہے، صدف کی داستاں ہے

ہمارے عہد کے ایک بڑے شاعر اور ادیب سرمد صہبائی نے شاہد کے فرد فرد شعروں کے اس مجموعے کو ایک طویل غزل قرار دیا ہے۔ ادھر میں اس کتاب پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے اس کے بہت سے اشعار اپنی جگہ ایک مختصر نظم کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں اب دیکھئے جب شاہد یہ کہتا ہے کہ

اس کے استقبال کو شاہد سجا رکھا ہے گھر
ہم نے اسٹیشن پہ شب کاٹی تھی جس کے شہر میں

تو شعر کے ان دو مصرعوں میں ایک تو بظاہر ماضی کی اس شب کا ذکر ہے جو شاعر کو کسی کے شہر میں سٹیشن پہ کاٹنا پڑی اور دوسرے طرف زمانہ حال میں اس گھر کا جسے اسی ”کسی“ کے انتظار میں سجایا جا رہا ہے۔ لیکن شعر کا کمال یہ ہے کہ اس میں قاری کے لئے ان دونوں زمانوں سے متصل زمانوں میں جھانکنے اور ان کے احوال سے اپنی اپنی سوچ کے مطابق آگاہ ہونے کا تمام تر سامان موجود ہے۔ منظر نامے کی یہی وہ وسعت ہے جسے میں غزل کے اشعار کی بجائے نظم سے مخصوص سمجھتا ہوں۔ شاہد کے اس مجموعہ کلام میں اس طرح کی مثالیں آپ کو قدم قدم پر ملیں گی۔

”وقتاً فوقتاً“ کے نام سے شاہد کے اس شعری مجموعے میں شامل اشعار، سہل ممتنع میں ہونے کے باوجود، اپنے دامن میں تہ در تہ معانی کا ایک جہاں لئے ہوئے ہیں۔ یہ وہ شاعری نہیں جسے قاری ایک بار پڑھ لینے کے بعد اس کے اندرون سے پوری طرح واقف ہونے کا دعوی کر سکے۔ یہ شاعری اپنے شاعر کی شخصیت کی طرح، اپنے ہمہ گیر امکانات کا انکشاف کرتی ہے مگر آہستہ آہستہ۔ جدید غزل میں شہر کراچی کی پہچان بن جانے والے شاعر کاشف حسین غائر نے تو یہ کہہ کر گویا میرے منہ سے لفظ چھین لئے کہ ”جیسے اگر اچھی بنی ہوئی چائے کی پیالی میسر آ جائے تو آدمی اسے چسکیاں لے کر پیتا ہے۔ ایسے ہی میں یہ کتاب پڑھ رہا ہوں۔ ابھی کوئی ستر اسی صفحات ہی پڑھے ہیں“

میں یہاں ان لوگوں کے احساس محرومی میں اضافے کے لئے جنہوں نے اب تک یہ کتاب نہیں پڑھی، شاہد مسعود کے کچھ شعر نقل کرنا چاہتا تھا مگر مشکل یہ آ پڑی ہے کہ اس کا کون سا شعر چنا جائے اور کس شعر کو اس انتخاب میں شامل نہ کیا جائے۔ بقول ایم ڈی تاثیر،

شکار ماہ کہ تسخیر آفتاب کروں
میں کس کو ترک کروں، کس کا انتخاب کروں

شاہد مسعود

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments