کیا زیادتی کا مداوا ایک اور زیادتی ہو سکتی ہے
اگر ہم اپنی محرومیوں کی پوٹلیوں کو زَادِ راہ نہ سمجھتے تو یقیناً ہمارا سفر منزل کی جانب کسی اور اسلوب سے ہوتا۔ صحرا نوردی کا شوق ہمیں لہو گرمانے کو حرارت تو میسر کرتا رہا مگر ساتھ ہی ہم اس صحرائے سینا کو پاٹ کر منزل تک پہنچنے میں ناکام بھی رہے۔ محض چلنے کو سفر کو نام دے کر ہم نے کیا کمائی کی اور ہمارا مستقبل اس کمائی سے کس سمت کا تعین کرے گا آج یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
ریاست اور ریاستی اداروں کے احترام اور ان پر عوام کے اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہو اور اس حکمرانی کے لئے ضروری ہے کہ، آزادانہ و منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔ اس عمل کے لئے ریاستی اداروں کو شفافیت کو اپنا کر کسی گروہ یا جماعت کے ہرکارے بننے سے ہمیشہ کے لیے خود کو دور رکھنا لازم ہوتا ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ عوام کے دلوں میں ریاستی اداروں کی اخلاقی برتری اور عوامی اعتماد قائم رہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ریاستی اداروں میں مطلق طاقت کے حصول اور استعمال کے لئے جاری رسہ کشی ریاست کی بنیادیں ہلا گئی ہے۔ عدلیہ، انتظامیہ، اسٹیبلشمنٹ، خود کو سیاست سے دور رکھنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ اس گھمسان میں جو نقصان ہوا وہ ریاست کہ تھا۔ عوام کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات سے بالا اختیارات کا حصول اور استعمال ان ریاستی اداروں کے لیے عوامی عدم اعتماد کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ اس ریاستی بحران کی وجہ نہایت سادہ ہے اور وہ یہ کہ ریاستی اداروں نے عجیب کلیہ اپنا لیا ہے، وہ کلیہ ہے ”زیادتی کا مداوا ایک اور زیادتی“ ۔ حالیہ دنوں میں جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے اُسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ریاستی ادارے اپنی طولانی کج ادائیوں کو، تازہ انصاف کی بنیادی شکل میں بدلنے کے خواہاں ہیں۔ 2017 / 18 کی زیادتیوں کا مداوا اب نئی سٹیج سجا کر کیا جا رہا ہے البتہ کرداروں کو بدلنے کا خرچہ بچا لیا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی پر ’میاں دے نعرے وجن گے‘ جیسے نعروں کی گونج زوروں سے سنائی دی۔ ساتھ ہی ساتھ ریاستی مشینری بھی اس گونج کو ہوا دینے میں سرگرم رہی۔ ہاتھوں کی لگائی ہوئی گانٹھوں کو دانتوں سے کھولنے کا عمل تضحیک آمیز تو ہو سکتا ہے مگر گانٹھ لگانے والوں کا مبلغ مشغلہ ہی یہی ہو تو اس کا کیا کیا جائے! جس نواز شریف کو وائرس سمجھ کر حکومت سے الگ کیا گیا اور جس کی بدعنوانی کے شر سے بچنے کے لیے عوام کو بیس منٹ تک ہاتھ دھونے کا سماجی پیغام ریاست نے خود جاری کیا تھا، آج اُسی نواز شریف کے لئے یہی ریاستی ادارے بالیں سجائے بیٹھے ہیں مگر کیوں؟ جن عدالتوں سے سابق وزیرِ اعظم کو گارڈ فادر جیسے لفظی تازیانے بطور تبرک دیے جاتے تھے آج وہی عدالتیں نواز شریف کی بلائیں لینے کو اس قدر بیتاب کیوں؟ شاید وجہ یہی ہے کہ طاقت کے اس بے مہر کھیل میں طاقت کے ایوانوں کا واحد شغل گانٹھیں لگانا اور وقت گزاری کے لئے گانٹھیں کھولنا ہی ہے۔
جب کبھی دل میں یہ وہم جگہ لیتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اب مزید تنزلی مول نہیں لیں گے اور اب یقیناً سنجیدگی ضرور اُدھار لی جائے گی تب ہی ہر طور سے ایسی لا ابالی دیکھنے میں ملتی ہے کہ لفظ اُمید سے بھی جی بیزار ہونے لگتا ہے۔
جس طور سے ریاستی ادارے نواز شریف کو دوبارہ لانچ کرنے کے لیے دیگر نمائندہ جماعتوں کو دیوار سے لگا رہے ہیں اسے ابتر منیجمنٹ ہی کہا جا سکتا ہے۔ اور جس طرح نواز شریف کو تمام ملکی بدحالیوں اور بیماریوں کی رفو گری، اور اکسیر بنا کر پیش کیا جا رہا یہ بھی انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ پاکستان کو تجربہ گاہ میں بدلنے والوں نے عوامی مینڈیٹ کو ہمیشہ جوتے کی نوک پر رکھا ہے۔ الیکشن کا غوغا تو ہمیشہ سنا جاتا ہے مگر کون آئے گا، کیوں آئے گا، اور کب تک رہے گا، کا فیصلہ کوئی اور ہی کرتا آیا ہے۔ ماضی میں آنکھ کا تارا رہنے والا (کپتان ) سٹیج سیٹ کرنے والوں کی آنکھوں کا شہتیر اور بارہواں کھلاڑی بن گیا ہے۔ عوام کس کو لائیں، کس کو تخت دیں، کس سے تخت چھین لیں، یہ حق اب عوام کا نہیں رہا۔ الیکشن سے پہلے ہی سلیکشن مقتدرہ کا سادہ سا فارمولہ بن گیا ہے۔
سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے بھی سیاست سے اگر کچھ سیکھا ہے تو وہ ہے ذاتی مفاہمت، اپنی گدی کے لیے زور آور کے آگے زیر ہو کر خود اقتدار تک پہنچنا۔ سیاست کو اصولی بنیادوں پر کرنے کا موقع جب بھی سیاست دانوں کو ملا اُنہوں نے خود کو غیر سیاسی قوتوں کا لے پالک اور لاڈلا بن جاننا زیادہ عزیز جانا۔ سیاسی مفاہمت کو پیچھے چھوڑ کر سیاست دان ہمیشہ جوڑ توڑ کرنے والوں کے آڑھتی بننے کو ترجیح دیتے رہے۔ سابق وزیرِ اعظم جہاں مغلیہ طرز کا جلسہ کرنے میں کامیاب رہے وہیں ملکی خراب معیشت اور سیکیورٹی خطرات جیسے مسائل کے حل کے لیے کوئی پالیسی بتانے سے قاصر رہے۔ کہنے کو انہوں نے بدلہ نہ لینے کی گردان سنائی مگر عملاً وہ عمران خان کو انتخابات کی دوڑ سے دور رکھ کر خود ہی تن تنہا چوائس بن کر رہنا چاہتے ہیں۔ اس تمام تر کھیل میں جو نقصان ہو رہا ہے وہ ریاست کا ہے، باقی ہاتھوں سے گانٹھیں لگانے والوں کا کیا ہے ان کے شوق سلامت رہیں


